Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / انتخابی نتائج کے ساتھ ہی برقی شرحوں میں بے تحاشہ اضافہ کا امکان

انتخابی نتائج کے ساتھ ہی برقی شرحوں میں بے تحاشہ اضافہ کا امکان

تلنگانہ اور سیما ۔ آندھرا کی نئی حکومتوں کی کڑی آزمائش اضافہ سے انکار کی صورت میں دہلی جیسی صورتحال ممکن

تلنگانہ اور سیما ۔ آندھرا کی نئی حکومتوں کی کڑی آزمائش
اضافہ سے انکار کی صورت میں دہلی جیسی صورتحال ممکن
حیدرآباد ۔ 8 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : نئی ریاست تلنگانہ اور سیما ۔ آندھرا میں عوام 16 مئی کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں وہ یہ جاننے کے لیے بے چین ہیں کہ ان دونوں ریاستوں میں کونسی جماعت ، کونسا اتحاد برسر اقتدار آئے گا ؟ کس کو کامیابی ملے گی اور کس کی ہار ہوگی ، ساتھ ہی لوک سبھا حلقوں کے نتائج کیا ہوں گے ؟ انتخابی نتائج کچھ بھی ہوں لیکن ان نتائج کے فوری بعد عوام کو ایک شاک لگنے والا ہے اور یہ شاک برقی سربراہ کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے دیا جائے گا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نتائج کے اندرون چند گھنٹے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں برقی شرحوں میں بے تحاشہ اضافہ کا اعلان کرنے کی تیاریاں کرچکی ہیں ۔ بتایا جارہا ہے کہ 16 مئی کو نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی برقی کی پیداوار اور اس کی سربراہی عمل میں لانے والی کمپنیاں صارفین پر برقی شرحوں میں اضافہ کے لیے مزید 6500 کروڑ روپئے کا بوجھ عائد کرنے والی ہیں اور یہ اضافہ آندھرا پردیش الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن کے حکم کے مطابق برائے سال 2014-15 کیا جائے گا ۔ اے پی ای آر سی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ اضافی بوجھ سے تمام زمرہ جات کے صارفین متاثر ہوں گے ۔ اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ برقی شرحوں میں مختلف زمروں کے لحاظ سے 34 اور 90 فیصد کے درمیان اضافہ ہوگا ۔ اے پی ای آر سی کے ذرائع کے مطابق 16 مئی کو نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی انتخابی ضابطہ اخلاق ختم ہوجائے گا ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ آندھرا پردیش الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن کے اعلیٰ عہدیداروں نے برقی شرح میں اضافہ سے متعلق تجویز کو قطعیت دے دی ہے اور سردست وہ اس کی گورنر ای ایس ایل نرسمہن کی جانب سے منظور کئے جانے کے منتظر ہیں ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اے پی ای آر سی اپنے قواعد کے مطابق یکم اپریل کو ہی برقی شرح پر نظر ثانی کرنے والا تھا لیکن انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے نتیجہ میں اسے اپنا فیصلہ 16 مئی تک موخر کرنا پڑا ۔ اے پی ای آر سی کے ایک عہدیدار کے مطابق 16 مئی کے بعد برقی شرحوں میں اضافہ کا کسی بھی وقت اعلان کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ دونوں ریاستوں میں جو بھی پارٹی حکومت تشکیل دے گی اسے نظر ثانی شدہ برقی شرحوں کا نہ صرف نفاذ کرنا پڑے گا ۔ بلکہ اس پر عمل آوری کو یقینی بھی بنانا ہوگا ورنہ تلنگانہ اور سیما ۔ آندھرا میں دہلی کی طرح صورتحال پیدا ہوسکتی ہے جہاں ، نئی ریاستی حکومت کی جانب سے برقی شرحوں میں کمی کئے جانے پر برقی پیداوار کرنے والی کمپنیوں نے ایک بحران پیدا کردیا تھا ۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ نئی حکومتیں برقی شرح پر سبسیڈی کا خود فیصلہ کرسکتی ہیں لیکن ایک بات ضرور ہے کہ جو بھی پارٹی حکومت بنائے گی اسے عوام کو نئی برقی شرحوں کے بوجھ سے بچانا ہوگا ۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ برقی کی پیداوار اور سربراہی کرنے والی کمپنیوں نے چیف الکٹورل آفیسر بھنورلال کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس ضمن میں وضاحت طلب کی تھی تاہم چیف اگزیکٹیو آفیسر کے مشورہ پر برقی شرح بڑھانے سے متعلق احکامات سے دستبرداری اختیار کی ۔ برقی سربراہ کرنے والی چار کمپنیوں نے مالی سال 2014-15 کے دوران صارفین سے 9320 کروڑ روپئے وصول کرنے کی تجویز تیار کی ہے ۔ برقی کمپنیوں نے اس مالی سال کے لیے مصارف کا تخمینہ 52754 کروڑ روپئے لگایا ہے اور موجودہ شرح کے حساب سے انہیں صرف 36,345 کروڑ روپئے کی آمدنی حاصل ہوگی ان حالات میں برقی کمپنیوں کو 16409 کروڑ روپئے کا خسارہ ہونے والا ہے ۔ دوسری طرف حکومت نے اپنے عبوری بجٹ میں 7089 کروڑ کی سبسیڈی کی تجویز پیش کی ہے جس پر اے پی ای آر سی نے مابقی 9320 کروڑ روپئے کے خسارہ کی پابجائی کے لیے برقی شرحوں پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا ۔ تاہم ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نے 2820 کروڑ کی ایک اور اضافی سبسیڈی کا پیشکش کیا ہے اس طرح 6500کروڑ روپئے کے خسارہ کی پابجائی کی خاطر ای آر سی نے نظر ثانی شدہ برقی شرح تیار کرلی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT