Friday , September 21 2018
Home / سیاسیات / انتخابی وعدوں کی تکمیل میں مودی حکومت یکسر ناکام

انتخابی وعدوں کی تکمیل میں مودی حکومت یکسر ناکام

پٹنہ 19 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) جنتادل (متحدہ) کے سینئرلیڈر نتیش کمار نے آج پارلیمنٹ میںجاریہ تعطل کیلئے بی جے پی کو مورد الزام ٹہرایا اور وزیر اعظم نریندر مودی کو مشورہ دیا کہ بعض متنازعہ مسائل پر جس سے ملک کے سیکولر تانے بانے کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے لب کشائی کرتے تو ان کا قد مزید بلند ہوجاتا۔ انہوں نے وزیر اعظم کو دیئے گئے مشورہ میں کہا ک

پٹنہ 19 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) جنتادل (متحدہ) کے سینئرلیڈر نتیش کمار نے آج پارلیمنٹ میںجاریہ تعطل کیلئے بی جے پی کو مورد الزام ٹہرایا اور وزیر اعظم نریندر مودی کو مشورہ دیا کہ بعض متنازعہ مسائل پر جس سے ملک کے سیکولر تانے بانے کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے لب کشائی کرتے تو ان کا قد مزید بلند ہوجاتا۔ انہوں نے وزیر اعظم کو دیئے گئے مشورہ میں کہا کہ اگر دو الفاظ بولیں گے تو آپ کا قد اور بڑھ جائے گا ۔ نتیش کمار نے وزیر اعظم سے کہا کہ بی جے پی لیڈروں کی جانب سے تبدیلی مذہب پر غیر ذمہ دارانہ نفرت انگیز بیانات اور ناتھو رام گوڑے کی ستائش کے تنازعہ پر لب کشائی کو وقار کا مسئلہ نہ بنائیں اور اپنی مخالفت کا واضح اعلان کریں ۔ راجیہ سبھا میں اج مسلسل پانچویں دن بھی کارروائی مفلوج ہوجانے پر انہو ںنے اپوزیشن کے موقف کو حق بجانب قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ حکمران جماعت کے ارکان جاریہ تعطل کو ختم کرنے کیلئے کوئی پہل نہیں کررہے ہیں۔ جنتادل متحدہ لیڈر نے کہا کہ اپوزیشن کو یہ اختیار حاصل ہیکہ ملک میں سیکولرازم کے تحفظ کے مسئلہ پر وزیر اعظم سے بیان دینے کا مطالبہ کریں ۔مسٹر نتیش کمار جن کی پارٹی (جنتادل متحدہ) راجیہ سبھا میں اپوزیشن اتحاد کی ایک حلیف جماعت ہے آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی کو بلا رکاوٹ چلانے کی ذمہ داری حکمران جماعت پر عائد ہوتی ہے اور جاریہ تعطل ختم کرنے کیلئے اسے پیشرفت کرنے ہوگا ۔ بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نتیش کمار نے کہا کہ تبدیلی مذہب کا مسئلہ اٹھانا ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے تا کہ انتخابی وعدوں بالخصوص بیرونی ممالک سے کالا دھن واپس لانے، کسانوں کے مسائل کی یکسوئی اور نوجوانوں کو فراہمی روزگار کی تکمیل میں ناکامی سے عوام کی توجہ ہٹائی جائے انہوں نے بتایا کہ نریندر مودی اقتدار میں آکر 7 ماہ گذر گئے اور انتخابات کے موقع پر عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کیلئے ایک بھی کارنامہ انجام نہیں دیا اور اب عوام حکومت سے بد ظن ہوتے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تبدیلی مذہب اور ناتھور رام گوڑے کی ستائشی جیسے متنازعہ مسائل کو اٹھانا بی جے پی کی توجہ ہٹاو حکمت عملی کا حصہ ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ بلیک منی، کسانوں کیلئے مالی امداد، بہار کیلئے خصوصی درجہ، نوجوانوں کیلئے فراہمی روزگار اور دیگر وعدوں کی تکمیل میں حکومت کی ناکامی کو اجاگر کرنے کیلئے سابق جنتا پریوار سے وابستہ 6 پارٹیوں کی جانب سے نئی دہلی میں 22 ڈسمبر کو مہا دھرنا دیا جائے گا ۔ ایک سوال کے جواب میں نتیش کمار نے بتایا کہ جنتا پریوار میں انضمام کی کوششوں پر مذاکرات مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور انضمام کے طریقہ کار کو قطعیت دینے کیلئے سماجوادی پارٹی سربراہ ملائم سنگھ کو اختیارات تفویض کئے گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT