انتشار ، زوال اُمت کا اہم سبب ، اتحاد ناگزیر

جگتیال ۔ 9 فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) جماعت اسلامی ہند جگتیال کی جانب سے جامع مسجد جگتیال میں ایک عظیم الشان جلسہ عام بعنوان ’’قومی و بین الاقوامی حالات اور امت مسلمہ کی ذمہ داریاں ‘‘ منعقد ہوا ۔ جلسہ کا آغاز حافظ محمد جنید حفیظ ریجنل سکریٹری ایس آئی او حلقہ تلنگانہ کی تلاوت و ترجمانی کے ذریعہ ہوا ۔ مولانا محمد مشتاق احمد قاسمی نے ن

جگتیال ۔ 9 فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) جماعت اسلامی ہند جگتیال کی جانب سے جامع مسجد جگتیال میں ایک عظیم الشان جلسہ عام بعنوان ’’قومی و بین الاقوامی حالات اور امت مسلمہ کی ذمہ داریاں ‘‘ منعقد ہوا ۔ جلسہ کا آغاز حافظ محمد جنید حفیظ ریجنل سکریٹری ایس آئی او حلقہ تلنگانہ کی تلاوت و ترجمانی کے ذریعہ ہوا ۔ مولانا محمد مشتاق احمد قاسمی نے نعت شریف سنائی ۔ اس موقع پر مہمان مقرر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ناظم المعہد العالی الاسلامی و سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج زوالِ امت کا سب سے بڑا سبب انتشارِ امت ہے ۔ اسلام میں اختلاف کی گنجائش ہے لیکن انتشار فتنہ ہے ۔ اختلاف تو صحابہؓ کے درمیان بھی تھا لیکن وہ کبھی انتشار کا شکار نہیں ہوئے ۔ آج مسلمانوں نے مذہب کی دعوت کو چھوڑ کر مسلک کی دعوت دینی شروع کردی ہے ۔ دعوت مذہب کی ہونی چاہئیے ، مسلک کی نہیں ۔ مسلکی فروعی تنازعات کو ختم کرکے ملک کے موجود حالات میں مسلمانوں کو اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں جدید و عصری تعلیم دینی ماحول میں فراہم کریں ۔ اپنی بچیوں اور خواتین کی دینی تربیت کا انتظام کریں ۔ جلسہ کی کارروائی شیخ اسحاق علی معاون ناظم ضلع کریم نگر نے چلائی ۔ قبل ازیں جناب محمد شعیب الحق طالب امیر مقامی جماعت اسلامی ہند جگتیال نے افتتاحی کلمات ادا کئے اور جلسہ عام کے انعقاد کی غرض و غایت بیان کی ۔ اس کے بعد جلسہ عام کے مہمان مقرر جناب محمد عبدالعزیز سکریٹری شعبہ اسلامی معاشرہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ نے جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک ہندوستان کی پوری ایک تاریخ رہی ہے کہ یہاں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے اقتدار و حکمرانی عطا کی تھی ، ہندوستان کے کئی علاقوں پر ایک عرصہ دراز تک مسلم حکمرانوں نے حکومت کی ، چاہے خاندان غلامان کے بادشاہ ہوں یا آصفجاہی سلطنت کی حکومت ہو لیکن ان حکمرانوں نے وہ کام نہیں کیا جو کہ کرنا چاہئیے تھا ۔ اسپین جیسی سلطنت پر ہم نے ایک عرصہ تک حکومت کی ترکی مسلمانوں کی حکمرانی و روم و ایران جیسی سلطنت بھی اہل ایمان کے دم سے قائم تھیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمان ہمیشہ اقلیت میں ہی رہے یعنی تھوڑے ہی رہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو حکومت و اقتدار بخشا کیونکہ وہ دولت ایمانی سے مالا مال تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اسی عظمت رفتہ اور وقار کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اپنے فرض منصبی کو ادا کرنا ہوگا اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا ۔ مہمان مقرر مولانا عمر عابدین قاسمی مدنی استاذِ حدیث المعہد العالی الاسلامی مقرر ای ٹی وی اردو نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمارا اصل میدانِ کار دعوتِ دین ہے ۔ آج دنیا حق کی پیاسی ہے ۔ دنیا حق کی متلاشی ہے اور حق کو پانے کے لئے دربدر بھٹک رہی ہے اور ہم انسانیت تک پیغام حق کو پہنچانے میں کوتاہی کررہے ہیں اس سے غفلت برت رہے ہیں ۔ آج دین کا سب سے بڑا کام اور دین کی سب سے بڑی خدمت یہی ہے کہ ہم غیر مسلموں میں دعوتِ دین کا کام کریں ۔ ہم خود دین اسلام پر عمل پیرا ہوں اور نیک کام کریں اور اس دین کو بندگانِ خدا تک پہنچائیں ، دعوتِ دین کے لئے جدید وسائل و ذرائع کا استعمال کریں ۔ ایک ایک مسلمان پانچ غیر مسلموں تک اسلام کی دعوت کو پہنچائے ، جناب اقبال احمد انجنیئر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں حالات سے مایوس ہونے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ہاں ہمیں حالات سے باخبر اور چوکنا رہتے ہوئے دشمنان اسلام کی سازشوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں عالمی حالات کی بہترین عکاسی کی اور بین الاقوامی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی سازشوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ہم دین اسلام کو اپناکر اور اپنے فرائض و ذمہ داریوں کو ادا کرکے ہی ان حالات کو بدل سکتے ہیں اور دشمنان اسلام کی سازشوں کو ناکام بناسکتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT