Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / انجینئرس کے تقررات کیلئے اردو امتحان ندارد، اقلیتی امیدوار مایوس

انجینئرس کے تقررات کیلئے اردو امتحان ندارد، اقلیتی امیدوار مایوس

تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے رویہ پر اظہارافسوس، محمد علی شبیر کا شدید ردعمل
حیدرآباد۔/19ستمبر، ( سیاست نیوز) قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے اسسٹنٹ ایکزیکیٹو انجینئرس کے عہدوں کے امتحان میں اردو کو نظرانداز کرنے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد اقلیتوں میں امیدیں جاگی تھیں کہ سرکاری تقررات میں ان کے ساتھ مکمل انصاف کیا جائے گا لیکن نئی ریاست کے تقررات کے پہلے مرحلہ میں ہی اقلیتوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں  نے کہا کہ جس طرح پبلک سرویس کمیشن نے تلگو میڈیم طلبہ کیلئے جنرل اسٹڈیزکا پرچہ ان کی مادری زبان میں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اسی طرح اردو میڈیم طلبہ کیلئے پرچہ اردو میں فراہم کیا جانا چاہیئے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اردو زبان کو مستحقہ مقام دینے اور اقلیتوں کی ترقی سے متعلق ٹی آر ایس حکومت کے وعدوں کو پبلک سرویس کمیشن نے فراموش کردیا۔ اگر اردو زبان میں پرچہ فراہم کیا جائے تو اقلیتی امیدواروں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ امتحان کیلئے صرف ایک دن باقی ہے پبلک سرویس کمیشن کو ہنگامی طور پر اردو میں پرچہ فراہم کرنے کی تیاری کرنی چاہیئے تھی جس طرح کہ دو دن قبل تلگو میں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں چیف منسٹر اور پبلک سرویس کمیشن کے صدر نشین کو مکتوب روانہ کریں گے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اسسٹنٹ ایکزیکیٹو انجینئرس کی 931جائیدادوں کے علاوہ اسسٹنٹ انجینئرس کی1056 جائیدادوں پر تقررات کا مرحلہ ابھی جاری ہے۔ کمیشن کو چاہیئے کہ کم از کم اسسٹنٹ انجینئرس کے امتحانات میں اردو میڈیم طلبہ کی ضرورت کا خیال کرتے ہوئے اردو میں پرچہ کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ محمد علی شبیر نے حج ہاوز سے متصل کامپلکس کی تعمیر کے سلسلہ میں کمشنر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کو افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کمشنر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے پاس حکومت کے احکامات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ حکومت نے گارڈن ویو وقف مال کے پلان کی منظوری کیلئے 4کروڑ 60لاکھ روپئے میونسپل فیس معاف کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس سلسلہ میں 3ماہ قبل احکامات بھی جاری کئے گئے لیکن افسوس کہ کمشنر بلدیہ سومیش کمار حکومت کے احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے وقف کامپلکس کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ انہوں  نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ وہ کمشنر بلدیہ کو طلب کرتے ہوئے ان کی سرزنش کریں اور حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے احکامات پر عمل آوری کو یقینی بنائیں۔

TOPPOPULARRECENT