Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / انجینئرنگ کالجس میں طلبہ کی حاضری درج نہ کرنے پر کارروائی

انجینئرنگ کالجس میں طلبہ کی حاضری درج نہ کرنے پر کارروائی

جے این ٹی یو سے تنقیح ، قواعد کی خلاف ورزی پر مسلمہ حیثیت کو خطرہ
حیدرآباد /19 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) طلبہ کی حاضری درج نہ کرنے والے انجینیئرنگ کالجس کے خلاف جے این ٹی یو کی جانب سے کارروائی کی جائے گی اور کالجس کی نگرانی جے این ٹی یو کی تنقیحی ٹیموں کی جانب سے کی جائے گی اور یہ ٹیمیں رپورٹ تیار کرکے وائس چانسلر کو پیش کرے گی اور ان رپوٹس کی بنیاد پر یونیورسٹی کے عہدیداران آئندہ تعلیمی سال کیلئے ایسے کالج کی مسلمہ حیثیت کی منسوخی یا اس کالج میں متعلقہ کورس کی منسوخی وغیرہ پر فیصلہ کریں گے ۔ جے این ٹی یو کے تحت 187 کالجس مسلمہ ہیں اور ان تمام کالجس کی تنقیح کی جائے گی اور یہ تنقیح صرف تعلیمی مسائل سے متعلق ہی ہوگی ۔ تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ ملازمتیں حاصل نہیں کرپارہے ہیں اور کیمپس سلیکشن میں کامیاب نہیں ہو پارہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے وائس چانسلر نے اچانک کالجس میں تنقیح شروع کی تھی اور اسکا اثر یہ ہوا کہ کالجس انتظامیہ نے فیکلٹی کی بھرتیاں اور لیابس کا قیام عمل میں لایا اور سال تنقیحی ٹیمیں دس کالجس کا جائزہ لیا ہے اور کونسی کالج کس دن ٹیم میں کون کون ہوں گے یہ تمام عمل راز میں رکھا جاتا ہے اور روزانہ صبح میں وی سی اور رجسٹرار کی جانب سے تنقیح کیلئے روزانہ کئے جانے والوں کو اطلاع دیتے ہیں تاحال تقریباً 60 کالجس میں تنقیح کروائی ہے ۔ جن میں تقریباً 50 کالجس قوانین کی پابندی کرتے ہوئے پائے گئے جبکہ 10کالجس میں روزانہ باقاعدہ کلاسیس منعقد نہیں کی جارہی ہیں ۔ چند سال سے کالجس میں تعلیمی معیار گھٹ جانے کی شکایت موصول ہو رہی ہے اور کیمپس سلیکشن میں طلبہ کامیابی حاصل نہیں کر پارہے ہیں اور بعض تعلیمی اداروں کی جانب سے یونیورسٹی کے ان اقدامات کی مخالفت کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بار بار تنقیح کے نام پر کالجس پر حملہ آور ہونا بڑی ناانصافی والا عمل ہے اور بعض کالجس مسلمہ حیثیت ختم کئے جانے کے خوف سے بعض کورسیس رد کیئے جانے سے متعلق درخواستیں دے رہے ہیں ۔ تاحال کئی کالج بند کردئے گئے ہیں ۔ چند سال قبل کئی ایک انجئینئیرنگ کالجس کا قیام عمل میں آیا تھا اور بعض کالجس فیس ری ایمبرسمنٹ کی رقم حاصل کرنے کیلئے قائم کی گئی تھیں اور ان کالجس میں بنیادی سہولیات کے فقدان کو یونیورسٹی عہدیداران نے سخت نوٹ لیا تھا اور ایسی کالجس کو یونیورسٹی مسلمہ حیثیت نہیں دے رہی ہے اور اس کالجس کی وجہ سے طلبہ کا مستقبل خطرہ میں ہونے کا یونیورسٹی کی جانب سے احساس کیا جارہا ہے اور اس کے تدارک کیلئے یونیورسٹی قواعد پر باضابطہ عمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ یونیورسٹی رجسٹرار این یادیا نے کہا کہ کالجس میں باقاعدہ کلاسیس چلائی جارہی ہیں یا نہیں ؟ اس کی تنقیح کی جاری ہے کالجس میں طلبہ کی حاضری کیلئے تاحال بائیومیٹرک سسٹم شروع نہیں کیا گیا ہے ۔ فی الحال ملازمین کو ہی بائیو میٹرک سسٹم سے جوڑا گیا ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ تنقیح کی مخالفت صرف وہی کالجس کرتے ہیں جو درست طریقہ پر چلائی نہیں جاتی ہیں ۔ کسی بھی کالج کے ساتھ ہماری دشمنی نہیں ہے ۔ ہمارا مقصد صرف قوانین و قواعد کی پابندی کرانا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT