Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / انجینئرنگ کالجس کی مسلمہ حیثیت پرہاوز کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ مسترد

انجینئرنگ کالجس کی مسلمہ حیثیت پرہاوز کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ مسترد

حکومت کے سخت موقف پر کانگریس ارکان کونسل کے واک آوٹ پر کڈیم سری ہری کا ردعمل

حکومت کے سخت موقف پر کانگریس ارکان کونسل کے واک آوٹ پر کڈیم سری ہری کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 13 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ قانون ساز کونسل میں انجینئرنگ و بی فارمیسی کالجس کی حکومت کی جانب سے مسلمہ حیثیت ختم کرنے کے مسئلہ پر ہاوز کمیٹی تشکیل دینے کانگریس کے مطالبہ کو مسترد کردینے اور حکومت کے اختیار کردہ آمرانہ رویہ کے خلاف کانگریس ارکان کونسل نے ایوان سے واک آوٹ کردیا ۔ کانگریس ارکان کے اس اقدام پر اپنا اظہار خیال کرتے ہوئے مسٹر کے سری ہری ڈپٹی چیف منسٹر امور تعلیم نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں انجینئرنگ کالجس کا معیار بہت ہی ابتر و ناقص ہوچکا تھا اور ان انجینئرنگ کالجس و بی فارمیسی کالجوں کا مکمل معائنہ کیاگیا۔ اس معائنہ کے دوران تنقیح کرنے والی کمیٹی کو 163 انجینئرنگ و بی فارمیسی کالجس میں کسی قسم کی سہولتیں موجود نہ رہنے بالخصوص لکچرارس کے نہ پائے جانے کے علاوہ بنیادی سہولتیں طلباء کو دستیاب نہ رہنے کا پتہ چلا ۔ جس کی روشنی میں انجینئرنگ و بی فارمیسی کالجس کی جانچ کرنے والی کمیٹیوں کی جانب سے پیش کردہ رپورٹس کی بنیاد پر ہی حکومت نے 163 انجینئرنگ و بی فارمیسی کالجس کی مسلمہ حیثیت کو ختم کرتے ہوئے دوسرے تیسرے و چوتھے سال کے طلباء کو تعلیم جاری رکھنے کی سہولت فراہم کی گئی ۔ مسٹر سری ہری نے مزید بتایا کہ کالجس کی ابتر صورتحال کے لیے سابق کانگریس حکومت ہی مکمل ذمہ دار ہے کیوں کہ کسی بنیادی انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی کے باوجود حکومت نے کالجس کو منظوری دی تھی ۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے سخت و آمرانہ رویہ کے خلاف بطور احتجاج کانگریس ارکان نے ایوان سے واک آوٹ کیا ۔ تلنگانہ حکومت نے کہا کہ 288 انجینئرنگ کالجس و بی فارمیسی کالجس کے منجملہ 163 کالجس میں پائے جانے والے 846 انڈر گریجویٹ کورسیس کے منجملہ 814 کورسیس کی مسلمہ حیثیت کو سال 2014-15 میں ختم کردیا گیا ۔ تاہم163 کالجس میں دوسرے تیسرے اور چوتھے سال کے طلباء کو کورسیس ( تعلیم ) کو جاری رکھنے کی اجازت دی گئی۔ جب کہ 163 انجینئرنگ و بی فارمیسی کالجس میں بی ٹیک کورسیس کے دوسرے سال میں 26375 ، تیسرے سال میں 28870 اور چوتھے سال میں 28246 طلباء وطالبات زیر تعلیم ہیں اور ان طلباء کے مفادات کا مکمل تحفظ کرنے کے لیے موثر و مثبت اقدامات کئے گئے ۔ آج یہاں تلنگانہ قانون ساز کونسل میں اس مسئلہ پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر امور تعلیم مسٹر کے سری ہری نے یہ بات بتائی اور بعض ارکان کونسل کے ضمنی سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جن کالجس ( انجینئرنگ و بی فارمیسی ) کی مسلمہ حیثیت ختم کردی گئی ان تمام کالجس کی مکمل تفصیلات جے این ٹی یو حیدرآباد کے ویب سائٹ پر دستیاب رکھی گئی ہیں ۔ اسی دوران رکن کونسل کانگریس مسٹر محمد علی شبیر نے ضمنی سوالات کرتے ہوئے دریافت کیا کہ جب کالجس کی مسلمہ حیثیت ختم کردی گئی تو دیگر طلباء کس طرح اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکیں گے ۔ لہذاہزاروں لاکھوں طلباء کے مستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے طلباء کے لیے فیس ری ایمبرسمنٹ رقومات کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ اسی دوران قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے بھی حکومت سے انجینئرنگ و بی فارمیسی کالجس کی مسلمہ حیثیت ختم کرنے کے حقائق کا پتہ چلانے کے لیے ایک ہاوز کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ۔ لیکن ڈپٹی چیف منسٹر نے ان کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جے این ٹی یو حیدرآباد کے ویب سائٹ پر مکمل تفصیلات دستیاب ہیں اور ان کا بہ آسانی ملاحظہ کرسکتے ہیں جس کے پیش نظر ہاوز کمیٹی تشکیل دینے کی چنداں ضرورت ہی نہیں ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT