Saturday , November 18 2017
Home / مضامین / انجینئر آغا سلطان مرتضی عراق ہند تعلقات کا اہم ستون

انجینئر آغا سلطان مرتضی عراق ہند تعلقات کا اہم ستون

محمد ریاض احمد
آج کے پرفتن دور میں جہاں نفسانفسی کا ماحول ہے ۔ زندگی کی رفتار انتہائی تیز ہوگئی ہے ، خود غرضی، مفاد پرستی ، چاپلوسی اور ریا کاری کا مزاج بڑی تیزی سے فروغ پارہا ہے ایسے میں کچھ شخصیتیں ایسی بھی ہیں جو بڑی خاموشی کے ساتھ انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں ۔ ان کے جذبہ خدمت خلق کا یہ حال ہے کہ وہ کسی کی بھی مذہب ، ذات پات ، رنگ و نسل اور علاقہ کی بنیاد پرنہیں بلکہ انسانیت کی بنیاد پر مدد کیلئے ہاتھ بڑھاتے ہیں ۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو دوسرے انسانوں کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ اٹھتے ہیں ۔ وہ دہشت گردوں ، انتہا پسندوں اور فرقہ پرستوں کے ہاتھوں انسانوں کو قتل ہوتے نہیں دیکھ سکتے ۔ کسی پر ظلم انھیں برداشت نہیں ہوتا ۔ یتیموں و یسیروں کی آہ پر ان کے دل تڑپ جاتے ہیں ۔ آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے ہیں ۔ بیماروں کی حالت زار پر وہ خاموش نہیں رہتے بلکہ ان کے علاج و معالجہ کی حتی المقدور کوشش کرتے ہیں ۔ ملت کی تعلیمی ، معاشی اور سماجی ترقی کی فکر ہمیشہ انھیں دامن گیر رہتی ہے ۔ ایسی ہی شخصیتوں میں ملک کے ممتاز ماہر تعلیم اور سماجی جہدکار انجینئر آغا سلطان مرتضی بھی شامل ہیں ۔ ہندوستان میں انفارمیشن ٹکنالوجی کے سب سے بڑے مرکز بنگلور سے تعلق رکھنے والے انجینئر آغا سلطان مرتضی کو ریاست کرناٹک میں اقلیتی تعلیمی اداروں بالخصوص انجینئرنگ کالجس کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرنے کا اعزاز حاصل ہے ۔ راقم الحروف نے اس ہمدرد ملت سے انٹرویو لیا جس میں ان کی تعلیمی ، سماجی اور ملی سرگرمیوں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ۔ کرناٹک ہاسن کے ایک علمی گھرانے میں آنکھیں کھولنے والے آغا سلطان مرتضی کے والد محترم الحاج مرزا عباس علی ایک ریٹائرڈ انجینئر ہیں ۔ آغا سلطان مرتضی نے حال ہی میں ہندوستانی صحافیوں کے ایک وفد کے ہمراہ عراق کا دورہ کیا ۔ ان کی کوششوں کے باعث ہی روضہ حضرت امام حسینؓ کے انتظامات و انصرام کرنے والے اعلی اختیاری بورڈ (امام حسینؓ شرائن بورڈ) نے ہندوستانی صحافیوں کو دورہ عراق کیلئے مدعو کیا تھا ۔ اس دورہ میں شامل ہو کر روضہ نواسہ رسولﷺ حضرت امام حسینؓ پر حاضری کی سعادت حاصل کرنے والوں میں نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں بھی شامل تھے ۔ دورہ عراق کے اغراض و مقاصد کے بارے میں ایک سوال پر آغا سلطان مرتضی نے بتایا کہ وہ سال 2005 سے زیارت مقامات مقدمہ کیلئے متعدد مرتبہ عراق جاتے رہے ہیں ۔ اپنے ان دوروں میں انھوں نے عراق پر بیرونی افواج کی یلغار ، دہشت گرد تنظیموں کے حملوں اور اسلام دشمن طاقتوں کی سازشوں کے تباہ کن اثرات کا بچشم خود مشاہدہ کیا ۔ جب بھی زیارتوں کیلئے وہ جاتے تو انھیں اس بات کی خوشی ہوتی کہ نواسے رسولﷺ کے روضہ مبارک پر حاضری کا شرف حاصل ہورہا ہے لیکن وہاں علاج کی سہولتوں سے محروم بیماروں ، معذوروں کو دیکھتے تو ان کا دل تڑپ اٹھتا ۔ یتیموں و یسیروں کی درد بھری داستانیں سن کر کلیجہ منہ کو آجاتا ۔ بیواؤں کے صبر و استقلال کے بارے میں جان کر ان میں خدمت خلق کا جذبہ پیدا ہوتا ۔ چنانچہ انھوں نے سب سے پہلے یہی کوشش کی کہ بیمار و معذور عراقیوں کو علاج کی بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں ۔

اس ضمن میں انھوں نے روضہ حضرت امام حسینؓ کے انتظامات کے نگران بورڈ سے ربط پیدا کیا اور پھر کربلا معلی میں ہی روضہ حضرت امام حسینؓ کے قریب واقع السفیر اسپتال میں مریضوں کو علاج کی بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے امکانات تلاش کرنے شروع کردئے ۔ انجینئر آغا سلطان مرتضی کے مطابق عراق جو انسانی تہذیب کی ایک قدیم تاریخ رکھتا ہے  ایک جنگ زدہ ملک ہے ہر دور میں اس سرزمین پر حق و باطل کا مقابلہ رہا ہے اور ہمیشہ حق ہی غالب رہا ہے ۔ یہی وہ پاک سرزمین ہے جہاں سانحہ کربلا پیش آیا تھا جس نے باطل کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ذلیل و خوار کیا ۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ بیرونی افواج کے قبضے ملک میں بدامنی ، دہشت گردی اور انتہا پسندی نے عراق کی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیاہے ۔ نتیجہ میں وہاں صحت کا شعبہ بھی شدید متاثر ہوا چنانچہ عراقی مریضوں کو علاج کی بہتر سہولتوں کی فراہمی کیلئے انھوں نے ممتاز ماہر امراض قلب ڈاکٹر دیوی شیٹی کے نارائنا ہیلتھ سٹی سے اس معاملہ میں مدد کی درخواست کی اور انسانی بنیادوں پر نارائنا ہیلتھ سٹی نے عراقی مریضوں کے علاج و معالجہ پر رضامندی ظاہر کی ۔ اس طرح بے شمار عراقی مریضوں کے سستے اور معیاری علاج کو یقینی بنایا گیا ۔ آغا سلطان مرتضی جن کی ایک بیٹی نے ایم بی بی ایس کیا ہے اور ایک فرزند ایم بی بی ایس سال آخر میں زیر تعلیم ہے اور تیسرا لڑکا بزنس مینجمنٹ کا کورس کررہاہے ، بتایا کہ نارائنا ہیلتھ سٹی کے تعاون سے بے شمار غریب عراقی بچوں کے مفت آپریشن کروائے گئے ۔ اس کا سارا کریڈٹ نارائنا ہیلتھ سٹی اور ہولی شرائن بورڈ کے درمیان طے پائے معاہدہ کو جاتا ہے ۔ اس کیلئے نارائنا ہیلتھ سٹی کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے ۔ اس ضمن میں اپنے کردار کے بارے میں سوال پر آغا سلطان مرتضی نے بڑی انکساری سے بتایا کہ وہ تو خادم ہیں اور اللہ نے اپنے مصیبت زدہ اور بیمار بندوں کی خدمت کا شرف انھیں بخشا ہے جس کیلئے ہر وقت وہ بارگاہ رب العزت میں سجدہ شکر بجا لاتے ہیں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ وہ انفرادی طور پر یہ کام کررہے ہیں ۔ اس کیلئے انھوں نے کوئی تنظیم قائم کی اور نہ ہی ان کا ایساکوئی ارادہ ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سال 2011 میں ہندوستانی ڈاکٹروں اور ٹکنیشنس کو بھی وہ عراق لے گئے ۔ بعد میں السفیر اسپتال اور نارائنا ہیلتھ سٹی کو ٹیلی میڈیسن کے ذریعہ مربوط کیا گیا جس کے باعث ہندوستانی ماہر ڈاکٹرس اپنے اسپتال میں بیٹھے کربلا کے السفیر اسپتال میں شریک مریضوں کی نہ صرف تشخیص بلکہ علاج بھی کرنے لگے ۔ اس سہولت سے ہزاروں عراقی مریضوں کو فائدہ ہوا ۔ صحافیوں کے دورہ عراق کے بارے میں آغا سلطان مرتضی نے بتایا کہ ہندوستانی اخبارات کی رپورٹس پڑھنے سے ایسا لگ رہا تھا کہ عراق اور مشرق وسطی میں جو کچھ ہورہا ہے وہ مسلک کی بنیاد پر ہورہا ہے ۔ اخبارات پڑھنے سے ایسا بھی محسوس ہورہا تھا کہ عراق کی صورتحال کو شیعہ سنی کا رنگ دیاجارہا ہے

لیکن ان کا یقین ہے کہ یہ شیعہ سنی لڑائی یا اختلافات نہیں ہیں بلکہ دشمنان اسلام کی سازش کا ایک حصہ ہے جس پر عراق میں عمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں ۔ آغا سلطان مرتضی کے مطابق چونکہ وہ اکثر زیارات مقامات مقدسہ کیلئے عراق میں کربلا معلی ، نجف اشرف  ،بغداد میں کاظمین ، سمارہ میں امام علی نقیؓ اور امام حسن العسکریؓ کے روضوں پر حاضری دینے کیلئے جاتے رہتے ہیں اور روضہ حضرت امام حسین بورڈ کے سربراہ شیخ عبدالمہدی کربلائی سے ملاقات کا شرف بھی حاصل کرتے رہتے ہیں ایسے میں ان سے ملاقات کرتے ہوئے ہندوستانی صحافیوں کو مدعو کرنے کی درخواست کی تاکہ ہندوستانی میڈیا اور عوام حقیقت حال سے واقف ہوسکیں ۔خوشی کی بات یہ ہوئی کہ شیخ کربلائی نے ان کے مشورہ کو نہ صرف قبول کیا بلکہ ہندوستانی صحافیوں کو عراق لانے کی ذمہ داری بھی آغا سلطان مرتضی کو تفویض کی ۔ ہندوستانیوں صحافیوں کے جس وفد نے کربلا معلی اور دیگر مقدس عراقی شہروں کا دورہ کیا ان میں سیاست حیدرآباد ، این ڈی ٹی وی ، انقلاب ، ٹائمز آف انڈیا ، ٹیلیگراف ، ڈی این اے اور پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے صحافی شامل تھے ۔ اس 5 روزہ دورہ میں ہندوستانی صحافیوں کو عراق کی موجودہ صورتحال ، موجودہ عراقی حکومت کے اقدامات ، داعش کی انسانیت دشمن سرگرمیوں ، اسلام دشمن طاقتوں سے اسے ملنے والی امداد ، عراق میں شیعہ سنی اتحاد ، عراقی شہریوں کو حاصل ہونے والی سہولیات (خاص کر طبی سہولتیں) اور زائرین کیلئے روضہ حضرت امام حسینؓ بورڈ کی نگرانی میں کئے جانے والے انتظامات سے واقف ہونے کا موقع ملا ۔ جناب آغا سلطان مرتضی کا کہنا ہے کہ عراق میں داعش کس کے اشاروں پر کام کررہی ہے اور شیعہ سنی اختلافات کا ہوا کس لئے کھڑا کیا جارہا ہے اس بارے میں عوام اچھی طرح جان گئے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ داعش نے 2014 میں عراق میں اپنی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا آغاز کیا جس کے باعث وہاں کی معیشت مزید سست روی کاشکار ہوگئی ۔ ان کے خیال میں عراق میں فی الوقت انسانیت اور درندگی کے درمیان جنگ جاری ہے ۔ شیعہ سنی سب داعش سے متاثر ہوئے ہیں ۔ شیعہ سنی ملکر داعش کا مقابلہ کررہے ہیں ۔ خود عراق کے وزیر دفاع سنی ہیں ۔ان حالات میں میڈیا کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حقائق عوام کے سامنے رکھیں ۔ اس ضمن میں انھوں نے عراق کے ایک مرجع شیخ بشیر النجفی کے ساتھ صحافیوں کی ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ شیخ نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران یہی مشورہ دیا کہ وہ قلم کا صحیح استعمال کریں کیونکہ قلم ایک امانت ہے ۔ اسے مظلوموں ، کمزوروں کی مدد کیلئے استعمال کیاجائے تو باطل طاقتوں پر ضرب کاری پڑسکتی ہے ۔ انھوں نے صحافیوں کو تین نصیحتیں کیں ۔ ایک وطن سے محبت ، دوسرے ماں کی عزت (والدین کی فرمانبرداری) اور اپنے پیشے سے انصاف ۔ دوسری جانب شیخ مہدی کربلائی نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوستانیوں سے درخواست کی کہ وہ عراقیوں کی اخلاقی مدد کریں ۔ عراق میں داعش کی سرگرمیوں کے بارے میں آغا سلطان مرتضی نے بتایا کہ عراقی عوام اور فوجی عہدہ داروں کے خیال میں جاریہ سال ڈسمبر تک عراق سے داعش کا مکمل صفایا جائے گا ۔ بہرحال ہم یہاں کہہ سکتے ہیں کہ آغا سلطان مرتضی ہندوستان اور عراق تعلقات کو مستحکم بنانے میں ایک ستون کا کام انجام دے رہے ہیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ آغا سلطان مرتضی کا شمار ملک کے ممتاز ماہرین تعلیم اور سماجی جہد کاروں میں ہوتا ہے ۔ وہ کئی سیاسی ، سماجی  ،تہذیبی اور ملی تنظیموں سے وابستہ رہ کر ملک و ملت کی خدمت کررہے ہیں ۔

انھیں 1996 تا 2002 سنڈیکٹ اینڈ ایکڈیمک کونسل بنگلور یونیورسٹی کا رکن ، وشویشوریہ ٹکنالوجیکل یونیورسٹی (VTO) کی مجلس عاملہ کا 1998 تا 2001 اور 2007 تا 2010 رکن رہنے کا اعزاز حاصل رہا ۔ اس طرح ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انھیں آل انڈیا کونسل فار ٹکنیکل ایجوکیشن AICTE سدرن ویژن ریجینل کمیٹی (SWRC) کا رکن بنایا گیا اور 2004 تا 2006 انھوں نے SWRC کے رکن کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں  ۔وہ انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرس ۔ انڈیا کے معزز رکن بھی ہیں ۔ اس کے علاوہ موصوف نے VTO اور بنگلور یونیورسٹی کی مقامی انکوائری کمیٹی کے صدر نشین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں ۔ یہ کمیٹی ریاست کرناٹک میں نئے انجینئرنگ کالجس ، بزنس مینجمنٹ کالجس اور فرسٹ گریڈ کالجس کے قیام کی منظوری دیتی ہے۔ انھیں اس کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے بے شمار اقلیتی انجینئرنگ کالجس کی منظوری دینے کا اعزاز حاصل ہے ۔ اس کے علاوہ آغا سلطان میڈیکل ، انجینئرنگ کالجس اور فرسٹ گریڈ کالجس کے الحاق کی تجدید سے متعلق بنگلور یونیورسٹی کی لوکل انکوائری کمیٹی کی صدارت پر بھی فائز رہے ۔ وہ کئی باوقار اداروں کی گورننگ کونسل میں بھی شامل رہے اور ہیں ۔ وہ آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کے سکریٹری (ایجوکیشن) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عمل کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔  آغا سلطان مرتضی  کو دہلی کے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کی گورننگ کونسل کا رکن بھی مقرر کیا گیا ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT