اندرا ساہنی کیس پر توجہ مرکوز ایس ٹی تحفظات کو فائدہ کا امکان

تلنگانہ میں مسلم اور ایس ٹی تحفظات کی منظوری کے سلسلے میں درپیش دشواریوں کے دوران 1992 ء کا اندرا ساہنی کیس توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ کے سی آر حکومت اندرا ساہنی اور مرکزی حکومت کے درمیان مقدمہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی آڑ میں ایس ٹی تحفظات کی منظوری کی خواہاں ہیں۔ اس مقدمہ میں سپریم کورٹ نے واضح کردیا تھا کہ دستور کی دفعہ 16(4) کے مطابق تحفظات 50 فیصد سے تجاوز نہیں کئے جاسکتے ۔ اسی فیصلے میں عدالت نے کہا تھا کہ 50 فیصد سے زائد تحفظات غیر معمولی حالات میں فراہم کئے جاسکتے ہیں ۔ تاہم اس کیلئے حکومت کو وجوہات کی وضاحت کرنی ہوگی۔ اسی نکتہ کو بنیاد بناکر عہدیدار مرکز کو پیش کئے جانے والے دلائل کی تیاری میں مصروف ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ دستور کی دفعہ 330(2) کے تحت ایس سی ، ایس ٹی طبقات کو آبادی کے اعتبار سے تحفظات کی گنجائش ہے۔ تحفظات میں اضافہ کو درست اور حق بجانب قرار دینے کیلئے مسلمانوں اور ایس ٹی طبقات کی تعلیمی ، معاشی اور سماجی پسماندگی کی تفصیلات کا احاطہ کیا جارہا ہے۔ اگر مرکزی حکومت دستور کی دفعہ 330(2) کو قبول کرلے تو ایس ٹی طبقہ کیلئے تحفظات میں اضافہ کو منظوری مل سکتی ہے۔ تلنگانہ میں درج فہرست قبائل کی آبادی 9.08 فیصد ہے جبکہ مسلمانوں کی آبادی 12.68 فیصد درج کی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT