Saturday , December 15 2018

اندرون 6 ماہ مرکز و ریاست میں عام انتخابات ؟ مودی کی پیشکش پر کے سی آر تیار ، بابو ناراض

حیدرآباد /22 جون ( سیاست نیوز ) تلنگانہ میں تمام سیاسی جماعتیں انتخابی تیاریوں میں مصروف ہوچکے ہیں ۔ نومبر ڈسمبر میں عام انتخابات منعقد ہونے کی تیاری کر رہے ہیں ۔ دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے سینئیر وزراء سے انتخابات کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔ تمام زیر التواء کاموں کی عاجلانہ یکسوئی کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے ۔ کانگریس پارٹی انتخابی حکمت عملی میں مصروف ہوگئی ہے ۔ ہفتہ دس دن میں مختلف کمیٹیاں تشکیل دینے کا امکان ہے ۔ 4 تا 5 لوک سبھا حلقوں پر بی جے پی اپنی ساری توجہ مرکوز کی ہوئی ہے ۔ اسمبلی اور لوک سبھا کے عام انتخابات ایک ساتھ کرانے کی ملک میں مباحث شروع ہوچکی ہے ۔ جموں کشمیر کی مخلوط حکومت سے بی جے پی کی دستبرداری کے بعد اس موضوع کو مزید تقویت حاصل ہوئی ہے ۔ سال کے اواخر میں مدھیہ پردیش ، راجستھان اور چھتیس گھڑ میں انتخابات منعقد ہونے والے ہیں ۔ ان انتخابات کے ساتھ تلنگانہ اور آندھراپردیش کو شامل کرنے کی مساعی شروع ہوچکی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر اور نریندر مودی نے اس سلسلے میں تبادلہ خیال بھی کیا ہے ۔ تاہم چیف منسٹر آندھراپردیش کے راضی ہونے ہونے کے امکانات نہیں ہے ۔ قومی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں کو دیکھ کر تلنگانہ میں تمام سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی انتخابی حکمت عملی طئے کرنے میں مصروف ہوگئی ہیں ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو فلاحی اسکیمات بالخصوص کسان بندھو اسکیم اور کسان کے انشورنس اسکیم سے دوبارہ کامیابی حاصل ہونے کی امید ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر نے سینئیر وزراء سے انتخابات کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات دور نہیں ہے ۔ ڈسمبر میں منعقد ہونے پر تعجب کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ باربار سروے کراتے ہوئے عوامی نبص کو ٹٹلونے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ 40 حلقوں کو ڈینجر زون میں رکھا ہے ۔ بالخصوص دوسری جماعتوں سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے و الے 25 ارکان اسمبلی اور اپوزیشن جماعتوں کے طاقتور قائدین کے اسمبلی حلقوں پر نظریں جمائے ہوئے ہیں ۔ عوامی تائید سے محروم رہنے والے چند ارکان اسمبلی کو ٹکٹ دینے کا بھی امکان نہیں ہے ۔ چیف منسٹر آبپاشی پراجکٹ ، مشین بھاگیرتا ، شادی مبارک ، کلیانا لکشمی اسکیمات ، ریتو بندھو اسکیم سے ڈھیر ساری امیدیں لگائے ہوئے ہیں ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کے باوجود 2014 میں اقتدار سے محروم ہونے والی کانگریس پارٹی 2019 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے ۔ ڈسمبر میں انتخابات منعقد ہونے کا صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اُتم کمار ریڈی اشارہ دیتے ہوئے پارٹی کارکنوں کو تیار رہنے کی اپیل کی ہے ۔ بس یاترا کا بھی کامیاب طریقہ سے انعقاد کیا گیا ہے ۔ حکومت کی ناکامیوں کو آشکار کرنے کا کوئی بھی موقع کانگریس پارٹی ضائع نہیں کر رہی ہے ۔ اقتدار حاصل ہونے پر کسانوں کے 2 لاکھ روپئے تک قرض معاف کرنے ایک لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے ۔ بیروزگار نوجوانوں کو بیروزگاری بھتہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے عوام کا دل جیتنے کی ہر ممکنہ کوشش کر رہی ہے ۔ کانگریس کو تنظیمی سطح پر مستحکم کرنے کیلئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دینے میں مصروف ہے ۔ 31 محفوظ اسمبلی حلقوں پر کامیابی کیلئے گذشتہ دیڑھ سال سے کام کر رہی ہے ۔ شکتی ایپ کا استعمال کرتے ہوئے بوتھ سطح تک پارٹی کیڈر سے رابطہ بنانے کی مہم میں جٹ چکی ہے ۔ بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ بھی تلنگانہ کا دورہ کرنے والے ہیں ۔ اس مرتبہ بی جے پی متحدہ اضلاع ، رنگاریڈی ، نظام آباد ، نلگنڈہ ، ورنگل میں قسمت آزمانے پر زیادہ غور کر رہی ہے ۔ نوجوانوں ، تعلیم یافتہ افراد کو زیادہ سے زیادہ ٹکٹ دینے کی حکمت عملی تیار کر رہی ہے ۔ کمیونسٹ جماعتیں پروفیسر کودنڈارام کی پارٹی تلنگانہ جنا سمیتی سے اتحاد کرتے ہوئے مقابلہ کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔ آئندہ 5 ماہ بعد انتخابات منعقد ہویا نہ ہو مگر تلنگانہ میں سیاستی سرگرمیاں عروج پر پہونچ چکی ہیں ۔ ہر جماعت کنگ یا کنگ میکر بننے کی منصوبہ بندی تیار کرتے ہوئے عوام کے درمیان پہونچنے کی تیاریاں کر رہی ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT