Thursday , November 23 2017
Home / دنیا / ’’اندھوں کو آئینہ اور گنجوں کو کنگھی فروخت نہیں کی جاسکتی‘‘

’’اندھوں کو آئینہ اور گنجوں کو کنگھی فروخت نہیں کی جاسکتی‘‘

نامزد امریکی وزیر لیبر الیگزنڈر اکوسٹا کی H-1B ویزہ اور امریکی ملازمتوں پر تفصیلی وضاحت
واشنگٹن ۔ 23 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وزیرلیبر کے قلمدان کیلئے نامزد کردہ الیگزنڈراکوسٹا نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایچ ون بی ویزہ کا مقصد امریکی ورکرس کو تبدیل کرنا نہیں ہے اور یہ اعتراف کیا کہ اس وقت امریکہ میں ہنرمند ورکرس کی قلت ہے۔ اپنے عہدہ کی توثیق کیلئے منعقد کی جانے والی سماعت کے دوران انہوں نے سینیٹرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی شہریوں نے وہ دور بھی دیکھا ہے جب ملک کی اہم ترین ملازمتیں غیرامریکیوں کو دیدی گئیں۔ یہ رپورٹس بھی ملیں کہ خود امریکی شہریوں کو یہ ہدایت کی گئی کہ وہ انکی جگہ لینے والے ملازم کو تربیت فراہم کریں اور سب سے مزے کی بات یہ ہیکہ امریکی شہریوں نے وہ دور بھی دیکھا جب ملازمتیں دستیاب تو تھیں لیکن انہیں نہیں مل سکیں کیونکہ ان ملازمتوں کیلئے درکار اہلیت انکے پاس نہیں تھی۔ دریں اثناء سینیئرس کی جانب سے پوچھے گئے کچھ سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کی جانب توجہ دینا اسلئے بھی اہم ہیکہ میں نے ایک ایسے نکتے کو پیش کیا جہاں امریکی ملازمتیں غیرملکیوں کے حصہ میں آرہی تھیں اور خصوصی طور پر ایک ایسے ماحول میں جہاں خود امریکی شہریوں سے یہ کہا جارہا تھا کہ وہ اپنے متبادل امیدوار کو تربیت فراہم کریں لہٰذا اب ضرورت ہیکہ ایک مؤثر انفراسٹرکچر پروگرام کی جسکے بعد امریکہ میں سینکڑوں ملازمتوں کو واپس لایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہاکہ جب ملازمتیں حاصل ہوجائیں گی تو لوگ اپنے اخراجات میں بھی اضافہ کریں گے۔ گھومنے پھرنے جائیں گے، ریستوران میں کھانا کھائیں گے۔ اس طرح معاشی طور پر آپ مستحکم ہوں گے کیونکہ ملک کی معیشت مستحکم ہے۔

کسی ملک کی معیشت کمزور ہوتی ہے تو عوام بھی مستحکم نہیں رہ سکتے اور ان پہلوؤں پر شدید غوروخوض کی اور انکی قدردانی کی ضرورت ہے۔ آج حالت یہ ہیکہ تقریباً ہر امریکی شہری اپنی قوت برداشت کے مطابق جدوجہد کررہا ہے۔ ایسی ہی جدوجہد جو کسی زمانے میں انکے والدین نے کی تھی بلکہ یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ آج کے امریکی شہریوں کو اپنے والدین کے زمانے سے زیادہ جدوجہد کا سامنا ہے۔ مسٹر الیگزنڈر اکوسٹا نے اس سلسلہ میں خود اپنی مثال دیتے ہوئے کہاکہ انکے والدین کے پاس ملازمتیں تھیں لیکن ہر امریکی شہری اتنا خوش قسمت نہیں لہٰذا کسی بھی امریکی شہری کو اچھی ملازمت حاصل کرنے کیلئے اسکی مدد کرنا کوئی جانبدارانہ اقدام نہیں ہے۔ عہدہ کی توثیق کے دوران مسٹر اکوسٹا نے ہنرمندی کے شعبہ میں پائے جانے والے خلاء پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی کے ارکان کیساتھ جہاں جہاں بھی انہوں نے دورہ کیا انہیں یہی بات بتائی گئی کہ ملک میں ملازمتیں تو دستیاب ہیں تاہم ملازمتوں کیلئے درکار ہنرمندی یا اہلیت کا فقدان ہے۔ مثال کے طور پر ایک کمیونٹی کالج میں ویلڈنگ کی ایسی تکنیک سکھائی جارہی ہے جو آجرین کبھی استعمال ہی نہیں کرتے لہٰذا یہ بات بالکل واضح ہیکہ جب طلباء اس کالج سے اپنی تکنیکی تعلیم کی تکیل کے بعد فارغ ہوکر ملازمتیں حاصل کرنے کی جدوجہد شروع کرتے ہیں تو ناکام ہوجاتے ہیں کیونکہ انہوں نے پرانی ویلڈنگ تکنیک سیکھی تھی جس کا کہیں بھی چلن نہیں ہے۔ مارکٹ میں اس وقت جس ہنرمند کی ضرورت ہے، تربیت بھی اسی درجہ کی ہونی چاہئے۔ اندھوں کے شہر میں آئینے اور گنجوں کے شہر میں کنگھی فروخت کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ مارکیٹ میں جن صلاحیتوں اور ہنرمندی کی طلب ہے، وہی ہنرمندی سکھائی جانی چاہئے۔ خصوصی طور پر عصری ٹیکنالوجی کی وجہ سے آج دنیا میں دستیاب ملازمتوں کی نوعیت بھی تبدیل ہوگئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT