اندھیری رات ہو اور چڑیلوں کی بات تو …

محمد مصطفی علی سروری
اتوار 6 مئی کی صبح ہونے میں ابھی وقت باقی تھا۔ ویسے بھی گھڑیوں میں رات کے ساڑھے تین بجنے والے تھے۔ کے بی آر پارک جوبلی ہلز کی مین گیٹ پر تقریباً 20 تا 25 لوگ جمع تھے۔ یہ لوگ شہر حیدرآباد کی ایک مشہور میراتھن میں حصہ لینے کیلئے تیار کھڑے تھے۔ یہ میراتھن کے بی آر پارک سے شروع ہوکر 21 کیلو میٹر کا فاصلہ طئے کرتے ہوئے سکندرآباد کے ایک عیسائی قبرستان پر ختم ہونے والی تھی۔ میراتھن کے اس مقابلے کو دلچسپ بنانے کیلئے اس میراتھن کو چڑیلوں کی دوڑ کا بھی نام دیا گیا تھا اور میراتھن (لمبی دوڑ) کے بعض شرکاء نے اپنے چہروں کو میک اپ کرتے ہوئے بالکل چڑیلوں کی طرح بنا رکھا تھا۔ آدھی رات کے بعد کا وقت ہو اور ایک ایسا وقت جب سارا شہر سو رہا ہو اپنی صحت کے لئے دوڑنا عجیب سا لگ رہا تھا۔ خاص کر سڑک پر رات کے وقت ٹریفک کا چونکہ کوئی بھروسہ نہیں ہوتا گاڑیاں بڑی تیزی سے دوڑتی رہتی ہیں۔ اس لئے میراتھن کے شرکاء نے چمکدار لباس پہنے تھے تاکہ سڑک پر دوڑتے وقت وہ سبھی کو نظر آئیں۔ خیر سے قارئین ساڑھے تین بجے کے بی آر پارک سے یہ میراتھن شروع ہوئی۔ سڑک کے کنارے کنارے میراتھن کے شرکاء چلنے لگے۔ ابھی تھوڑا سا فاصلہ بھی ان لوگوں نے طئے نہیں کیا تھا کہ ان لوگوں کے چہروں اور پیشانی پر پسینہ کی بوندیں چمکنے لگی۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں میراتھن کے دوران تیز دوڑنے کا تصور نہیں ہوتا ہے بلکہ طویل مسافت طئے کرنا مقصود ہوتا لیکن ایسا کیا ہوا کہ میراتھن کے آغاز میں ہی ان لوگوں کے پسینے چھوٹ گئے۔ میراتھن میں شریک ایک نوجوان کے مطابق کھیل کود کے ماحول میں اور اسی جذبے کے ساتھ ہم نے خود بھی چڑیلوں کا میک اپ اور لباس پہن کر دوڑ کا آغاز کیا تھا لیکن ہم لوگ تھوڑی دور گئے بھی نہیں تھے کہ ہمیں سامنے سے چار چڑیلیں اپنی جانب آتی ہوئی دکھائی دی اور پھر ایسا لگنے لگا کہ چار چڑیلیں اکیلی نہیں ہے ان کے ساتھ چار سائے اور بھی ہیں۔ چڑیلوں کی طرح کا لباس پہن لینا الگ بات ہے لیکن اصلی چڑیلوں کو سامنے سے آتا ہوا دیکھنا دوسری بات ہے۔ بس اسی وجہ سے ان لوگوں کے چہروں پر پسینہ آیا۔ اسٹریٹ لائیٹ کی روشنی میں جیسے جیسے کالا لباس پہنی چڑیلیں قریب آتی جارہی تھی تو ایسا لگنے لگا کہ وہ آٹھ لوگ ہیں۔ میراتھن کے شرکاء بھی آگے بڑھتے رہے اور اپنے آپ کو نارمل رکھا پھر یوں ہوا کہ وہ کالے کپڑے پہنے چڑیلیں اور ان کے ساتھ والے چار سایے بالکل قریب آگئے جب ان لوگوں کا آمنا سامنا ہوا تو میراتھن کے شرکاء یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ رات کے ساڑھے تین بجے کالے کپڑے پہننے والے وہ چاروں کوئی چڑیل نہیں تھے بلکہ چار لڑکیاں تھی جنہوں نے پوری طرح کالے رنگ کا ڈریس پہن رکھا تھا جس کو مسلمان برقعہ کہتے ہیں۔ ان کے ساتھ چلنے والے کوئی اور نہیں بلکہ ان کے بوائے فرینڈز لگ رہے تھے جو کے بی آر پارک کی دیوار کے ساتھ چلتے ہوئے ہنسی مذاق اور تفریح میں مشغول تھے۔ دوڑ میں شریک ان صاحب سے جب پوچھا گیا حضرت کیا آپ کو برقعہ میں اور چڑیلوں کے لباس میں فرق سمجھ میں نہیں آتا؟ انہوں نے جواب دیا کہ بھائی صاحب ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ رات کے ساڑھے تین بجے کے بعد برقعہ پہن کر کوئی لڑکیاں اس طرح اپنے دوستوں کے ساتھ پارک کے آس پاس گھوم بھی سکتی ہیں۔ اس لئے جب تک ہم نے قریب سے ان برقعہ پوش لڑکیوں کو نہیں دیکھ لیا تب تک ہم یقین ہی نہیں کرسکے کہ شہر حیدرآباد میں آدھی رات کے بعد بھی کوئی لڑکی برقعہ پہن کر اپنے دوستوں کے ساتھ کے بی آر پارک کے پاس گھومتی ہوئی دکھائی دے سکتی ہے۔ دوسرا سبب برقعہ کو چڑیل سمجھنا اس لئے بھی تھا کہ خود ہم لوگوں نے چڑیلوں کی طرح میک اپ کرنے کا اہتمام کیا تھا اور ہمارے ذہنوں میں چڑیلوں کا تصور تھا۔
قارئین کرام دوڑنا صحت کیلئے ایک لازمی جز بن گیا ہے اور جن لوگوں نے اس کی اہمیت کو سمجھ لیا ان کے لئے رات کے آخری پہر میں نیند سے بیدار ہوکر دوڑ لگانا کوئی مشکل مسئلہ نہیں ہے لیکن اس سالانہ دوڑ کے مقابلے میں حصہ لینے والے ان صاحب کا وہ مشاہدہ جو انہوں نے مجھے سنایا وہ میرے ذہن میں نقش ہوگیا اور میں یہ سوچنے لگا ہوں آخر مسلمانوں کو اس غفلت بھری نیند سے جگانے کیلئے اور انہیں ان کا منصب بتلانے کیلئے کون آگے آئے گا۔ کیا یہ پولیس کا کام ہیکہ وہ رات دیر گئے سڑکوں پر گھومنے والے نوجوانوں کو ان کے گھر بھیجیں۔ کیا یہ ہماری سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی ذمہ داری نہیں ہے وہ نوجوانوں کی اس طرح کی حرکات کا نوٹ لیں؟
سیاسی قائدین تقاریر کرسکتے ہیں اور ملت کے سیاسی مسائل کا حل پیش کرسکتے ہیں۔ مذہبی قائدین امامت کرسکتے ہیں، وعظ و بیان کرسکتے ہیں، نصیحت کرسکتے ہیں اور دعا کرسکتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے اپنے کام کررہے ہیں؟ ان سب کے باوجود مسائل ہیںکہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں اور سب سے اہم تو یہ بات کہ نئے نئے مسائل جن کے متعلق پہلے سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا یا جن کا تصورہی محال تھا آج امت مسلمہ کو درپیش ہیں۔ آخر کو ان کا حل کیا نکالا جاسکتا ہے اور یہ کام کس کی ذمہ داری ہے۔

قارئین آپ حضرات اگر یہ سوچ رہے ہیں کہ حیدرآباد جیسے بڑے شہر میں اتفاقاً اگر چار برقعہ پوش لڑکیاں رات دیر گئے باہر نظر آ گئی تو اس پر اتنا شور اور واویلا مچانے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ صرف حیدرآباد کی ہی بات نہیں ہے۔ مہاراشٹرا کے علاقے کلیان سے ایک خبر اخبار ٹائمز آف انڈیا نے دی تھی کہ Boy Falls To Death From Balcony as Mom Loses Balance due To High Heel
جی ہاں 6 مئی 2018ء کی اس خبر کے مطابق ممبئی کلیان میں واقع ایک شادی خانے میں منعقدہ تقریب کے دوران فہمیدہ شیخ نام کی ایک 23 سالہ خاتون شادی خانے کی پہلی منزل پر اپنا توازن اونچی ایڑھی کی سینڈل پہننے سے کھو بیٹھی اور اس کی گود سے اس کا چھ مہینہ کا لڑکا پھسل کر گیلری سے نیچے گر گیا جب اس معصوم کو دواخانہ لے جایا گیا تو ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
قارئین کرام یہ بات بھی جان لیجئے کہ فہمیدہ شیخ کا تعلق کوئی بہت بڑی مالدار فیملی سے نہیں ہے اس کا شوہر الہاس نگر کی ایک دکان میں ہیلپر کا کام کرتا ہے۔ اونچی ایڑی کی سینڈل کس کو پہننی چاہئے اور کس کو نہیں ہماری خواتین کو اس سے کوئی غرض نہیں فیشن کی اندھی تقلید میں ہم نقل کرنا پسند کرتے ہیں اور اس اندھی نقل نے ایک ماں سے اس کے معصوم بچے کو چھین لیا اور موت کی نیند سلادیا۔
یہ کس کی ذمہ داری ہیکہ وہ ہماری خواتین کو بتلائیں کہ انہیں مسلمان ہونے کے ناطے اپنی زندگی کیسی گذارنی ہے۔ کیا یہ بھی علماء کرام کا ذمہ ہے کہ وہ خواتین کو کس طرح کی سینڈل پہننا ہے سکھائے۔ کیا یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ لڑکیوں کو بتلائیں کہ انہیں بلا ضرورت گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہئے۔ کیا والدین کی، بھائی بہنوں کی، رشتہ داروں کوئی ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنے گھر کی خبر لیں۔ اپنے رشتہ داروں، اقرباء اور عزیزوں کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کریں۔ میں اکا دکا واقعات کی بات نہیں کررہا ہوں ہاں میں مثالیں دے رہا ہوں اور قارئین سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ ہمارے سماج میں پھیل رہی ان خرابیوں کی اصلاح کے لئے اپنی ذات سے اپنی حسب استطاعت کوشش کریں۔ مجھے امید کہ ہماری اپنی یہ کوشش شاید کہ روز محشر ہمارا توشہ آخرت بن جائے۔ (آمین)

6 مئی کی خبر تو آپ نے پڑھ لی کہ ایک مسلمان ماںکی اونچی ایڑی کی سینڈل نے کس طرح اس کو اپنے بچے سے دور کردیا۔ اب ذرا 7 مئی 2018ء کی ایک اورخبر بھی پڑھ لیجئے اخبار وہی ٹائمز آف انڈیا ہے مگر خبر تاملناڈو سے ہے جس کی سرخی اخبار نے کچھ یوں لگائی Woman Falls Asleep With Head Phones, Electrocuted تفصیلات کے مطابق 46 برس کی ایک خاتون ہفتہ 5 مئی کی شب اپنے کانوں میں ہیڈ فونس لگائے موسیقی سنتے ہوئے سو گئی۔ اگلے دن اس خاتون کے شوہر نے جب اسے جگانے کی کوشش کی تو اس نے کسی طرح کا جواب نہیں دیا۔ بالکل ساکت اور زندگی کے آثار سے محروم دیکھ کر خاتون کے شوہر نے اس کو دواخانہ منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کو مردہ قرار دیا اور خاتون کی نعش پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دی گئی۔ ڈاکٹروں کے حوالے سے اخبار نے لکھا کہ خاتون کی موت شارٹ سرکٹ کے سبب ہوئی اور شاٹ سرکٹ خاتون کے کانوں میں لگے ہیڈفون کے سبب ہوا۔

حضرات سب سے اہم بات کا ذکر کرنا تو میں بھول ہی گیا کہ اس خاتون کا نام اخبار نے فاطمہ بتلایا ہے اور اس کے شوہر کا نام عبدالکلام ہے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہمارے گھروں میں کانوں میں ہیڈفون لگا کر سونا اب آئے دن کا ماحول بنتا جارہا ہے۔ کیا ہم مسلمان دنیا میں صرف اس لئے بھیجے گئے ہیں کہ راتوں میں گھروں سے باہر نکل کر تفریح کریں۔ اونچی ایڑی کی سینڈل پہن کر اپنے ہی بچوں کی موت کا سبب بنیں اور تو اور سوتے وقت اپنے کانوں میں ہیڈفون لگا کر اپنی جان کے دشمن بنیں۔ ایک دو نہیں میں سینکڑوں مثالوں کے ذریعہ یہ بات واضح کرسکتا ہوں کہ یہ اکا دکا واقعات نہیں ہیں بلکہ ایک تیزی سے پھیلتے ہوئے مسئلہ کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمیں سب کچھ چھوڑچھاڑ کر پہلے اپنے گھروں کی خبر لینے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ میرے بیان کردہ واقعات میں لڑکیوں اور عورتوں کا قصور ہے میں ان سے درخواست کروں گا کہ وہ ان چار برقعہ پوش لڑکیوں کو ہی کیوں ذمہ دار مانتے ہیں۔ کیا ان چار لڑکیوں کے ساتھ موجود چار لڑکوں کو نصیحت اور تربیت کی ضرورت نہیں ہے۔ کیا یہ شوہر کا کام نہیں ہیکہ وہ اپنی بیوی کی مدد کرے اور اسے یہ سمجھائے کہ اونچی ایڑی کی سینڈل پہن کر بچے کو گود میں سنبھالنا مشکل ہے اور شادیوں کی دعوت میں جانے کیلئے اونچی ایڑی کی سینڈل پہننا ضروری نہیں۔ کیا یہ فاطمہ کے شوہر عبدالکلام کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو سمجھائے کہ سونے کیلئے کانوں میں ہیڈ فونس لگانا ضروری نہیں اور سب سے اہم بات دین اسلام صرف عورتوں کو کیسے زندگی گذاریں نہیں سکھاتا بلکہ مردوں کو بھی بتلاتا ہیکہ ان کی زندگی کیسی ہو۔ شریعت صرف عورتوں کیلئے بلکہ کسی امتیاز کے بغیر مرد و عورت ہر دو پر لاگو ہوتی ہے۔ خدائے تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ سب کو دین اسلام سمجھنے قرآن کو پڑھنے اور اپنی ذمہ داریوں سے واقف ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین اور اندھیروں سے روشنی کی طرف ہمارے سفر کو آسان کرے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT