Monday , July 16 2018
Home / مضامین / اندھیر نگری چوپٹ راج

اندھیر نگری چوپٹ راج

محمد عثمان شہید ،ایڈوکیٹ
مغلیہ سلطنت کے اقبال کا سورج نصف النہار پر پہنچ چکا تھا۔ شہنشاہ جہانگیر اپنی جان سے زیادہ پیاری ملکہ کے ساتھ ہندوستان کی تقدیر کا مالک بن چکا تھا۔ جہانگیر اپنی ملکہ کے ساتھ ایسی محبت کرتا تھا چکور چاند سے کیا محبت کرے۔ بلبل گل کے ساتھ کیا عشق کرے، اسی جہانگیر کے انصاف کا یہ عالم تھا کہ عدل جہانگیری انصاف کی تاریخ میں ایک سنہری باب کا اضافہ کرگئی۔
اسی دور کا واقعہ شاید ہندوستانیوں کو روزبالخصوص آر ایس ایس، بی جے پی بجرنگ دل وشواہندو پریشد جیسی جماعتوں کے سربراہوں کو یاد ہوگا اگر نہیں تو وہ سن لیں کہ جب غلطی سے ہرن کے مغالطے میں ملکہ نے اپنے تیر سے ایک دھوبی کو ہلاک کردیا تو اس کی بیوی دربار جہانگیر میں انصاف کی طلب گار ہوئی۔ اگر شہنشاہ کے انصاف پر محبت غالب آگئی ہوتی ہو عدل جہانگیر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے داغدار ہوجاتا۔ شہنشاہ نے ملکہ کو بچانے کے لیے جھوٹے گواہ پیش نہیں کروائے۔ ڈرادھمکاکر یا لالچ دے کر فریادی کو اپنی شکایت واپس لینے پر مجبور کیا۔ نہ ہی اس نے اپنے اقتدار کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ وہ چاہتا تو رات کو دن دن کو رات ثابت کرواسکتا تھا۔ پھر اس نے کیا کیا؟ انصاف کیا۔ ملکہ ملزمہ ثابت ہوگئی۔ قتل کا بدلہ قتل۔ دھوبی کے قتل کے عوض شہنشاہ نے اپنی بیگم کی مانگ اجاڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ دھوبن کو حکم دیا کہ وہ اپنے شوہر کی جان کے بدلے جہانگیر کا قتل کردے۔ یہ تھا ایک شہنشاہ کا انصاف۔ مسٹر مودی سن لو تم صرف 33% ووٹ حاصل کرکے برسر اقتدار آئے ہو۔ جبکہ شہنشاہ سارے ہندوستانی کا بلاشرکت غیر سے مالک و قابض و متصرف اس کا ہر لفظ قانون تھا۔ اس کی جنبش ابرو سے نیا قانون ضبط تحریر میں لایا جاسکتا تھا۔ لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ زور انصاف کا پرچم بلند یوں پر لہراتا رہا۔
1970ء کی بات ہے جب ہم ایل ایل بی کے دوسرے سال میں قانون کی تعلیم حاصل کررہے تھے۔ ہم نے محترم خان عبدالغفار خان سرحدی گاندھی کو لا کالج ایوننگ سیشن کے ایک افتتاحی فنکشن میں انہیں مدعو کیا تھا۔ قانون کے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے سرحدی گاندھی نے ایک انتہائی چبھتے ہوئے سوال سے اپنی تقریر کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے ہم سے پوچھا تھا ’’آپ قانون کے طلباء ہیں بتائیے کیا ہندوستان میں قانون ہے!؟‘‘
ان کا یہ سوال ہمارے ضمیر کو چیرکرگیا۔ خان صاحب کے سوال کا تیر آج بھی ہمارے دل میں پیوست ہے۔
پاکستان کے سابق وزیراعظم مسٹر بھٹو کو ایک قتل کے الزام میں پھانسی دے دی گئی جبکہ قتل بھٹو نے نہیں کیا تھا لیکن تحت دفعہ 109 تعزیرات پاکستان قاتل کو اکسانے کے الزام میں بھٹو کو بھی وہی سزائے موت دی گئی جس کا حق دار قاتل تھا۔ سلطان محمود غز۔وی کے دربار میں ایک شخص حاضر ہوا اور دہائی دی کہ اس کا بھتیجہ اکثر راتوں میں اس کے گھر آجاتا ہے اور اس کی بیٹی کی عصمت دری کرتا ہے۔ سلطان نے قسم کھائی کہ اس وقت تک کھانا نہیں کھائوں گا جب تک کہ ظالم کا سر قلم نہ کردوں۔ سلطان نے بذات خود مجرم کو سزادی اس کا سر قلم کردیا۔اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنی قسم پوری کی۔ دیکھا امیت شاہ۔۔۔ انصاف اسے کہتے ہیں۔ امیرالمومنین حضرت عمرؓ، اپنے ہی تقرر کردہ قاضی کے دربار میں ایک فریق کی حیثیت سے حاضر ہوئے۔ قاضی حضرت عمرؓ کی ہیبت سے ان کا احترام کرتے ہوئے کھڑا ہوگیا۔ حضرت عمرؓ قاضی پر غصہ ہوئے اور اس کو یہ کہہ کر عہدے سے برطرف کردیا کہ اس کا احترام میں کھڑا ہونا فریق مخالف کو شک و شبے میں مبتلا کردیتا ہے۔ یہ انصاف کے تقاضے کے مغائر ہے۔
یہ عدل و انصاف کے وہ چند تاریخی نظائر ہیں جن کی مثال ملنی مشکل ہے۔ اور ہندوستان جہاں عدالتیں ’’آزاد‘‘ ہیں۔ قانون کی حکمرانی ہے۔ اس ہندوستان جنت نشان میں گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا وزیراعظم واجپائی نے اس واقعات پر کہا کہ ساری دنیا میں ہمارا سرشرم سے جھک گیا۔
پھر کیا ہوا کیا یہ انصاف کا تقاضہ نہیں تھا کہ مجرم کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا جبکہ قاتلوں نے اقبال جرم کرتے ہوئے تہلکہ ڈاٹ کام کے اسٹنگ آپریشن میں ببانگ دہل اقرار کرتے ہوئے ایک ملزم پرکاش راتھوڑ نے کہا کہ مایا کوڈنانی کابینی وزیر سڑکوں پر چیخ چیخ کر لوگوں کو اکسارہی تھی کہ مسلمانوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ماردو۔
تہلکہ کے نامہ نگار آشیش کھتان نے اپنی تحقیقات کے دوران بابو بجرنگی اور مایا کوڈنانی کی سرگرمیوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے اپنا بیان دیا اور کہا کہ کوڈنانی سارا دن اپنی کار میں گھوم گھوم کر کہہ رہی تھیں کہ مسلمانوں کو قتل کرو۔ ملاحظہ ہو http//www.tahelkahindi.com//indinoo/national/1368/html ان تمام تحقیقات اور کھیتان کی گواہی کے باوجود گجرات ہائی کورٹ نے امیت شاہ کی ’’گواہی‘‘ کی بنیاد پر عدالت نے ایسی خاتون کو باعزت بری کردیا۔ واہ رے انصاف واہ رے انصاف بجرنگ دل کے سپریمو اشوک سنگھل نے فخریہ طور پر اقبال کہا کہ ہم نے دو سو دیہاتوں کو مسلمانوں کے ناپاک وجود سے پا کردیا ہے۔ کیا اشوک سنگھل کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی کی گئی۔ چین کیا ہندوستان میں قانون کے محافظوں نے قانون اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا۔
آندھراپردیش میں ٹولی کے مقام پر ایک خاندان کے چھ افراد کو زندہ جلادیاگیا اور اس کے ساتھ قانون کی کتابیں بھی جل کر راکھ ہوگئیں۔
حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد میں بم کا دھماکہ ہوا کئی افراد شہید ہوگئے۔ بم رکھنے والے سیمانند نے تیس ہزاری کورٹ کے مجسٹریٹ کے سامنے تحت دفعہ 164 ضابطہ فوجداری ہند اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ مکہ مسجد اور سمجھوتہ ایکسپریس میں بموں کے دھماکوں کے لیے اسے فوج کے لیفٹننٹ کرنل سری کانت پروہت اور دیگر اعلی حکام نے دی تھی ملاحظہ ہو: http://www.urdutimes.lm/node/3612 عدالت مجاز میں اس کا یہ اقبالی بیان ناقابل اعتبار سمجھا گیا اور وہ مسلمانوں کا قاتل باعزت بری کردیا گیا۔

ہندوستانی عدالتیں زندہ باد، انصاف پائندہ باد
کرناٹک میں پلی بڑی ایک انتہاپسند مسلم دشمن تنظیم سری رام سینا کی سرگرمیوں کے تعلق سے پشپ شرما کی تحقیقات 2010ء میں کہا گیا ہے کہ سری رام سینا کے وہ دار متھالک نے اقبال کہا کہ اس نے 70 لاکھ روپئے لے کر کرناٹک کے مختلف مقامات پر فساد برپا کئے تھے۔ اس اقبالی بیان کے باوجود پرمود متھالک کے بھائی پروین متھالک کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا گیا۔ اس سینا کی سرگرمیوں کے لیے ملاحظہ ہو : http://www.hindujagruti.org/hindi/news/289.html ریاست آسام کے مقام نیلی میں سینکڑوں معصوم بے گناہ بچوں کا قتل عام کیا گیا کسی کو سزا نہیں دی گئی۔ کسی کو قتل کا ذمہ دار نہیں گردانا گیا۔ کس پولیس آفیسر سے نہیں پوچھا گیا کہ تیسرے پولیس اسٹیشن کے حدود میں جو خونی واردات ہوئی اس کا ذمہ دار کون ہے کیا تو نے تحقیق کی۔ کس مشتبہ فرد کو پابند زنجیر کیا۔ کس کے خلاف ابتدائی پرچہ چاک کیا؟ پھر اس کا نتیجہ کیا نکلا!؟
قانونی شہادت Evidence Act صرف الماریاں سجانے کے لیے ہے۔ پڑھنے اور عمل کرنے کے لیے نہیں۔ روزنامہ سالار بنگلور مورخہ 23-12-2008ء میں یہ بال ٹھاکرے کا بیان شائع کیا گیا کہ اگر ہندو دہشت گرد 29 ستمبر کے مالیگائوں دھماکوں میں ملوث ہیں تو مجھے خوشی ہوگی۔ انہوں نے 2002ء میں ہندو خودکش دستے تشکیل دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔ قانون کے رکھوالو … تم نے کیا کیا … ارے معاف کرنا تم تو اندھے بہرے گونگے ہو… تم سے امید رکھنا بے وقوفی ہے۔ سوچتا ہوں… اگر شریعت اجازت دے تو انصاف کے مندر میں زور زور سے گھنٹے بجائوں تاکہ انصاف کی دیوی جو اپنی آنکھوں پر پٹی باندھے عرصے سے محوخواب ہے وہ بیدار ہوجائے۔ میں اس کے پیر اپنے آنسوئوں سے دھوکر یہ التجا کروں کہ
ماں میری ماں، میری پیاری اندھی ماں، نابینا دیوی، تونے اپنے لاکھوں چاہنے والوں پوجاکرنے والوں کو روشنی عطا کی… خود اندھی بنی رہی۔ ماں اب تو یہ پٹی اتارپھینک۔ آنکھیں کھول میری ماں آنکھیں کھول۔ تیرا وجود اس مندر کی زینت ہے۔ صرف اس مندر کی لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ماں۔ اپنی آنکھوں پر بندھی پٹی اتار پھینکو۔ اور دیکھو اس بے رحم دنیا کو اس میں رہنے والے سنگدل انسانوں کو یہاں چلتے پھرتے بولتے انسان بہ شکل حیوانوں کو دیکھو۔ کس طرح تمہارے پجاریوں نے تمہارا مذاق اڑایا ہے۔ اگر تم انسانی شکل میں آجائو تو شاید یہ درندے تمہاری بھی عصمت دری کرنے سے نہیں رکیں گے۔ بھیونڈی مہاراشٹرا میں انصاری صاحب کے کارخانے میں پناہ لینے والے عورتوں مردوں اور بچوں کو زندہ نذر آتش کردیا گیا۔ لیکن ہر شخص اندھا بن گیا۔ ہاں ماں۔ ہاں۔ نو زائدہ بچوں کو تیروں پر اچھال کر آگ میں پھینک دیا گیا اور دیکھنے والوں نے اپنے نابینا ہونے کا ثبوت دیا۔ ہاں ماں … ہاں۔
معصوم نابالغ ہماری بچیوں کی عصمتیں لوٹی گئیں۔ ان کی چیخوں سے آسمان میں چھید پڑگئے۔ دیکھنے والوں نے قانون کے محافظوں نے ثابت کردیا کہ وہ پیدائشی قوت بصارت سے محروم ہیں۔ ہاں ماں …ہاں۔ تمہارا نام لے کر اپنے پیٹ کا دوزخ بھرنے والوں نے اپنی ڈیوٹی کافرض ادا نہیں کیا۔ ایسے بن گئے جیسے پیدائشی اپاہج ہوں۔ ہاں ماں … ہاں… ماں تم تو اندھی ہو لیکن بینائی رکھنے والے بھی اندھے بن گئے۔ قانون کی دیوی تم تو جرم کے ثبوت بطور گواہ مانگتی ہو لیکن ہندوستان میں کوئی سچائی بولنے تیار نہیں کوئی نہیں جو حقیقت دیکھ کر سچ کو چھپالیتا ہے جھوٹ کا کفن اوڑھ لیتا وہ مرجاتا ہے۔
ہندوستان مردوں کی بستی ہے چلتی پھرتی لاشیں اپنے کندھوں پر سچ کی صلیب اٹھائی ہوئی ہیں۔ ہاں ماں تم جانتی ہو لیکن تم بھی تو معذور ہو … اپاہج ہو …

TOPPOPULARRECENT