Saturday , November 18 2017
Home / ہندوستان / انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت ریمارکس صرف واجپائی کو زیب دیتے ہیں

انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت ریمارکس صرف واجپائی کو زیب دیتے ہیں

کشمیریوں سے ہوٹوں کے بجائے دل سے اپیل کی ضرورت ، وزیراعظم کے تبصروں پر راجیہ سبھا میں آزادکا ردعمل
نئی دہلی ۔ 10 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے ’انسانیت‘  ’جمہوریت‘ اور ’کشمیریت‘ کے بارے میں وزیراعظم نریندر مودی کے ریمارکس پر کئی سوالات اٹھاتے ہوئے آج کہا کہ کشمیری عوام کیلئے ’’دل و دماغ کی یکجہتی‘‘ کو یقینی بنانے کیلئے ’’ووٹوں‘‘ کے بجائے ’دل‘ سے اپیل کی جانی چاہئے۔ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر راجیہ سبھا میں بحث کے دوران قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے وادی کو ایک کل جماعتی وفد روانہ کرنے کی تجویز پیش کی اور یہ تجویز بھی رکھی کہ وادی میں گذشتہ 33 دن سے جاری تشدد کے خاتمہ کیلئے پارلیمنٹ کی طرف سے ایک مشترکہ اپیل جاری کی جائے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ ’’کشمیر کے بہتر مستقبل کیلئے ہمیں ایوان سے امن و دوستی کی اپیل کرنا چاہئے۔ اس قسم کی متحدہ آواز پارلیمنٹ سے بلند کی جائے۔ اس کے علاوہ ایک کل جماعتی اجلاس بھی وادی کو روانہ کیا جائے‘‘۔ آزاد نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اس ضمن میں فوری کارروائی کی جانی چاہئے کیونکہ پارلیمانی سیشن دو دن میں اختتام پذیر ہوجائے گا۔ غلام نبی آزاد نے کشمیر کی صورتحال پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کو کشمیر کی صورتحال پر تاخیر سے کئے جانے والے تبصروں کی مذمت کی تھی اور کہا کہ حتیٰ کہ یہ تبصرے پارلیمنٹ کے بجائے مدھیہ پردیش کی ایک ریالی سے خطاب کرتے ہوئے کئے گئے ہیں۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈرغلام نبی آزادنے کہا کہ ’’چوتھی مرتبہ ہم اس مسئلہ پر بحث کررہے ہیں اور وزیراعظم کو ایوان میں موجود رہنا چاہئے تھا لیکن انہوں نے کشمیر پر تبصروں کیلئے مدھیہ پردیش کا انتخاب کیا لیکن ایوان میں نہیں آئے‘‘۔ غلام نبی آزاد نے سوال کیا کہ ’’یہ کب سے مدھیہ پردیش اس ملک کا صدر مقام بن گیا ہے؟‘‘۔

آزاد نے انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت پر مودی کے تبصروں کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے بیانات صرف سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو ہی زیب دیتے ہیں لیکن ایسے الفاظ ان افراد کیلئے عجیب و غریب معلوم ہوتے ہیں جو (افراد) ان (الفاظ) پر یقین ہی نہیں رکھتے۔ جموں و کشمیر کے سابق چیف منسٹر آزاد نے مزید کہا کہ اس قسم کے الفاظ محض ہوٹوں سے نہیں دل سے ادا کئے جانا چاہئے۔ آزاد نے ’’کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے‘‘ جسے بار بار کئے جانے والے دعوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں ’’دل و دماغ میں یکجہتی‘‘ بھی ہونی چاہئے۔ مدھیہ پردیش کی ریالی میں گذشتہ روز مودی کی جانب سے کئے گئے تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس قائد نے کہا کہ ’’اگر ہم واقع کشمیریوں سے محبت رکھتے اور انکے دکھ درد میں برابر کے حصہ دار ہوتے تو یہ بیان مدھیہ پردیش سے نہیں آنا چاہئے تھا۔ اگر یہ بیان دل سے آتا تو کشمیر تک پہنچ سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی صبح سے شام تک پارلیمنٹ میں واقع اپنے کمرے میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن انہوں نے ایوان میں اس مسئلہ پر گذشتہ تین مباحثوں کے دوران ایک بھی بیان نہیں دیا۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ پی ڈی پی سے مفاہمت کے ساتھ بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد وادی کشمیر میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT