Tuesday , December 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / انسانی اخوت نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم

انسانی اخوت نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم

مفتی سید صادق محی الدین فہیمؔ

اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ سارے انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں،یہ بے مثال اخوت نعمت توحید باری کی دین ہے، اللہ سبحانہ ایک ہے اس کا کوئی شریک و سہیم نہیںوہ بے مثل و بے مثال ہے، وہی قادر و قیوم ہے، ساری کائنات کا خالق، مالک اور پالنہار ہے، اسی نے حضرت آدم علیہ السلام سے انسانوں کا سلسلہ جاری فرمایااس لئے سارے انسان اولاد آدم ہونے کی نسبت سے آپس میں بھائی بھائی ہیں، پھر انسانوں میں ایک جماعت وہ ہے جواپنے رب کی معرفت سے سرشار ہے اور وہ امت اجابت ہے، دوسری وہ ہے جو اس نعمت عظمیٰ سے محروم ہے اور وہ امت دعوت کہلاتی ہے، پہلی صنف سے ہمارا ایمانی رشتہ ہے اور وہ ایمانی رشتہ سے ہمارے بھائی ہیں جبکہ دوسری صنف سے ہمارا رشتہ انسان ہونے کی حیثیت سے بھائی بندوں کا ہے ۔ اللہ کے نبی سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں رشتوں کو نبھانے اور ان کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دی ہے۔ مدینۃ المنورہ ہجرت فرمانے کے بعد آپﷺ نے ایمان والوں کے درمیان مواخات کا رشتہ قائم فرمایااور دیگر باطل مذاہب پر قائم انسانوں کو انسانی رشتے سے مواخات کے لئے میثاق یعنی معاہدے طئے کئے تاکہ ملک میںامن و امان قائم رہے، نسلی ، لسانی،مذہبی یا طبقاتی کسی بھی طرح کی کوئی کشمکش آپس میں باقی نہ رہے،  اس کی وجہ سے کوئی فساد و بگاڑ کا دروازہ نہ کھلے اور سارے انسان تباہی و بربادی ، قتل و غارت گری و خوں ریزی سے محفوظ رہیں ۔ سب جانتے ہیں کہ سیدنا محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لا یا ہوا پیام ساری انسانیت کے لئے ہے، آپﷺ کی تعلیمات زمان و مکان کے حدود سے آگے بڑھ کر عالمگیری شان کی حامل ہیں، وہ انسانی برادری کو جغرافیائی حدود میں مقید نہیں کرتیں۔ ہر ملک ، ہر خطہ میں رہنے والے، کسی بھی زبان کے بولنے والے ، کسی بھی رنگ و نسل کے انسانوں کے درمیان کوئی دیوار نہیں کھڑی کرتیںبلکہ سب کو بحیثیت انسان آپس میں بھائی بھائی بتاتی ہیں ،انفرادی و اجتماعی سطح پر انسانیت واحدہ کا یہ تصور صرف اسلام کی دین ہے جو ساری دنیا کو امن و امان کا گہوارہ بنا سکتا ہے۔ آج کچھ ناعاقبت اندیش خود غرضی کی وجہ اندھے کچھ انسانیت دشمن طاقتیں حرص و طمع اور اپنی بالا دستی قائم رکھنے کے لئے کچھ حکومتیں اپنے آپ کو  ’‘انا’‘ کی خول میںمحصور کر کے انسانوں کو علاقہ، زبان، مذہب وغیرہ کی بنیادوں پر تقسیم کر کے انسانوں کے درمیان نفرت کا زہر گھولنا چاہتی ہیں تاکہ انسان ان بنیادوں پر لڑتے مرتے رہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو ذہنی صلاحیت دی ہے وہ اس کو اچھے کاموں میں لگا کر انسانیت کا بھلا کر سکتا ہے لیکن کچھ نا عاقبت اندیش انسانوں نے اللہ کی دی ہوئی ذہنی صلاحیت کو استعمال کر کے جہاں غیر معمولی ، سائنسی ترقی حاصل کی ہے اور بہت سے فطری، مخفی گوشوں تک رسائی حاصل کی ہے ،وہیںبے پناہ جوہری طاقت بھی حاصل کرلی ہے ۔

ظاہر ہے اس کا استعمال بر موقع و محل ہو تو وہ بھی فتنہ و فساد کو مٹانے اور ظلم کرنے والوں کا دفاع کرنے میں مدد گار ہو سکتا ہے لیکن اس وقت کچھ بڑی طاقتوں نے اس جوہری توانائی کے بل بوتے پر ساری دنیا کو انتشار و فساد کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں جنگ چھڑی ہوئی ہے، جان و مال اور انسانی صلاحیتوں کا بڑے پیمانے پر ضیاع ہو رہا ہے ، اس وقت سارے عالم، خاص کر عالم اسلام میں جو تباہی مچی ہے اور جو وحشت و درندگی چھائی ہوئی ہے وہ سب اسی جوہری و توانائی کی دین ہے۔   انسانیت دشمن، مذہب بیزار بڑی طاقتوں نے پہلے تو مذہبی تہذیب و تمدن کے حدود کو توڑا جس سے انسانیت اخلاقی و روحانی اعتبار سے گراوٹ کا شکار ہو گئی، بے حیائی و بدکاری نے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیاجس سے انسانوں کا اور معاشرے کا سکون درہم برہم ہو گیا۔ روحانی و اخلاقی اعتبار سے انسانوں کا گلا گھونٹنے کے بعد انسانی جانوں پر ظلم ڈھانے اور ان کو موت کی گھاٹ اتارنے کا سلسلہ جاری کیا،  انسان دشمن طاقتوں نے اپنے ہاتھوں سے اس دنیا کو جہنم زار بنا دیا ہے، دنیا بھر کے سارے سنجیدہ اور انسانیت پر یقین رکھنے والے انسانوں کو اس انسانیت کے خلاف ہونے والی سازش کو سمجھناچاہئے اور اس کو ناکام بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔نبیٔ رحمت سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو انسانی اخوت اور ان کے درمیان مساوات و برابری کا عالمی پیام انسانوں کودیا ہے پھر سے اس کو زندہ کرنے اور عالمی برادری میں وحدت انسانیت کی روح پھونکنے کی ضرورت ہے، انسان دشمن طاقتیں جو جوہری توانائی کی موجد ہیں اور جن کا مقصد  ’‘لڑاؤ اورـــــــ حکومت کرو ، اسلحہ فروخت کرو اور دولت کماؤ’‘ ہے ان کو بھی اس پیام انسانیت سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے، ظاہر ہے جب یہ پیغام ان تک پہونچے گا اور ان کے دل میں رسوخ کرے گاتب کہیں جا کر دنیا سے فتنہ و فساد کا سد باب ہو سکے گا۔ حضرت نبی کریم سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے مصالحانہ کوششوں کے لئے ان ظالم طاقتوں سے گفت وشنید کرنے اور ان کو ایمان کی دعوت دینے کی ضرورت ہے، جیسے کہ آپ ﷺ نے مختلف سربراہان مملکت  جیسے نجاشی شا ہ حبش، قیصر روم ہرقل ، خسرو پرویز کسریٰ، شاہ یمامہ حارث غسانی، شاہ مصر مقوقس، بحرین کے ایک حصہ پر حکمراں ہلال بن امیہ ، منذر بن ساویٰ وغیرہ کے ساتھ کئی ایک سرداران قبائل کے نام دعوتی، تبلیغی واصلاحی خطوط روانہ فرمانے کا اہتمام فرمایا، ہمارا بھی فرض ہے کہ موجودہ ترقیاتی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے ہر طرح کی کوشش کر تے ہوئے ان دشمنا ن انسانیت کو دین کی دعوت دینا چاہئے اور حضرت نبی کریم سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیام انسانیت سے ان کو واقف کروانا چاہئے ، اگر وہ ایمان کی دعوت قبول نہ کریں تو انسانی رشتہ کا لحاظ رکھتے ہوئے امن معاہدات طئے کرنا چاہئے۔ اس پیغام رحمت کے امین چونکہ اسلام کے علمبردار ہیں، ان کو تو ہر طرح کوشش کر کے انسان دشمن طاقتوں کے خلاف متحد ہوجانا چاہئے اور دشمن طاقتیں راہ راست پر نہ آئیں توایسا منصوبہ بھی طئے کرنا چاہئے جس سے ان کو سبق سکھایا جا سکے اور ان کو ان کے اپنے ناپاک عزائم سے باز رکھا جا سکے، اس مقصد کے لئے مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، اسلامی احکامات پر عمل کرتے ہوئے  ’‘ کانہم بنیان مرصوص’‘  سیسہ پلائی ہوئی عمارت کی مانند اپنی مادی وروحانی طاقت و قوت کا مظاہرہ کریں۔ اسی میں دنیا کی کامیابی اور آخرت کی سرفرازی مضمر ہے۔

TOPPOPULARRECENT