Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / انسانی تمدن پر نہج البلاغہ کے اثرات صریحاً غالب

انسانی تمدن پر نہج البلاغہ کے اثرات صریحاً غالب

نہج البلاغہ سوسائٹی کا کلیدی سمینار ، ڈاکٹر شوکت علی مرزا و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔ 13 ڈسمبر (پریس نوٹ) حضرت علیؓ کے نہج اسرار و بلاغت، اسلامی تمدن کی تعلیمات ، حکمت و فصاحت کے سرچشمے، تہذیب انسانی کے جواہر آبدار اور خوش آب لعل و گہر ہیں جو دنیا کے آخری غروب آفتاب تک انسانی تمدن کو تابناک کرتے رہیں گے۔ کُل ہند نہج البلاغہ سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر شوکت علی مرزا نے آج صبح سالار جنگ میوزیم کے ویسٹرن بلاک میں ’’انسانی تمدن پر نہج البلاغہ کے اثرات‘‘ پرمنعقدہ سمینار میں صدارتی خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علیؓ کے حکیمانہ خطبات و فرمودات کلام المخلوق تحت کلام الخالق کا زندہ جاوید معجزہ ہے جس کو عام کرنے کے مقصد کے تحت سوسائٹی سرگرم رہے گی۔ ڈاکٹر شوکت علی مزا نے آئندہ کا لائحہ عمل پر کہا کہ ہندوستان بھر میں نہج البلاغہ سوسائٹی کی شاخیں قائم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ حضرت مہدی مہدوی پور کے مشورے کی بناء پر نہج البلاغہ کو ملک کی مختلف یونیورسٹیز میں ریسرچ کیلئے متعارف کیا جائے گا۔ عثمانیہ یونیورسٹی اور کشمیر یونیورسٹی میں سوسائٹی پہلے ہی فنڈس مہیا کرچکی ہے۔ ڈاکٹر شوکت علی مرزا نے دفتر کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر شمشاد حسین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ڈاکٹر شمشاد حسین نے سوسائٹی کے دفتر کیلئے قلب شہر میں اپنی جگہ کو صرف ایک روپیہ ماہانہ کرایہ دینے پر رضامندی ظاہر کی جس کے اعلان پر سامعین نے خیرمقدم کیا۔ جامعۃ المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی ایران کے پروفیسر سید محمد رضا مرتبار نے کہا کہ قرآن معظم کے بعد نہج البلاغہ انسانوں کیلئے ایک مبسوط صحیفہ ہے جس میں امیرالمؤمنین نے خصوصاً توحید، اخلاقیات، تقویٰ ، انصاف، سیاسیات ، روحانیات اور دنیا و آخرت کے موضوعات کا احاطہ کیا ہے۔ مولانا آغا مجاہد حسین نے کہا کہ حضرت علیؓ نے نہج البلاغہ میں جو وسیع تر پیغام دیا ہے جس کو قابل فہم بنانے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر سلیمان صدیقی نے کہا کہ نہج البلاغہ کائنات علم اور علم کائنات کو سمیٹے ہوئے ہے جس کے مطالعہ سے یکسوئی قلب کے دروازے وا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کائنات پر محیط خطبات کا حوالہ دیتے ہوئے منتخب اخلاق آگیں، مواعظ اور روموز و دقائق کی تشریح کی۔ ڈاکٹر آنند راج ورما نے نہج البلاغہ کی شرح آفرینی کرتے ہوئے کہا کہ اس صحیفے میں موجود سحر انگیز اور پُراعجاز نصائح نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوسائٹی نے انسانی تمدن پر نہج البلاغہ کے اثرات کا عنوان دے کر بلالحاظ مذہب و ملت نہج البلاغہ کی افادیت کو وسیع تر کردیا۔ ڈاکٹر فاطمہ بیگم پروین نے کہا کہ دنیا کا بہترین ادب وہ ہے جس میں ایسی بلاغت پائی جائے جو نہ صرف ہر دور پر محیط ہوسکے بلکہ انسانیت کیلئے سرچشمۂ وجدان بھی ہو۔ انہوں نے کہا کہ نہج البلاغہ کے اسرار و رموز کی وجہ سے ہر دور میں آگہی کے باب کھلتے جاتے ہیں۔ میجر جنرل سید علی اختر زیدی نے اپنے خیرمقدمی خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر شوکت علی مرزا نے اس مشکل وقت میں نہج البلاغہ سوسائٹی کے فروغ کیلئے بیڑہ اٹھایا ہے۔ جناب تقی عسکری وِِلا نے نظامت انجام دی۔ مولانا محمد شعیب رضا خان کی قرأت کلام پاک سے سمینار کا آغاز ہوا۔ جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست، جناب افتخار حسین جنرل سیکریٹری فیض عام ٹرسٹ، قونصل جنرل اسلامی جمہوریہ ایران متعینہ حیدرآباد آقا حسن نوریان، پدم شری ایس ایم عارف، ارکان پارلیمان اسلامی جمہوریہ ایران حجت خدائی سوری اور آغا محمد صالح کے علاوہ پروفیسرس، ڈاکٹرس ادبی و مذہبی شخصیتوں اور باذوق سامعین کی کثیر تعداد شریک تھی۔ ڈاکٹر شوکت علی مرزا نے خاص طور پر جناب زاہد علی خاں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سمینار کے انعقاد میں بھرپور تعاون کیا۔

TOPPOPULARRECENT