Wednesday , September 19 2018
Home / اضلاع کی خبریں / انسان کو اپنی حقیقت پہچاننے کی ضرورت

انسان کو اپنی حقیقت پہچاننے کی ضرورت

گلبرگہ : /17 ستمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) آج انسان کے سامنے سب میں بڑا مسلہ آخرت کا ہے کیوں کہ وہ اس کو آج آسانی سے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ وہ سوچتاہے کہ کیا یہ ممکن ہے کے دنیا کے یہ سارے انسان ختم ہو جاینگے، یہ تمام پیداور اور اس کی تقسیم کا نظام ختم ہوجائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار ہدایت سنٹر میں جماعت اسلامی ہند گلبرگہ کے مرکزی

گلبرگہ : /17 ستمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) آج انسان کے سامنے سب میں بڑا مسلہ آخرت کا ہے کیوں کہ وہ اس کو آج آسانی سے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ وہ سوچتاہے کہ کیا یہ ممکن ہے کے دنیا کے یہ سارے انسان ختم ہو جاینگے، یہ تمام پیداور اور اس کی تقسیم کا نظام ختم ہوجائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار ہدایت سنٹر میں جماعت اسلامی ہند گلبرگہ کے مرکزی اجتماع عام میں ’’ انسان اپنے آپ کو پہچان ‘‘ عنوان پر خطاب کرتے ہوئے جناب مظہر الدین نے کیا۔ آپ نے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنی حقیقت کو نہیں پہچانا ہے۔ اور آخرت کا منکر بنا ہوا ہے۔ اس کے سامنے آپ نے کہا کہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ انسان مرنے کے بعد جبکہ وہ سڑ گل جاتا ہے پھر پیدا کیا جائے گا، اور کیا یہ ممکن ہے کہ اس سے حساب و کتاب لیا جائے گا۔ آپ نے کہا کہ انسان اپنی سر کی آنکھوں سے صرف وہی دیکھتا ہے جو دکھائی دیتا ہے لیکن اس کے پاس ایک عقل کی آنکھ بھی ہے اگر وہ اس کو استعمال کرے تو آخرت کی حقیقت سامنے آئے گی۔فکر آخرت کو مختلف مثالوں کے ذریعہ سمجھاتے ہوئے آپ نے کہا کہ آج تصور آخرت پر یقین کرنا آسان ہوگیا ہے۔ اجتماع کا آغاز سید تنویر ہاشمی کے درس قرآن سے ہوا۔ سورۃ الشعراء کی آیات 123-140 کی روشنی میں درس قرآن پیش کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ ان آیات میں قوم عاد کا تذکرہ کیا گیا ہے اور کہا گیا کہ قوم عاد میں جب ہود ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا اوراللہ سے ڈرنے اور انکی اطاعت کرنے کہا گیا تو وہ انکی منکر بنی۔ آپ نے کہا اس قوم میں جو بڑی برائیاں آئی جن کا قرآن نے تذکرہ کیا وہ یہ ہیں کہ انہوں نے اونچے مقامات پر لا حاصل عمارتیں بنائیں جس سے ایسا معلوم ہوتا ہو کہ انہیں یہیں پر ہمیشہ رہنا ہے۔آیات میں تنویر ہاشمی نے کہا کہ قوم عاد کو اللہ تعالیٰ نے اولاد، جانور، باغات اور چشموں جیسی نعمتوں سے نوازے جانے کا تذکرہ کیا ہے اور اس قوم کے اس کے سلسلے میں جوابدہ رہنے کے لئے ڈرایا گیا تو انہوں نے اس نصیحت کو قبول نہیں کیا اور عذاب میں ہلا ک کی گئی۔ اسی لئے آپ نے کہا کہ جو نعمتیں ہمیں ملتی ہیں ان کیلئے ہمیں اللہ کا شکر گزار ہونا چاہئے۔عبدلاقادر منصوری’’ مصائب گناہوں کا کفارہ‘‘ کے عنوان پر درس حدیث پیش کیااور حالات حاضرہ پر عبدالقدوس نے تبصرہ پیش کیا۔ قایم مقام امیر مقامی محمد یوسف خان کے اعلانات و دعا کے ساتھ ہی اجتماع اختتام کو پہنچا۔

TOPPOPULARRECENT