Monday , August 20 2018
Home / ہندوستان / انسدادِکٹر پسندی، سائبر فراڈکیلئے وزارت داخلہ میں نئے ڈیویژنس

انسدادِکٹر پسندی، سائبر فراڈکیلئے وزارت داخلہ میں نئے ڈیویژنس

داخلی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کی مساعی۔ بعض ڈیویژنس کے انضمام کیساتھ انتظامی سطح پر ردوبدل
نئی دہلی 10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزارت داخلہ نے آج نئے ڈیویژنس تشکیل دیئے تاکہ کٹر پسندی کے رجحان اور سائبر دھوکہ دہی پر قابو پایا جاسکے، جو اِس کے بعض اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کا حصہ ہے۔ دو نئے ڈیویژنس انسداد دہشت گردی اور انسداد کٹر پسندی (سی ٹی سی آر) اور سائبر اینڈ انفارمیشن سکیورٹی (سی آئی ایس) تشکیل دیئے گئے ہیں۔ سی ٹی سی آر ڈیویژن کٹر پسندی کا رجحان ختم کرنے اور دہشت گردی کے انسداد کے لئے تیزی سے حکمت عملی وضع کرے گا۔ وزارت داخلہ کے جاری کردہ حکمنامہ کے مطابق یہ ڈیویژن دہشت گردی اور کٹر پسندی سے لڑنے کے لئے مختلف لائحہ عمل تیار کرے گا۔ کٹر پسندی میں اضافہ جو زیادہ تر آن لائن دیکھنے میں آرہا ہے اور دہشت گردی کے سبب داخلی سلامتی کو خطرات بڑھ رہے ہیں، عہدیداروں نے یہ بھی کہاکہ نیا شعبہ عالمی دہشت گرد تنظیموں کی رسائی کا جائزہ لینے کے علاوہ اُن کے پروپگنڈے اور سرگرمیوں کا سدباب کرنے کی حکمت عملی پر بھی توجہ مرکوز کرے گا۔ اِس ضمن میں یہ ڈیویژن ڈومین کے ماہرین کی خدمات حاصل کرے گا۔ دیگر نیا شعبہ سی آئی ایس آن لائن جرائم اور خطرات بشمول سائبر فراڈ اور ہائکنگ پر نظر رکھنے کے لئے تشکیل دیا گیا ہے اور یہ شعبہ اِن معاملوں میں انسدادی اقدامات بھی وضع کرے گا۔

یہ ڈیویژن آن لائن فراڈ، ہائکنگ، شناخت کی چوری، اہم معلومات پر سائبر حملے و دیگر جرائم پر نظر رکھتے ہوئے اُن کا انسداد کرے گا۔ کئی ڈیویژنس کو بھی انتظامی تبدیلیوں کے تحت ضم کردیا گیا ہے۔ موجودہ طور پر وزارت داخلہ کے داخلی سلامتی کے بارے میں تین ڈیویژنس ہیں جو داخلی سلامتی I ، II اور III (یا IS-I، IS-II اور IS-III) ہیں۔ وزارت داخلہ نے اپنے ڈیویژن داخلی سلامتی ۔ I اور داخلی سلامتی ۔ III کو ضم کرنے کے علاوہ آئی ایس ۔ II ڈیویژن میں تبدیلیاں لائی ہیں جسے اب سی ٹی سی آر کے نام سے جانا جائے گا۔ موجودہ بین الاقوامی تعاون سے متعلق ڈیویژن جو بین الاقوامی / باہمی سلامتی کے مسائل سے متعلق اُمور سے نمٹتا ہے، اُسے کوآرڈی نیشن اینڈ / گریونس ڈیویژن کے ساتھ ضم کیا گیا ہے۔ اس میں سے ایک نیا ڈیویژن کوآرڈی نیشن اینڈ انٹرنیشنل کوآپریشن تشکیل دیا گیا ہے۔ اِسی طرح جوڈیشیل ونگ کو سنٹر ۔ اسٹیٹ ڈیویژن کے ساتھ ضم کیا گیا ہے۔ سنٹر ۔ اسٹیٹ ونگ دستوری دفعات سے متعلق کام دیکھتی ہے جیسے گورنروں کا تقرر، نئی ریاستوں کی تشکیل، راجیہ سبھا / لوک سبھا کے لئے نامزدگیاں، بین ریاستی سرحدی تنازعات وغیرہ شامل ہیں۔ وزارت میں 18 ڈیویژنس برقرار رہیں گے اور ہر ایک کی قیادت جوائنٹ سکریٹری سطح کا آفیسر کرے گا۔

ججوں کے نام پر رشوت خوری کا الزام سنگین : سپریم کورٹ
نئی دہلی 10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج ججوں کے نام پر رشوت خوری کے الزامات کو نہایت سنگین قرار دیا اور ادعا کیاکہ کسی کو بھی انصاف کے نظام کو ناپاک کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عدالت عظمیٰ نے کہاکہ کوئی بھی چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ، قانون سے بچ نہیں سکتا اور انصاف ہوکر رہے گا۔ جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس اشوک بھوشن کی بنچ نے کہاکہ کوئی بھی اِس کیس کی اہمیت کو نہیں گھٹاسکتا کیونکہ الزامات نہایت سنگین اور غور و خوض کے متقاضی ہیں۔

 

TOPPOPULARRECENT