Friday , November 17 2017
Home / عرب دنیا / انسداد دہشت گردی اور تجارت میں اعلیٰ شراکت داری متوقع

انسداد دہشت گردی اور تجارت میں اعلیٰ شراکت داری متوقع

دورہ متحدہ عرب امارات ‘ ایران معاہدہ سے مثبت توقعات ‘ روزنامہ خلیج ٹائمز کومودی کا انٹرویو

ابوظہبی۔ 16اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) اماراتی قیادت  کے ساتھ مذاکرات سے قبل وزیراعظم نریندر مودی نے کہاکہ خلیجی ممالک ہندوستان کی معیشت ‘ برقی توانائی اور صیانتی مفادات کیلئے اہمیت رکھتے ہیں اور وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات تجارت اور انسداد دہشت گردی میں ہندوستان کا اعلیٰ ترین شراکت دار ہو ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے کئی مشترک صیانتی اور دفاعی اندیشے اس علاقہ کے بارے میں ہیں جن میں دہشت گری اور انتہا پسندی بھی شامل ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ دفاعی شراکت داری خاص طور پر صیانت ‘ برقی توانائی اور سرمایہ کاری کے شعبہ میں پروان چڑھاناچاہتے ہیں ۔ عرب معیشت تیز ترین رفتار سے فروغ پا رہی ہے جس کی وجہ اس کی بصیرت افروز اور حکمت عملی پر عمل پیرا قیادت ہے ۔ مودی پہلے وزیراعظم ہندوستان ہیں جو گذشتہ 34سال میں متحدہ عرب امارات کا دورہ کررہے ہیں ۔ وہ شیخ محمد بن زاید النہیان ‘ ولیھد شہزادہ ابوظہبی اور شیخ محمد بن راشد المختوم نائب صدر و وزیراعظم متحدہ عرب امارات سے اپنے دورہ کے دوسرے دن بات چیت کریں گے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ کئی مشترکہ صیانتی و دفاعی اندیشے اس علاقہ میں موجود ہیں جن میں دہشت گردی اور انتہا پسندی بھی شامل ہیں ۔

ہندوستان اور متحدہ عرب امارات ہر چیز کو ایک دوسرے کیلئے اولین ترجیح دیتے ہیں‘ اسی طریقہ سے وہ متحدہ عرب امارات کو بھی ترجیح دیتے ہیں ۔ خلیجی ممالک ہندوستانی معیشت ‘ برقی توانائی اور صیانتی مفادات کیلئے اہمیت رکھتے ہیں ۔ مودی روزنامہ خلیج ٹائمز کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنا علاقائی دورہ متحدہ عرب امارات سے شروع کیا ہے جس سے ہندوستان کی جانب سے امارات کو دی جانے والی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ مودی نے کہا کہ وہ ایک حقیقی ‘ جامع اور دفاعی شراکت داری دونوں ممالک کے درمیان دیکھنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات تجارت اور سرمایہ کاری میں ہندوستان کا سب سے بڑا شراکت دار ہو ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم باقاعدہ اور مؤثر تعاون صیانتی چیلنجوں کے مکمل شعبہ میں پیدا کریں گے ۔ ہماری افواج ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ ربط پیدا کریں گی ۔ ہم زیادہ قربت کے ساتھ بین الاقوامی فورم میں علاقائی چیلنجوں کا سامنا کرنے کیلئے کام کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری رشتہ داری کی کوئی حدود نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی انسانیت کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے ۔ تمام ممالک جو انسانیت میں یقین رکھتے ہیں انہیں بلاتاخیر متحد ہوجانا چاہیئے ۔ یہ دہشت گردی کی طاقتوں کے چیلنج کے پیش نظر بہت ضروری ہے ۔

نریندر مودی نے کہا کہ جہاں تک ہندوستانی برادری کا تعلق ہے ہندوستان میں جو زبانیں بولی جاتی ہیں وہ تمام متحدہ عرب امارات میں بھی بولی جاتی ہیں ۔ متحدہ عرب امارات ایک چھوٹا ہندوستان ہے جس طریقہ سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ خصوصی تعلق کا مظاہرہ کررہے ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہندوستانی برادری نہ صرف اپنے میزبان ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کررہی ہے بلکہ ہندوستان کی معاشی ترقی میں بھی رقومات روانہ کرتے ہوئے اپنا حصہ ادا کررہی ہے ۔ متحدہ عرب امارات میں26لاکھ ہندوستانی ہیں جو یہاں کی جملہ آبادی کا ایک تہائی ہے ۔ عالمی اعتبار سے دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط ہیں اور عوام سے عوام کے روابط بھی زیادہ ہیں ۔ ہندوستان کے کردار کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ خلیجی ممالک اور مشرق وسطی ٰ سے ہمارے تعمیری اور مثبت تعلقات ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان کی اجتماعی کوششیں تمام ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعہ علاقائی امن و استحکام پیدا کرنا ہے جو ہم سب کے مفاد میں ہیں ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران کا نیوکلیئر معاہدہ اس علاقہ میں عدم استحکام کی وجہ نہیں بنے گا بلکہ علاقائی مشاورت اور تعاون ‘ باہمی اعتماد میں اضافہ ہوگا اور علاقہ میں پائیدار مستحکم امن قائم ہوگا ۔بیرونی مداخلت کے بارے میں انہوں نے کہاکہ ہم اس کے نتائج اچھی طرح دیکھ چکے ہیں ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT