Saturday , September 22 2018
Home / Top Stories / انسداد دہشت گردی میں سری لنکا سے مزید تعاون کی اپیل

انسداد دہشت گردی میں سری لنکا سے مزید تعاون کی اپیل

کولمبو 13 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) یہ واضح کرتے ہوئے کہ ہندوستان اور سری لنکا کی سکیوریٹی الگ نہیں ہے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج دونوں ملکوں کے مابین اہم شعبہ جات میں وسیع تر تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ خاص طور پر آبی سکیوریٹی اور انسداد دہشت گردی کیلئے دونوں ملکوں کے مابین تعاون ہونا چاہئے ۔ سری لنکا کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہو

کولمبو 13 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) یہ واضح کرتے ہوئے کہ ہندوستان اور سری لنکا کی سکیوریٹی الگ نہیں ہے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج دونوں ملکوں کے مابین اہم شعبہ جات میں وسیع تر تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ خاص طور پر آبی سکیوریٹی اور انسداد دہشت گردی کیلئے دونوں ملکوں کے مابین تعاون ہونا چاہئے ۔ سری لنکا کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ سری لنکا کا اتحاد اور اس کی سکیوریٹی ہندوستان کیلئے اہمیت کی حامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا میں حالیہ انتخابات سے تبدیلی کی امید پیدا ہوئی ہے اور ملک میں مصالحت کی فضا پیدا ہوسکتی ہے۔

انہوں نے ترقی کی سمت سفر میں سری لنکا کیلئے ہندوستان کی غیر متزلزل تائید کا اعلان کیا ۔ سری لنکا کی پارلیمنٹ سے خطاب کرنے والے نریندر مودی ہندوستان کے چوتھے وزیر اعظم بن گئے ہیں ۔ اس سے قبل پنڈت جواہر لال نہرو ‘ اندرا گاندھی اور مرارجی دیسائی نے بھی سری لنکا پارلیمنٹ سے خطاب کیا تھا ۔ سکیوریٹی چیلنجس پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو سمندری حدود میں تعاون میں اضافہ کرنے مل کر کام کرنا چاہئے تاکہ دہشت گردی اور تخریب کاری سے کامیابی سے نمٹا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کے ساتھ سکیوریٹی تعاون کو ہندوستان بہت اہمیت دیتا ہے ۔ ہم کو آبی سکیوریٹی میں اضافہ کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ دوسروں کو بحیرہ ہند کے علاقہ میں سرگرم رکھا جاسکے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین اس شعبہ میں تعاون پرامن ‘ محفوظ ‘ مستحکم اور خوشحالی آبی پڑوسی کو یقینی بنانے بہت ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بحیرہ ہند دونوں ممالک کی سکیوریٹی اور خوشحالی کیلئے ضروری ہے اور اگر ہم مل جل کر کام کریں تو زیادہ کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کیلئے مقامی خطرات برقرار ہیں ۔

عالمی سطح پر بھی دہشت گردی کا مسئلہ بڑھ رہا ہے ایسے میں باہمی تعاون سے حالات سے بہتر مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔ گذشتہ 28 سال کی روایات سے انحراف کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی آج سری لنکا کے اہم ترین دورہ پر وہاں پہونچے اور انہوں نے یہ پیام دیا کہ ہندوستان چاہتا ہے کہ سری لنکا میں ٹاملوں کو امن و مصالحت کے نئے سفر میں مساوات ‘ انصاف ‘ امن اور احترام کی زندگی حاصل ہوجائے ۔ 1987 میں راجیو گاندھی کے دورہ سری لنکا کے بعد جزیرہ نما مملکت کا دورہ کرنے والے پہلے وزیر اعظم مودی نے صدر سری لنکا مائتری پالا سری سینا سے ملاقات کی اور سری لنکا کیلئے ایک اجتماعی مستقبل بنانے ان کی کوششوں کی ستائش کی ۔

تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ ہندوستان کیلئے سری لنکا کا اتحاد اور اس کی سالمیت بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ سری لنکا نے تقریبا تین دہوں تک علیحدہ ٹامل ایلم کے مطالبہ پر ایل ٹی ٹی ای کے ساتھ لڑائی کی تھی ۔ مودی نے سری لنکا پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ خود ہمارے مفاد میں ہے۔ وزیر اعظم مودی کی صدر سری لنکا سے وفد کی سطح پر ملاقات بھی ہوئی جس کے بعد چار معاہدات پر دستخط ہوئے۔ ان میں ویزا قوانین میں نرمی لانے کا معاہدہ بھی شامل ہے ۔ باہمی معاشی تعلقات کو آگے بڑھانے کی اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک نے تجارت کو سہل اور آسان بنانے کے اقدامات پر بھی زور دیا اور کسٹمز تعاون پر ایک معاہدہ پر دستخط بھی کئے ۔ بعد ازاں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیر اعظم نے خود اس دورہ کی اہمیت کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس دورہ سے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کو بہتر انداز میں سمجھنے اورتعلقات کو آگے بڑھانے میں مدد مل رہی ہے ۔ صدر سری لنکا نے کہا کہ ہم نے دیکھا تھا کہ مختلف وقتوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات کمزور ہوگئے تھے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم کو سری لنکا کا دورہ کرنے 28 سال کا وقت لگ گیا ۔ سری لنکا میں سماج کے تمام طبقات بشمول ٹاملوں کیلئے مساوات ‘ انصاف ‘ امن اور احترام پر مبنی زندگی کو یقینی بنانے سری لنکا کی کوششوں کی تائید کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ ہمارا یہ ماننا ہے کہ 13 ویں ترمیم پر جلد اور مکمل عمل آوری اور اس سے بڑھ کر بھی اقدامات کرنے کے نتیجہ میں یہ مقصد پورا ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT