Thursday , November 23 2017
Home / ہندوستان / انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں شفافیت کی ضرورت

انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں شفافیت کی ضرورت

وزیر اعظم نریندر مودی سے شاہی امام سید احمد بخاری کی نمائندگی
نئی دہلی۔/9فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) دولت اسلامیہ ( آئی ایس آئی ایس ) سے تعلقات کے شبہ میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شاہی امام جامع مسجد سید احمد بخاری نے آج وزیر اعظم نریندر مودی پر زور دیا کہ مشتبہ عسکریت پسندوں کو حراست میں لیتے وقت شفافیت سے کام لیا جائے ۔ وزیر اعظم سے ملاقات کے موقع پر امام بخاری نے یہ تجویز پیش کی کہ تعلیمی اداروں میں خصوصی لکچرس کے ذریعہ طلباء کو یہ بتایا جائے کہ اسلام اور دیگر مذاہب میں دہشت گردی کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے تاکہ عقیدہ کے نام پر ان کی ذہنی تطہیر کی کوششوں کو ناکام بنایا جاسکے۔ نریندر مودی سے ملاقات کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے امام بخاری نے کہا کہ میں نے یہ پرزور مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں یا آئی ایس آئی ایس سے تعلقات کے شبہ میں نوجوانوں کی گرفتاری کیلئے سیکوریٹی ایجنسیوں کی کارروائی میں مزید شفافیت پیدا کی جائے اور محض شبہ کی بنیاد پر بے قصور مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنانے سے روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کی گرفتاری کے خلاف نہیں اور نہ ہی انہیں بخش دینے کے حق میں ہیں تاہم سماجی میڈیا پر مشتبہ سرگرمیوں کی بناء مخصوص فرقہ کے لوگوں کو حراست میں لینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ شاہی امام نے کہا کہ اگر کوئی نوجوان مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث پایا جاتا ہے تو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دینے کی بجائے کونسلنگ کی جائے اور نوجوانوں کو ابتداء سے ہی یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اسلام یا ہندو دھرم یا دیگر مذاہب دہشت گردی کی تائید نہیں کرتے اور اگر کوئی عقیدہ کے نام پر ذہن سازی کی کوشش کرے تو اس کے شکنجہ میں نہ آئیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو یہ تجویز پیش کی گئی کہ تعلیمی اداروں میں دہشت گردی کے خلاف شعور بیدار کرنے کیلئے سال میں دو تین مرتبہ خصوصی لکچرس کا اہتمام کیا جائے۔ علاوہ ازیں30منٹ کی ملاقات کے دوران شاہی امام نے وزیر اعظم سے گذارش کی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار برقرار رکھا جائے اور سپریم کورٹ میں بھی حکومت مثبت انداز میں اپنا موقف پیش کرے کیونکہ اقلیتی تعلیمی اداروں کے بارے میں حکومت کے متضاد موقف سے اقلیتوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے فوری بعد اقلیتوں کے ایک وفد کے ساتھ وزیر اعظم سے دوبارہ ملاقات کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT