Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / انسداد غیر قانونی سرگرمیاں ایکٹ 1967 کے تحت پولیس کے زائد اختیارات کا جائزہ لینے کا تیقن

انسداد غیر قانونی سرگرمیاں ایکٹ 1967 کے تحت پولیس کے زائد اختیارات کا جائزہ لینے کا تیقن

مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے کا جناب عابد رسول خاں چیرمین ریاستی اقلیتی کمیشن کو مکتوب

مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے کا جناب عابد رسول خاں چیرمین ریاستی اقلیتی کمیشن کو مکتوب

حیدرآباد۔/21مارچ، ( سیاست نیوز) مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے صدر نشین ریاستی اقلیتی کمیشن عابد رسول خاں کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے انسداد غیر قانونی سرگرمیاں ایکٹ 1967ء میں شامل پولیس کو زائد اختیارات کا جائزہ لینے کا تیقن دیا ہے۔ سابق صدر نشین دہلی اقلیتی کمیشن کمال فاروقی کی قیادت میں ایک وفد نے ریاستی اقلیتی کمیشن کو ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے اس قانون میں شامل سخت قواعد کا حوالہ دیا جس کے ذریعہ اقلیتی نوجوانوں کی بیجا گرفتاریوں کی صورتحال پیدا ہوگی۔ ٹاڈا اور پوٹا قوانین میں جس طرح کے اُمور شامل کئے گئے تھے اسی طرح کے اُمور اس نئے قانون میں بھی شامل ہیں۔ وفد نے بتایا تھا کہ اس قانون کے تحت آندھرا پردیش میں بھی متعدد مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ اس قانون میں ترمیم کے سلسلہ میں مرکز سے نمائندگی کی خواہش کی گئی۔صدر نشین اقلیتی کمیشن نے اس قانون میں کی گئی ترمیمات کا جائزہ لیا۔ 2008 اور 2012ء میں ہوئی ترمیمات کا استعمال کرتے ہوئے قانونی ایجنسیاں مسلمانوں اور دلتوں کی گرفتاری عمل میں لارہی ہیں۔ ان ترمیمات کے تحت گرفتار شدہ افراد کی ضمانت پر رہائی کے امکانات موہوم ہیں۔ پولیس کو اس بات کی گنجائش فراہم کی گئی ہے کہ وہ ان مقدمات کے شواہد کو ظاہر نہ کرے۔ عابد رسول خاں نے قانون میں شامل اس دفعہ پر حیرت کا اظہار کیا جس میں ایک عام جلسہ کو بھی پولیس ملک کے خلاف سازش تصور کرسکتی ہے۔ انہوں نے اس قانون کے غلط استعمال کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ سے اس معاملہ کا جائزہ لینے کی خواہش کی۔ سشیل کمار شنڈے نے اعلیٰ سطح پر معاملہ کی جانچ کا تیقن دیاہے۔

TOPPOPULARRECENT