Wednesday , December 19 2018

انسداد فرقہ وارانہ فسادات بل کی منظوری ضروری : شاہی امام

نئی دہلی ۔ 8 اگست (فیکس) شاہی امام مسجد فتحپوری دہلی مفتی محمد مکرم احمد نے آج جمعہ کی نماز سے قبل کہا کہ ملک کے مسلمانوں کو صبروتحمل کے ساتھ حالات کا ہوشمندی کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہئے اور فرقہ پرستوں کی ناپاک کوشش کو ناکام بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں انسداد فرقہ وارانہ فسادات بل منظور ہونے کی ضرورت ہے۔ کچھ شرپسند اور اشتع

نئی دہلی ۔ 8 اگست (فیکس) شاہی امام مسجد فتحپوری دہلی مفتی محمد مکرم احمد نے آج جمعہ کی نماز سے قبل کہا کہ ملک کے مسلمانوں کو صبروتحمل کے ساتھ حالات کا ہوشمندی کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہئے اور فرقہ پرستوں کی ناپاک کوشش کو ناکام بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں انسداد فرقہ وارانہ فسادات بل منظور ہونے کی ضرورت ہے۔ کچھ شرپسند اور اشتعال انگیز تنظیمیں کسی بھی بہانے ملک میں فساد کراکے اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ آج کل مغربی یو پی میں ان کی سرگرمیاں بہت بڑھ رہی ہیں اور کھرکھودا ضلع میرٹھ اور سراوا گاؤں ضلع ہاپوڑ کے ایک معمول کے واقعہ پر جس طرح مسلم اقلیت پر الزامات عائد کئے جارہے ہیں اور فساد برپا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ بہت افسوسناک ہے۔ ایک مکتب میں لڑکی کے درس دینے اور تبدیلی مذہب کی بات کی تحقیقات کے بعد کارراوئی ہوسکتی ہے۔ نیز متاثرہ نے ایف آئی آر درج کرادی ہے تو معاملہ قانون سے حل ہوسکتا ہے۔

لہٰذا کچھ شرپسند فرقہ پرست کئی روز سے پورے علاقے میں ہنگامہ مچائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے مسلمان ان علاقوں سے اپنے گھر خالی کرکے دوسری جگہ منتقل ہورہے ہیں اور یہ سلسلہ بہت دنوں سے متعدد علاقوں میں چل رہا ہے اس کا سدباب ضروری ہے۔ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جانی چاہئے۔ یو پی کی ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کو ان حالات پر جلد از جلد نوٹس لے کر مسلمانوں کے تحفظ کے لئے فوری کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ شاہی امام نے کہا کہ زبردستی تبدیلی مذہب کرانے کا الزام مسلمانوں پر لگانا سراسر غلط ہے۔ مذہب اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور مسلمان کبھی بھی اس عمل میں ملوث نہیں پائے گئے۔ یہ الزام برسوں سے لگایا جارہا ہے لیکن اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا۔ شاہی امام نے چین کے صوبہ سنکیانگ میں مسلمانوں کی داڑھی اور عورتوں کے حجاب پر پابندی عائد کرنے اور انہیں عوام کے ساتھ بس میں سوار ہونے پر عائد پابندی کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ چین میں مسلمان ایک طویل عرصہ سے آباد ہیں اور وہاں کی حکومت نے اس طرح پہلے اعتراض نہیں کیا تو اب کیا پریشانی ہورہی ہے۔ داڑھی سے عام لوگوں کو کیا پریشانی ہے اور حجاب عورتوں کی عصمت دری و آبرو کی حفاظت میں معاون ہوتا ہے تو اس پر حکومت کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ شاہی امام نے چین کی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ حجاب اور ریش پر پابندی کے فیصلہ پر نظرثانی کی جائے اور کسی طرح کی بھی پابندی نہ لگائی جائے۔ شاہی امام نے اسرائیلی مصنوعات کی مکمل بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہوئے اسرائیل کی جارحیت اور فلسطینیوں کی ہلاکت پر شدید غم کا اظہار کیا اور اسرائیل اور فلسطین کی فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے انتہاء پسند گروپ کے مسجد اقصیٰ پر دھاوے کی بھی شدید مذمت کی اور یو این او سے مطالبہ کیا کہ اپنے اختیارات پر عمل کراتے ہوئے امریکہ کی اسرائیل کو مدد بند کرائی جائے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT