Monday , July 23 2018
Home / ہندوستان / انسداد ٹیکس چوری اقدامات سے جی ایس ٹی مستحکم ہوگا

انسداد ٹیکس چوری اقدامات سے جی ایس ٹی مستحکم ہوگا

آئندہ مالی سال سے نئے ٹیکس سسٹم کی وصولیات ایک لاکھ کروڑ ماہانہ ہوجانے کی توقع
نئی دہلی ۔ 13 فبروری ۔( سیاست ڈاٹ کام ) گڈس اینڈ سرویسس ٹیکس سے حاصل ہونیوالی وصولیات آئندہ مالی سال کے اختتامی مراحل تک ایک لاکھ کروڑ روپئے سے تجاوز کرسکتی ہیںجبکہ انسداد ٹیکس چوری اقدامات نافذالعمل ہوجائیں گے، جیسے ٹیکس ڈاٹا اور e-way بل لاگو ہوجائیں گے ، وزارت فینانس کے عہدیداروں نے آج یہ بات کہی۔ انھوں نے بتایا کہ جیسے ہی جی ایس ٹی ریٹرن داخل کرنے کے عمل میں پوری طرح استحکام آجائے گا ڈائرکٹریٹ جنرل آف انالیٹکس اینڈ ریسک مینجمنٹ کو پوری طرح سرگرم کردیا جائے گا اور وہ جی ایس ٹی معہ انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے والے افراد کے بارے میں معلومات کی تصدیق کرے گا ۔ حکومت نے یکم اپریل کو شروع ہونیو الے مالی سال 2018-19 ء میں جی ایس ٹی سے تقریباً 7.44 لاکھ کروڑ روپئے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا ہے ۔ جاریہ مالی سال کے آٹھ ماہ (جولائی تا فبروری) میں تخمینی وصولیات 4.44 لاکھ کروڑ روپئے رکھی گئی ہیں۔ مارچ کی وصولیات اپریل میں محسوب ہوں گی جو نئے مالی سال 2018-19ء کی شروعات ہے ۔ عہدیداروں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لئے وصولیات کے تخمینے معقولیت پسندی کے ساتھ کئے گئے ہیں اور یہ حکومت کے طئے شدہ اقدامات کو عمدگی سے لاگو کرنے کی صورت میں بڑھ سکتے ہیں۔ جی ایس ٹی جسے گزشتہ سال یکم جولائی سے لاگو کیا گیا ، اُس کے تحت پہلے ماہ کی وصولیات محض زائد از 95,000 کروڑ روپئے رہی جبکہ اگسٹ میں یہ قدر صرف 91,000 کروڑ روپئے سے کچھ زیادہ ہی رہ گئی ۔ سپٹمبر میں یہ عدد 92,150 کروڑ روپئے ، اکٹوبر میں 83,000 کروڑ ، نومبر میں 80,808 کروڑ اور ڈسمبر میں 86,373 کروڑ روپئے درج کیا گیا ۔ ڈسمبر 2017ء تک 98 لاکھ کاروباروں کا جی ایس ٹی سسٹم کے تحت رجسٹریشن ہوگیا ۔ وزارت کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق جلد ہی جی ایس ٹی ریٹرنس میں صراحت کردہ سالانہ کاروبار کی تنقیح یا جانچ کا عمل بھی شروع کیا جائے گا جس کے لئے محکمہ انکم ٹیکس کے پاس داخل کردہ انکم ٹیکس ریٹرنس کو بروئے کار لایا جائے گا ۔ یہ عمل آئندہ مالی سال کے دوسرے نصف میں شروع ہوسکتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ جیسے ہی ان اقدامات پر عمل شروع ہوجائے کوئی وجہ نہیں کہ جی ایس ٹی وصولیات اوسطاً ایک لاکھ کروڑ روپئے ماہانہ نہیں ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT