انسٹی ٹیوٹ آف ریلوے فینانس مینجمنٹ کو بجٹ مقرر

حیدرآباد 11 فروری (سیاست نیوز) شہر میں شروع کردہ تمام ریلوے پراجکٹس کے لئے مرکزی حکومت کی جانب سے بے حد ناکافی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ کئی برس سے زیرالتواء ریلوے پراجکٹس کے لئے صرف اور صرف پانچ چھ کروڑ کا ہی بجٹ منظور کیا گیا۔ البتہ انسٹی ٹیوٹ آف ریلوے فینانس مینجمنٹ کے لئے 5 کروڑ کا بجٹ مختص کیا گیا۔ اس پراجکٹ کو مولا علی میں تعمیر کرنے سے متعلق تجاویز تیار کی گئی ہیں۔ اگر یہ پراجکٹ حیدرآباد میں وجود میں آجائے تو ملکی سطح پر انڈین ریلوے ایک سنگ میل کی حیثیت پالے گا اور تمام ریلوے زونس کے اکاؤنٹس آفیسرس اور ملازمین کو اس ادارے میں تربیت فراہم کی جائے گی اور آئندہ دو برس کے اندر اس تعلیمی ادارے کی تعمیر کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے اور شہر میں واقع مولا علی و ناگولا پلی ریلوے اسٹیشنوں میں مقامی ریلوے اسٹیشنس کی حیثیت دی جائے گی۔ مگر یہ تمام باتیں غیر واضح ہیں کہ ان دونوں ریلوے اسٹیشنوں میں کاموں کا آغاز کب ہوگا اور کتنا بجٹ مختص کیا گیا ہے اور اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ 25,000 ہزار مسافرین جن ریلوے اسٹیشنوں سے سفر کررہے ہیں، وہاں ایکسلیٹرس نصب کئے جائیں گے۔ اسی مناسبت سے شہر کے صرف ایک ریلوے اسٹیشن حفیظ پیٹ کو ہی منتخب کیا گیا ہے۔ سال گزشتہ سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کو ای ڈیولپمنٹ کرنے کے پراجکٹ کا اعلان کیا گیا تھا مگر اس معاملہ میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ ملکی سطح پر 600 ریلوے اسٹیشنس کو ترقی دینے کے مقصد سے ای ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ ساؤتھ سنٹرل ریلوے کے جی ایم ونود کمار یادو نے اعلان کیا ہے کہ اس کارپوریشن کے تحت ہی سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کو ای ڈیولپ کیا جائے گا۔ سال گزشتہ اگرچہ ٹنڈرس طلب کئے گئے تھے مگر کنٹراکٹرس ٹنڈرس قبول کرنے میں لیت و لعل کا شکار ہیںاور تعمیری اداروں نے لیز کی مدت صرف 40 برس ہونے سے فائدہ نہ ہونے کے اندیشوں کا اظہار کیا۔ جی ایم نے بتایا کہ اس مناسبت سے لیز کی مدت 99 برس کردی گئی ہے۔ ایم ایم ٹی ایس کے دوسرے مدتی کاموں کو ماہ ڈسمبر تک مکمل کرلیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT