Monday , December 18 2017
Home / اداریہ / انصاف و قانون کا دوہرا رویہ !

انصاف و قانون کا دوہرا رویہ !

انگریزی کی ایک کہاوت کا ترجمہ ہے کہ ’’آدمی اپنی صحبت  سے پہچانا جاتا ہے‘‘ اس تعلق سے یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ حکمراں طبقہ کے قائدین آدمی ہونے کے باوجود ان کی صحبت خراب ہے لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر وہ عوام کے بارے میں نہیں سوچیں گے اور انصاف کے حصول کے نام پر انصاف کا قتل کرنے کے مترادف اقدام کریں گے تو پھر یہ کہا جائے گا کہ ان کے اندر ضمیر نام کی چیز نہیں ہے۔ مالیگائوں بم دھماکہ میں خاطیوں کو بری کردیا گیا۔ انصاف کا گلہ گھونٹ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ مالیگائوں دھماکہ میں ہندو دہشت گرد ملوث نہیں تھے جبکہ اس حکومت میں گودھرا ٹرین آتشزگی واقعہ کے 14 سال بعد ایک شخص کو گرفتار کیا گیا۔ گجرات کی انسداد دہشت گردی اسکاڈ (اے ٹی ایس) نے 27 فروری 2002 ء کو گودھرا ریلوے اسٹیشن پر سابرمتی ایکسپریس ٹرین کو آگ لگانے کے الزام میں مبینہ طور پر اصل ملزم قراردے کر گرفتار کیا ہے۔ اس آتشزنی کے بعد گجرات میں خون ریز فرقہ وارانہ فسادات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ سابرمتی ایکسپریس کے کوچ S6 کو آگ لگانے کے واقعہ میں 59 لوگ مارے گئے تھے جبکہ مابعد گودھرا فسادات میں گجرات کے مسلمانوں کے آنگن میں موت کا ننگا ناچ برپا کیا گیا تھا۔ اس کیس میں 2011ء میں 31 افراد کو خصوصی عدالت نے سزاء دی تھی اور 63 کو بری کردیا تھا جبکہ 11 کو سزائے موت دی گئی تھی ماباقی 20 عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ گودھرا واقعہ کے اصل ملزم فاروق بہنا مفرور بتائے گئے تھے۔ ان کی گرفتاری ایک ایسے وقت عمل میں آئی جب مالیگائوں دھماکوں کے خاطیوں کے تعلق سے مبینہ طور پر عدلیہ کا استعمال بھی سیاسی اغراض کے تحت کرتے ہوئے الزامات منسوبہ سے بری کردیا گیا۔ حکومت کی سطح پر انصاف کے تقاضوں کو پامال کیا جائے تو یہ ہندوستانی معاشرہ کے لئے بھی بدترین واقعہ کہلائے گا۔ اسی حکومت نے ایک کیس میں قانون کے سہارے بے قصور افراد کو پھانسنے کے منصوبے تیار کرتی ہے اور دوسرے معاملہ میں خاطیوں کو کلین چٹ دیا جاتا ہے تو یہ سراسر انصاف کا قتل قرار پائے گا اس طرح کی منفی سیاست اور مثبت سیاست کے فرق کے ساتھ حکومت کے فرائض انجام نہیں دیئے جاسکتے۔ 2008ء کے مالیگائوں دھماکہ میں سادھوی پرگیہ کو کلین چٹ دینا اور دیانتدار پولیس عہدیدار ہیمنت کرکے کی تیار کردہ رپورٹ کو غلط قرار دینا ایک دیانتدار پولیس عہدیدار کی توہین ہے جس نے اپنی جان دے کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا تھا۔ اب ہیمنت کرکرے اس دنیا میں نہیں ہیں کہ وہ اپنی صفائی میں بیان دے کر یہ ثابت کرسکیں کہ ان کی تحقیقات پر مبنی رپورٹ درست اور سچ ہے۔ ہیمنت کرکے نے مہاراشٹرا انسداد دہشت گردی اسکاڈ کے سربراہ کی حیثیت سے مالیگائوں دھماکہ کیس کی تحقیقات کی تھی۔ جو ممبئی میں 26/11 دہشت گرد حملہ میں ہلاک ہوئے تھے۔ اس طرح دو کیسوں میں حکومت کی دلچسپی پر کئی سوال اٹھتے ہیں۔ آخر حکومت نے مالیگائوں کیس میں اچانک رخ کیوں موڑ لیا اور گودھرا ٹرین آتشزنی کیس میں 14 سال کے مفرور ملزم کا برسوں سے تعاقب کئے بغیر اب گرفتار کرلینا کئی شبہات کو جنم دیتا ہے۔ اپوزیشن کی رائے میں حکومت کے ارادے یہی معلوم ہوتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو بچانا چاہتی ہے جو ہندو دہشت گرد گروپ کا لیبل رکھتے ہیں ۔ گودھرا واقعہ کے 14 سال بعد کیس کا تعاقب کرتے ہوئے خاطیوں کو سزا دینے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ زعفرانی دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے آر ایس ایس کے امکانات کو روبہ عمل لانے کی خاطر قومی تحقیقاتی ایجنسی کو استعمال کیا جارہا ہے۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی ہی اگر سنگین خدمات کے معاملہ کو کمزور کرنے کی کوشش کرے اور خاطیوں کو کلین چٹ دینے کے اسباب فراہم کرے تو پھر اس ملک میں انصاف و قانون پر یقین کرنے والوں کو شدید صدمہ ہوگا۔ اگر حکمراں طبقہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے بجائے انصاف کا گلا گھونٹ دے تو اس کی سنگینیاں تعاقب کریں گی۔مرکز میں اقتدار رکھنے والی پارٹی کو سرکاری مشنری کے استعمال میں لفظ ’’بیجا‘‘ کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ آنے والے دنوں میں اقتدار کا مرکز کسی بھی پارٹی کے ہاتھ جاسکتا ہے اور ہر آنے والی پارٹی قانون و انصاف کے معیارات کو دوہرا بنانے کی کوشش کرے گی تو یہ سراسر من مانی کہلائے گی۔

TOPPOPULARRECENT