Saturday , December 16 2017
Home / اداریہ / انصاف کا قتل

انصاف کا قتل

تمہاری راہ میں چلنے کی جس کو عادت ہے
مجھے یقین نہیں وہ سنبھلنے والا ہے
انصاف کا قتل
ہندوستان میں تین سال قبل ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا جس نے سارے ملک کو ہلا کر رکھ دیا اور سماج کے ہر گوشہ سے صدائے احتجاج بلند کی گئی جس کے بعد یہ بھی ضروری محسوس ہوا کہ ایسے سخت قوانین وضع کیے جائیں جن کے ذریعہ سنگین جرائم پر قابو پانے میں مدد مل سکے اور مجرمین کو عبرتناک سزا یقینی ہو ۔ لیکن ایسے موقع پر جب کہ ملک بھر میں لوگ اس واقعہ کے تین برس گزرنے کی یاد منا رہے تھے انہیں یہ افسردہ خبر ملی کہ اس گھناونے جرم میں ملوث ایک نابالغ کو رہا کردیا گیا ہے ۔ عوام کی تشویش پھر ایک بار بڑھ گئی اور یہ اندیشے پیدا ہونے لگے ہیں کہ کیا ہمارا سیاسی و قانونی نظام اس قدر کمزور ہوگیا ہے کہ ایک ایسے مجرم کو جو سماج پر ایک کلنک بن چکا ہے ۔ سزا کی بجائے قید سے بھی آزادی دے دی جائے ۔ یہ اطلاع اس لڑکی کے والدین پر ہی نہیں بلکہ زندہ سماج کے ہر باشعور شہری کے دل پر بجلی بن کر گری کیوں کہ یہاں تو انصاف کا قتل ہورہا ہے اور قانون میں پائی جانے والی بعض خامیوں کے ذریعہ انصاف کا گلا گھونٹا جارہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس متاثرہ لڑکی کے والدین جسے نربھئے کا نام دیا گیا درست کہا کہ ان کا دل ٹوٹ چکا ہے ۔ وہ انصاف کے بارے میں اب مایوس ہوگئے ہیں ۔ ان کے لیے ایک اور افسوسناک واقعہ یہ بھی رہا کہ مجرم کی رہائی کے خلاف احتجاجی دھرنا کرنے کی پاداش میں پولیس نے ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا ۔ اگر ہمارے ملک میں انصاف رسانی کا عمل اس طرح سست اور ناکارہ ہوجائے تو پھر مجرمین کے حوصلے بلند ہوں گے ۔ عوام مظالم کا شکار ہوتے رہیں گے ۔ نابالغ مجرم کی رہائی کو روکنے دہلی خواتین کمیشن نے بھی لمحہ آخر تک کوشش کی اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس لیے صدر نشین کمیشن سواتی ملیوال نے یہ بالکل درست کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں خواتین کے لیے یہ یوم سیاہ ہے ۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ اب تک ہم موم بتی جلوس لیے احتجاج کررہے اور غم منا رہے تھے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ موم بتی پھینک کر مشعل اٹھالیں ۔ یاد رہے 16 دسمبر 2012 کی شب جنوبی دہلی میں 23 سالہ طالبہ کی چھ افراد بشمول ایک نابالغ نے چلتی بس میں اجتماعی عصمت ریزی کی اور اسے انتہائی درجے کی ناقابل بیان اذیت پہنچائی گئی۔ یہ لڑکی کچھ دن تک موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا رہی اور ملک میں عوامی برہمی کو دیکھتے ہوئے حکومت نے بہتر سے بہتر علاج کی فراہمی کو یقینی بنایا لیکن سنگاپور کے ہاسپٹل میں اس کی موت واقع ہوگئی ۔ اس واقعہ کے بعد حکومت نے بھی یہ محسوس کیا کہ ایک سخت قانون ضروری ہے چنانچہ اس لڑکی کو جسے ’ نربھئے ‘ کا نام دیا گیا ۔ ایک قانون متعارف کیا گیا ۔ جس میں جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں تجویز کی ہیں ۔ نابالغ شخص کے اس جرم میں ملوث ہونے پر سزا کو یقینی بنانے کے لیے جیونائیل ایکٹ میں ترمیم کی تجویز پیش کی گئی تھی لیکن تین سال گزرنے کے بعد بھی یہ ترمیم راجیہ سبھا میں زیر تصفیہ ہے ۔ اب جب کہ نابالغ کو تین سال کے بعد رہا کردیا گیا اور ایک بار پھر عوام نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے تب حکومت ہوش میں آئی اور راجیہ سبھا میں یہ ترمیمی بل پیش کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اس حقیقت کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ حکومت نے اب تک خاموشی کیوں اختیار کی اور اس تساہل و لاپرواہی کی وجوہات کیا ہیں ۔ کیا عوامی مسائل بالخصوص خواتین پر مظالم کے واقعات روکنے سے حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں رہی ۔ اس بارے میں صرف سیاسی باتیں اور وعدے کئے جاتے رہے ہیں ۔ ملک میں عصمت ریزی ، قتل کے واقعات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ یہ بڑھتے ہی جارہے ہیں ۔ ایسے میں حکومت کو حقیقت پر مبنی لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا ۔ نربھئے کے والدین اس وقت ذہنی اذیت سے دوچار ہیں ان کے زخموں کا مداوا کرنے کی ضرورت ہے اور یہ اس وقت ممکن ہوگا جب حکومت اپنی ذمہ داری کو محسوس کرے ۔ مجرمین کو عبرت ناک سزا دے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ خواتین پر مظالم کے واقعات کا انسداد ہو اور انہیں بھی حقیقی معنوں میں سماج میں مساوی درجہ ملے ۔۔

TOPPOPULARRECENT