Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / انقرہ میں امن ریالی پر دہشت گرد حملہ ، 86ہلاک

انقرہ میں امن ریالی پر دہشت گرد حملہ ، 86ہلاک

Victims are helped following an explosion at the main train station in Turkey's capital Ankara, on October 10, 2015. At least 20 people were killed in the explosion which happened ahead of an anti-government peace rally organised by leftist groups later in the day, including the pro-Kurdish Peoples' Democratic Party (HDP). AFP PHOTO / FATIH PINAR

186 زخمی ، دلخراش مناظر، ملک میں امن و جمہوریت کو نقصان پہونچانے کی کوشش : ترک حکومت

انقرہ، 10 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں آج  امن ریالی کیلئے جمع ہونے والے کارکنوں کو دہشت گرد حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بائیں بازو اور موافق کرد اپوزیشن گروپس کی جانب سے منعقدہ اس ریالی میں دو بم دھماکے ہوئے جس کے نتیجہ میں کم از کم 86افراد ہلاک ہوگئے۔ دھماکوں کے بعد اس مقام پر ہر طرف انسانی اعضاء بکھرے پڑے تھے اور سماجی کارکنوں کے  بیانرس جو وہ اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے تھے، سڑکوں پر اِدھر اُدھر بکھر گئے۔ ترک وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس دہشت گرد حملے میں تقریباً 86افراد ہلاک اور دیگر 186زخمی ہوئے ہیں۔ اس بیان میں دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ہماری جمہوریت اور ہمارے ملک کے امن کو نقصان پہونچانے کے مقصد سے یہ تخریبی کارروائی کی گئی ہے۔ اس حملے کی ہم سخت سے مذمت کرتے ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔ قبل ازیں مہلوکین کی تعداد 30 بتائی گئی تھی

لیکن بعد میں کہا گیا کہ 62 افراد دھماکے کے بعد برسرموقع ہلاک ہوئے جبکہ مزید 24 دواخانہ میں زخموں سے جانبر نہ ہوسکے۔ترکی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس حملے کا دہشت گردی سے ربط کا شبہ ہے۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔ دھماکوں کے مقام پر افراتفری کا منظر تھا اور ایمبولینس گاڑیوں کو زخمی افراد کی تلاش کرتے ہوئے فوری ہاسپٹل منتقل کرتے دیکھا گیا۔ پولیس نے علاقہ کا محاصرہ کرلیا تھا۔ ایک 52 سالہ شخص احمد عنین نے بتایا کہ پہلے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی اور اس کے بعد پھر ایک اور کم شدت کا دھماکہ ہوا۔ عوام خوف کے عالم میں اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔ اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ پولیس اس مقام پر پہنچ چکی تھی۔ ایک اور شخص نے جو احتجاج میں شریک تھا، بتایا کہ امن کو فروغ دینے کیلئے جو ریالی منظم کی گئی، وہ ایک قتل عام میں تبدیل ہوگئی۔ یہ ان کیلئے ناقابل فہم ہے۔ وہ جب دھماکے کی تفصیل سنا رہے تھے، تو ان کی آنکھوں میں آنسو رواں تھے۔ ترک پولیس نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ کی۔ وہ اپنے ساتھیوں کی موت پر برہم تھے اور احتجاج پر اُتر آئے تھے۔ این ٹی وی پر جو فوٹیج دکھائے گئے، یہ کارکن ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے مسکرارہے اور رقص کررہے تھے کہ اچانک پیچھے سے دھماکہ کی آواز سنائی دی اور پھر وہ نیچے زمین پر گر پڑے۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا کہ ایک ہی بم دھماکہ ہوا لیکن ترک میڈیا نے بتایا کہ مختصر وقفے کے دوران دو دھماکے ہوئے۔ حکام کی جانب سے ان دھماکوں کی وجوہات کا پتہ چلانے کی کوشش کی جارہی ہے، اور یہ بھی معلوم کیا جارہا ہے کہ کیا یہ خودکش حملہ تھا۔ وزیراعظم احمد دعوت اوگلو کو اس دھماکے کے بارے میں واقف کرایا گیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی اناتولیا کے مطابق وزیر صحت محمد موذن اوگلو نے وزیراعظم کو اس دھماکے کے بارے میں تفصیل بتائی۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ہم دھماکے کی تحقیقات کررہے ہیں اور حقائق سے جلد از جلد عوام کو واقف کرایا جائے گا۔ یہ دھماکے ایسے وقت ہوئے جبکہ ترکی میں یکم نومبر کو انتخابات مقرر ہیں مگر گزشتہ چند ماہ سے یہاں بدامنی کی لہر پائی جاتی ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردغان نے ’’گھناؤنے حملے‘‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ’’ہمارے اتحاد اور ہمارے ملک کے امن‘‘ کو نشانہ بنانا ہے۔ امریکہ نے اس واقعہ کی مذمت کی اور وائٹ ہاؤس نے کہا کہ سکیورٹی چیلنج کی یاددہانی ہوئی ہے۔ وزیراعظم ہند نریندر مودی نے بھی مذمتی بیان جاری کیا۔

TOPPOPULARRECENT