Sunday , November 19 2017
Home / اضلاع کی خبریں / انقلابی جدوجہد کے باعث مسلمانوں کی پسماندگی کا اعتراف

انقلابی جدوجہد کے باعث مسلمانوں کی پسماندگی کا اعتراف

بی سی کمیشن بھی قائم لیکن موثر اقدامات اور محفوظ حکمت عملی سے حکومت کا گریز لمحہ فکر
سدی پیٹ۔ 5جنوری ( کلیم الرحمن کی رپورٹ ) سماج کی بھلائی اور ترقی سے متعلق فکرکرنا بھی ایک عبادت ہے ‘ فکر کرنے والے لوگ دنیا میں بہت ہی کم ہیں جن کو سماج اور ملت کی خدمت کا جذبہ رہتا ہے ۔ وہ شخصیتیں دنیا اور آخرت میں بھی کامیاب و کامران رہتی ہیں ۔ ہندوستان چونکہ ایک بین مذہبی ملک ہے جہاں پر کئی مذاہب کے لوگ گنگا جمنی تہذیب کی قدیم روایت برقرار رکھتے ہوئے آپسی حسن سلوک و خوشگوار انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں لیکن ملک میں پائے جانے والے اقوام کی تعداد یکساں نہیں ہے جسکی بنیاد پر ان کے معاشی ‘ سماجی ‘ تعلیمی میدان میں کسی قدر پسماندگی  ہے ۔ اسطرح کی صورت حال نوتشکیل شدہ ریاست تلنگانہ میں بھی ہے جہاں کئی مذاہب ‘ اقوام ہیں لیکن اقلیتوں کا جائزہ لینے سے ان کی پسماندگی بہت ہی بدترین ہے ۔ ایسی صورتحال کو بھانپتے ہوئے ملت کے ہمدرد سماجی جہد کار تعلیمی میدان میں انقلاب پیدا کرنے والی شخصیت طبی میدان میں طب نبویؐ  کو پروان چڑھانے والے لاچار یتیم و یسیر اور ضعیفوں کے ہمدرد ‘ لاوارث نعشوں کی تجہیز و تکفین کا بیڑہ اٹھانے والی ایک عظیم شخصیت کا نام جناب زاہد علی خان ہے جو کہ بانی ادارہ ’’سیاست‘‘ و ممتاز صحافی جناب عابد علی خان صاحب مرحوم کے حرکیاتی فرزند ہیں ۔ ان کی ہدایت و رہنمائی ‘ رہبری اور سرپرستی پر ان کے نوجوان حرکیاتی صحافی جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ ’’سیاست‘‘  نے ملت اسلامیہ کی معاشی ‘ تعلیمی ‘ سماجی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو شعبہ حیات میں ترقی دلوانے کا عزم کرتے ہوئے شب و روز متفکر رہتے ہوئے مسلمانوں کی ترقی کیلئے ایک انقلاب برپا کردیا جس کے مثبت نتائج آج برآمد ہونے لگے ہیں ‘ یہی نہیں بلکہ جناب عامر علی خان کی جانب سے تلنگانہ ریاست کے شہر کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی مسلم تحفظات تحریک کی شعور بیداری مہم سے حکومت بھی اپنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی اور تحریک میں شدت پیدا ہونے کے پیش نظر حکومت نے مسلمانوں کے حقائق سے واقفیت حاصل کر کے پسماندگی کا اعتراف بھی کیا ہے ۔ اگرچیکہ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ ریاست میں ٹی آر ایس پارٹی کے اقتدار کے حصول کے اندرون 4ماہ مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم وعدہ کے تقریباً ڈھائی سال کی تکمیل کے باوجود بھی حکومت کی خاموشی پر جناب عامر علی خان نے اپنی تحریک کا آغاز کیا جس کے بعد حکومت کو نیند سے بیدار ہونا پڑا ۔ جناب عامر علی خان نے ملت کی پسماندگی پر تڑپ اٹھے اور انہوں نے موسمی تغیرات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ہزاروں میل کی مسافت طئے کرتے ہوئے تحفظات مہم کو عروج پر پہنچا دیا ۔ ان کا ایک ہی مقصد رہا کہ مسلمانوں کو پسماندگی کے دلدل سے نکال کر تابناک و روشن مستقبل کے قابل بنایا جائے ۔ان کی تحریک سے ہر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے افراد میں شعور بیدار ہوا حتی کہ ضعیف افراد کے علاوہ گھریلو خواتین ‘ کالج و اسکول کے طلباء و طالبات کے ساتھ ساتھ سیاسی ‘ سماجی و مذہبی شخصیتوں کی زبان پر بھی مسلم تحفظات کا ذکر رہا ہے  ۔  حکومت نے جناب عامر علی خان کی تحریک سے جاگ اٹھی اور فوری طور پر سرکاری سطح پر مسلمانوں کی سماجی ‘ سیاسی ‘ تعلیمی ‘ معاشی اور بیروزگاری کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے سدھیر کمیٹی کا قیام عمل میں لایا ۔ یہ کمیٹی شہر اضلاع میں عوامی سماعتوں کے ذریعہ مختلف نمائندگیوں کا جائزہ لیا اور حکومت کو رپورٹ پیش کی ۔ نیوز ایڈیٹر ’’سیاست‘‘ اور دیگر بعض تنظیموں اور شخصیتوں کی جانب سے کمیٹی کی رپورٹ کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے بی سی کمیشن کے قیام اور کمیشن کے ذریعہ جائزہ لینے پر زور دیا تو حکومت کمیشن قائم کرنے پر  مجبور ہوگئی ۔ یہ کمیشن گذشتہ ماہ پانچ یومی عوامی سماعت رکھی تو جناب عامر علی خان نے نمائندگیوں کی ڈھیر لگادی ۔ انہوں نے سیاست قارئین اور دیگر تنظیموں کی جانب سے راست بالراست طریقے سے 65ہزار سے زائد یادداشتیں کمیشن تک پہنچانے میں اہم رول ادا کیا ۔ ان کی اس خصوصی دلچسپی سے بعض سیاسی مفاد پرست بھی تقلید کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ بی سی کمیشن جناب راملو کی زیر قیادت تشکیل عمل میں لائی گئی ہے جو کہ عوامی سماعت ‘ نمائندگیوں کا جائزہ لینے میں مصروف ہے ۔ ان تمام مراحل کے دوران نیوز ایڈیٹر صاحب کو کئی نشیب و فراز کا سامنا کرنا پڑا اور آخر ان کا یہی عزم ہے کہ مسلمانوں کو ہر شعبہ حیات سے سماجی ‘ معاشی ‘ تعلیمی اور روزگار  کے میدان میں مسلمانوں کی پسماندگی کا خاتمہ تک اپنی جہد مسلسل کو جاری رکھیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT