Thursday , January 17 2019

انمول نعمت

پانی ہے انمول نعمت خدا کی
اہل زمیں کو رب نے عطا کی
کبھی بھی اسے یونہی ضائع نہ کرنا
میری بات پر تم ذرا کان دھرنا
اگر نہ ملے یہ تو ہم کیا پئیں گے
بتاو تمہیں کس طرح ہم جئیں گے
گھر میں تمہارے جو پانی نہ ہوگا
کیسے بنے کھانا یہ تم نہ سوچا؟
نہ گھڑے دھلیں گے نہ برتن دھلیں گے
چمن میں بھلا پھول کیسے کھلیں گے
نہائیں گے کیسے ؟ جو پانی نہ ہوگا
سنجیدگی سے کبھی تم نے سوچا
ندیوں میں پانی اگر نہ بہے گا
کوئی جانور کیسے زندہ رہے گا
پیڑ پودے زمیں پر اُگاتا ہے پانی
دھرتی کو دلہن بناتا ہے پانی
مگر ہر طرف سے صدا آرہی ہے
سطح آب نیچے چلی جارہی ہے
رہا گر یہی حال اک دن یہ ہوگا
کہیں بھی ملے گا نہ پانی کا قطرہ

TOPPOPULARRECENT