Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / انوارالعلوم ادارہ وقف، ٹھوس ثبوت موجود

انوارالعلوم ادارہ وقف، ٹھوس ثبوت موجود

صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کا دعویٰ، سابق سی ای او کے مالیاتی فیصلوں کی جانچ
حیدرآباد ۔ 16۔ اکتوبر (سیاست نیوز) صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ انوارالعلوم ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت چلنے والے تعلیمی ادارے وقف ہیں اور اس سلسلہ میں بورڈ کے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد سلیم نے کہاکہ ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران انوارالعلوم انتظامیہ کو عبوری راحت حاصل ہوئی ہے اور عدالت میں تعلیمی اداروں کے وقف ہونے سے انکار نہیں کیا ہے۔ میڈیا کے سوالات کے جواب میں محمد سلیم اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر منان فاروقی نے بتایا کہ ہائیکورٹ میں 4 مختلف رٹ درخواستیں داخل کی گئیں۔ گزشتہ سماعت میں عدالت نے ان درخواستوں پر بحث نہیں کی جس پر وقف بورڈ کے وکیل نے اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اندرون 4 ہفتے جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے اور چار ہفتوں کیلئے حکم التواء میں عبوری توسیع دی گئی۔ انہوں نے حکم التواء کو مستقل قرار دینے کی تردید کی اور کہا کہ بورڈ کی جانب سے اندرون چار ہفتے حکم التواء کی برخواستگی کیلئے درخواست داخل کی جائے گی۔ منان فاروقی نے کہاکہ وقف بورڈ کے پاس انوارالعلوم اداروں کے وقف ہونے سے متعلق وقف نامہ موجود ہے اور اس کی نقل عدالت میں پیش کی جاچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر اوقافی اداروں کے مقابلہ انوارالعلوم اداروں سے متعلق وقف ریکارڈ انتہائی ٹھوس ہے ، جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ دستاویزات کی بنیاد پر عدالت میں وقف بورڈ کو کامیابی حاصل ہوگی۔ محمد سلیم نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے بورڈ کوئی کسر باقی نہیں رکھے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کالج انتظامیہ عبوری حکم نامہ پر جشن منارہا ہے تو یہ ان کے لئے عارضی ثابت ہوگا۔ وہ خوش فہمی میں مبتلا ہے جبکہ بورڈ مکمل ثبوت کے ساتھ عدالت میں پیروی کر رہا ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ سابق چیف اگزیکیٹیو آفیسر اسد اللہ کے دور میں مالیاتی منظوریوں سے متعلق جو فیصلے کئے گئے تھے ، ان کی جانچ کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ نے گزشتہ اجلاس میں جو قرارداد منظور کی تھی ، اس کا جائزہ لیا گیا جس میں کہیں بھی عہدیداروں کے نام شامل نہیں ہیں۔ اسداللہ کی جانب سے جو بھی فینانشیل فیصلے لئے گئے ، ان کی تفصیلات بورڈ میں پیش کی جائیں گی ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر یہ فیصلے عہدیدار مجاز عمر جلیل کی منظوری سے لئے گئے تو پھر مزید کسی تحقیقات کی گنجائش نہیں رہے گی۔ دوسری طرف محمد اسد اللہ نے واضح کردیا کہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی حیثیت سے انہوں نے جو بھی فیصلے کئے تھے ، وہ اس وقت کے عہدیدار مجاز سید عمرجلیل کی منظوری سے کئے گئے ۔ واضح رہے کہ بورڈ نے گزشتہ تین برسوں کے دوران کئے گئے فیصلوں کی جانچ کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم اس سلسلہ میں تنازعہ کے بعد اعلیٰ عہدیداروں کے فیصلوں کو تحقیقات سے علحدہ کردیا گیا ۔

TOPPOPULARRECENT