Friday , April 20 2018
Home / شہر کی خبریں / انٹرمیڈیٹ کالجس میں قبل ازوقت داخلہ نہ لینے کا مشورہ

انٹرمیڈیٹ کالجس میں قبل ازوقت داخلہ نہ لینے کا مشورہ

حکومت سے اعلامیہ جاری کیا جائے گا، انٹر بورڈ سے کالجس کی فہرست کی تیاری

حیدرآباد۔21جنوری (سیاست نیوز) انٹر میڈیٹ کالجس میں داخلوں کیلئے اعلامیہ کا انتظار کریں اور داخلوں کے حصول میں والدین اور سرپرست عجلت نہ کریں۔ تلنگانہ اسٹیٹ انٹرمیڈیٹ بور ڈ نے تعلیمی سال 2018-19 کے داخلوں کے سلسلہ میں جونئیر کالجس کے انتظامیہ کو انتباہ جاری کرتے ہوئے تاکید کی کہ وہ داخلوں کے لئے سرکاری طور پر اعلامیہ کی اجرائی سے قبل کوئی داخلے فراہم نہ کریں۔ بتایاجاتا ہے کہ بورڈ کی جانب سے ریاست میں موجود مسلمہ کالجس کی فہرست کی اجرائی عمل میں لائے جانے کے بعد ہی داخلوں کی اجاز ت حاصل رہے گی۔ سیکریٹری تلنگانہ اسٹیٹ انٹرمیڈیٹ بورڈ آف ایجوکیشن مسٹر اے اشوک نے صحافتی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اولیائے طلبہ و سرپرستوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیمی سال شروع ہونے سے قبل کسی بھی کالج میں داخلہ نہ دلوائیں اور کالج انتظامیہ کو بھی اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ وہ جونئیر کالجس میں داخلوں کیلئے سرکاری طور پر اعلامیہ کی اجرائی سے قبل داخلے فراہم نہ کریں۔ بتایاجاتاہے کہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ نے ریاست میں پھیل رہے غیر مسلمہ کالجس کے جال کو روکنے کے لئے یہ اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ داخلے حاصل کرنے کے بعد کالجس طلبہ کے مستقبل کی دہائی دیتے ہوئے عدالت سے رجوع ہونے لگے ہیں جس کے سبب غیر مسلمہ کالجس کے خلاف کاروائی میں رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ سرکاری طور پر انٹر میڈیٹ میں داخلوں کا اعلامیہ جاری کیا جائے گا اور اس اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ ساتھ ریاست کے تمام مسلمہ کالجس کی فہرست بھی جاری کی جائے گی تاکہ طلبہ ‘ اولیائے طلبہ اور سرپرست اس فہرست کا مشاہدہ کرنے کے بعد مسلمہ کالجس میں ہی اپنے بچوں کو داخلہ دلوائیں۔ حکومت نے ریاست میں موجود تمام غیر مسلمہ کالجس کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائی کا فیصلہ کیا ہے جو مفت داخلوں اور دیگر مراعات کے ذریعہ طلبہ کو راغب کرتے ہوئے طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔عہدیداروں نے بتایا کہ اعلامیہ سے قبل داخلہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے کالجس اور ان کے انتظامیہ کے خلاف بورڈ کی جانب سے سخت کاروائی کی جائے گی اور ان کی مسلمہ حیثیت کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT