Monday , December 18 2017
Home / مضامین / انٹرنٹ اور سوشل نٹ ورک کے اثرات کا پس منظر و جائزہ …

انٹرنٹ اور سوشل نٹ ورک کے اثرات کا پس منظر و جائزہ …

خدارا ! ہم میں سب صرف ’حمال‘ نہ بنیں

عرفان جابری
جب ٹیلی ویژن دنیا میں عام ہوا تو اس کے تعلق سے ایک قابل غوروفکر بات سامنے آئی، جو بلاتحقیق نہیں ہے کہ ٹی وی بلاضرورت اور غیرمتعلقہ مواد دیکھنے والوں کیلئے ’Idiot Box‘ کے مترادف ہے کیونکہ ایسے لوگ ٹی وی کے دِل خوش کن نظاروں میں مبہوت ہوکر اپنی فطری تخلیقی صلاحیت کو ازخود ماند کرلیتے ہیں، اور پھر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے تو زندگی کے کسی مرحلے پر نکمے بن کر رہ جاتے ہیںکہ وہ نت نئی اختراعی چیزیں اور ایجادات کا ٹی وی پر نظارہ تو ضرور کرسکتے ہیں لیکن فطری تخلیقی سوچ کو خود بروئے کار لانے سے عاجز رہتے ہیں۔
موجودہ دور میں سماجی رابطے کے ذرائع بالخصوص Facebook اور WhatsApp اپنے استعمال کنندگان کی اکثریت کو محض ’حمال‘ بنا دینے کے درپے ہیں ۔ سماج میں حمال کی ضرورت اور اہمیت سے مجھے ہرگز انکار نہیں، لیکن جو لوگ قدرتی صلاحیتوں کا اپنے اور دوسروں کیلئے بہتر استعمال کرسکتے ہیں، اُن کا ’حمال‘ بن کر رہ جانا خود سماج پر بوجھ بن جائے گا۔ ٹکنالوجی کی ترقی کبھی رکنے والی نہیں۔ چنانچہ انٹرنٹ، موبائل فونس، سوشل نٹ ورک کا فروغ ہوتا رہے گا۔ موجودہ دور میں ایک تشویشناک رجحان دیکھنے میں آرہا ہے، جو یہ ہے کہ کم عمر لڑکوں اور لڑکیوں سے لے کر جوان افراد نیز اَدھیڑ عمر کے مرد و خواتین تک سب میں اکثریت کی زیادہ توجہ اچھے اعمال کرنے پر کم ہے اور اس کے برخلاف اچھی اچھی باتوں کو ’’صرف دوسروں تک پہنچادینے‘‘ پر مرکوز ہوگئی ہے۔
مثال کے طور پر ایک بندہ ؍ بندی جو خود نمازوں کو کبھی کبھار، حسب ِ سہولت پڑھنے کا ؍ کی عادی ہے، وہ پانچ وقت کی فرض نماز کی ضرورت، اہمیت ، تاکید پر مبنی پیامات دوسروں کو بھیجنے میں زیادہ دلچسپی دکھاتا؍ دکھاتی ہے۔ اسی طرح فی الواقعی بداخلاق ، بدتمیز، کینہ پرور بندے اسلامی اخلاقیات پر مبنی مختلف نوعیت کے پیامات دوسروں تک پہنچانے میں کافی سرعت دکھاتے ہیں، جس کا خود میں گواہ ہوں۔
الحمد للہ! ہم سبھی جانتے ہیں کہ یہ دنیا آزمائش کا مقام اور اسباب کی جگہ ہے۔ یہاں جو بھی اختراعی کام؍ ایجاد غیرمسلم انجام دے، بلاشبہ اس کے پیش نظر صرف دُنیوی مقاصد کی تکمیل ہوتی ہے، اُخروی کامیابی کا کوئی تصور نہیں رہتا۔ چنانچہ کوئی بھی پراڈکٹ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ وہ اس کی لامتناہی عرصے تک برقراری کے مادی جتن بھی کرلیتے ہیں۔
مثال کے طور پر ’واٹس اپ‘ کا جائزہ لیجئے۔ اس سے استفادہ انٹرنٹ کی دستیابی سے مشروط ہے؛ اچھی طرح استفادہ کیلئے صرف کم درجہ والا انٹرنٹ (2G) کام نہیں کرے گا بلکہ آپ کو 3G/4G وغیرہ کے برتر درجات دستیاب کرانے پڑیں گے۔
دنیا کے کامیاب بزنسمین جانتے ہیں کہ ٹی وی، انٹرنٹ، موبائل کے بعد سوشل نٹ ورک کی بہتات نے استعمال کنندگان کی بڑی اکثریت کو ’نکما‘ بنا رکھا ہے۔ وہ کاہل بن گئے اور مطالعہ، تحقیق، اختراعی سوچ سے نابلد ہوگئے ہیں۔
اس لئے انٹرنٹ اور سوشل نٹ ورک کے مادی فوائد کیلئے دنیا بھر میں ٹیمیں کام کررہی ہیں۔ وہ عام معلومات سے لے کر اخلاقیات، مذہبی امور، سماجیات، خبریں، دلچسپ حقائق اور متفرق مواد تک غرض ہر شعبے میں ’ready-made‘ مواد، تصاویر اور ویڈیوز مسلسل تیار کرتے رہتے ہیں۔ اور اسے دنیا کے مختلف حصوں سے سوشل نٹ ورک پر پہنچا دیا جاتا ہے۔
اس کے بعد انٹرنٹ یا سوشل نٹ ورک کمپنیوں کو مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ انھیں محیرالعقول مادی فائدہ پہنچانے کا کام ’’نکمے لوگ اپنے ذمے لے لیتے ہیں‘‘۔ وہ اپنے 24 گھنٹے میں خود کیلئے یا اپنی فیملی کیلئے کچھ ’حقیقتاً‘ بھلا کریں یا نہ کریں مگر یہ کام پابندی سے ضرور کریں گے کہ اُدھر سے کسی ’بے عمل‘ کا کوئی پوسٹ پہنچا، تو اِدھر یہ ’بے عمل‘ کسی اور ’بے عمل‘ کو (اور کبھی کبھار باعمل کو بھی) بلاتامل اسے اِرسال کردے گا۔ بس سلسلہ چل پڑتا ہے اور انٹرنٹ و سوشل نٹ ورک کمپنیوں کو نئی ترقی، اختراعی سوچ کے فروغ اور کچھ نئی ایجاد کیلئے وافر وسائل مہیا ہوتے رہتے ہیں۔
میری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں ترقی یافتہ ممالک میں اختراعی سوچ اور وہاں سے ایجادات کی ترقی پذیر دنیا کو منتقلی اور اُن کے استعمالات میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں صرف ’صارف‘ کے موقف سے آگے بڑھ کر عملی میدان بھی اختیار کرنا چاہئے۔ اور یہ تہیہ کرلیں کہ کسی بھی اچھی بات پر پہلے خود عملی نمونہ بنیں گے، پھر دوسروں کو دَرس دیں گے تاکہ بات اثر پیدا کرے۔ انشاء اللہ!
[email protected]

TOPPOPULARRECENT