Wednesday , December 13 2017
Home / مضامین / انٹرنیشنل انڈین اسکول جدہ کے مینجنگ کمیٹی کے انتخابات سات امیدوار کامیاب جس میں ایک بھی حیدرآبادی نہیں

انٹرنیشنل انڈین اسکول جدہ کے مینجنگ کمیٹی کے انتخابات سات امیدوار کامیاب جس میں ایک بھی حیدرآبادی نہیں

عارف قریشی

28 مئی کو انٹرنیشنل انڈین اسکول جدہ کے مینجنگ کمیٹی کے انتخاب منعقد کئے گئے ۔ 17 امیدوار میدان میں تھے جس میں سے اسکول کے سرپرستوں کو صرف 7 امیدوار کو اپنا ووٹ دے کر منتخب کرنا تھا۔ صبح 8.30 سے شام 4.30 بجے تک ووٹ ڈالنے کا وقت دیا گیا تھا ۔ ووٹنگ کا وقت ختم ہوتے ہی ووٹوں کی گنتی شروع کی گئی اور تقریباً 8 بجے رات کو منتخب امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا گیا ۔
پہلے نمبر پر کیرالا کے محمد اقبال رہے جنہوں نے 776 ووٹ حاصل کئے ۔ دوسرے نمبر پر کیرالا کے شمس الدین رہے جنہوں نے 773 ووٹ حاصل کئے ۔ تیسرے نمبر پر بہار کے محمد آصف رضوی داودی رہے جنہوں نے 765 ووٹ حاصل کئے ۔ چوتھے نمبر پر اترپردیش کے ماجد سلیم رہے جنہوں نے 718 ووٹ حاصل کئے ۔ پانچویں نمبر پر مہاراشٹرا کے چندرا موہن بالن رہے جنہوں نے 700 ووٹ حاصل کئے ۔ چھٹے نمبر پر کرناٹک کے طاہر علی رہے جنہوں نے 587 ووٹ حاصل کئے۔ ساتویں نمبر پر ٹاملناڈو کے نورالامین رہے جنہوں نے 585 ووٹ حاصل کئے ۔ انٹرنیشنل انڈین اسکول جدہ کی جانب سے جن  17 امیدواروں کا نام مینجنگ کمیٹی کیلئے شائع کیا گیا تھا ، اس فہرست میں محمد معین کا نام آندھراپردیش کے شہری ہیں ، بتایا گیا تھا جبکہ وہ حیدرآباد کے وجئے نگر کالونی کے رہنے والے تھے ۔ محمد معین کو چاہئے تھا کہ وہ فوری اسکول جاکر اپنا نام حیدرآبادی شہری میں کروالیتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا جس کی وجہ سے حیدرآبادی اولیائے طلباء نے ان کو مسترد کردیا جس کے سبب وہ الیکشن ہار گئے۔
انٹرنیشنل انڈین اسکول جدہ میں حیدرآبادی طالب علموں کی اکثریت ہے مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ حیدرآبادی طالب علموں اور اولیائے طلباء کے مسائل کو سننے اور حل کرنے والا اسکول کی مینجنگ کمیٹی میں ایک بھی حیدرآبادی نمائندہ نہیں ہے ۔
جدہ میں مقیم سینئر اور بزرگ حیدرآبادی جن کا تعلق کسی زمانے میں اسکول سے بہت گہرا تھا ، ان لوگوں نے اسکول کی مینجنگ کمیٹی کے کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ سارے کامیاب امیدوار تعلیم یافتہ ہیں اور قابل لوگ ہیں ، ان کی رہنمائی میں اسکول کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔ ہم کو یقین ہے کہ یہ M.C ممبرس اسکول کے اولیائے طلباء کے مسائل سننے کیلئے مہینہ دو مہینے میں ایک بار ان کے ساتھ میٹنگ کریں گے اور مسائل کو حل کریں گے ۔
ان بزرگ حیدرآبادیوں نے یہ بھی بتایا کہ تلنگانہ ا سٹیٹ بننے کے بعد جدہ میں تلنگانہ کے نام پر کئی تنظیمیں قائم کی گئی اس کے علاوہ جدہ میں حیدرآبادیوں کے کئی تنظیمیں اچھا کام کر رہی ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا یہ حیدرآبادی تنظیمیں آپس میں مل کر جدہ کے انڈین اسکول کی مینجنگ کمیٹی کے لئے ایک حیدرآبادی نمائندہ ٹھہرا کرتے اس کو کامیاب کر کے اسکول کی مینجنگ کمیٹی میں شامل کرتے تو ہمیں بے حد خوشی ہوتی۔ مگرا یسا نہ ہوسکا۔ اب تین سال تک جدہ انڈین اسکول کی مینجنگ کمیٹی میں کوئی حیدرآبادی کا نام و نشان نہیں ہوگا کیونکہ یہ کمیٹی تین سال تک کام کرسکتی ہے ۔
کچھ ایسے بھی منظر ہیں تحریک کی نظروں میں
لمحوں نے خطا کی ہے صدیوں نے سزا پائی
انٹرنیشنل انڈین اسکول جدہ کے پرنسپل اور چیف ا لیکشن کمشنر سید مسعود احمد نے بتایا کہ اس الیکشن میں 1360 سرپرستوں نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا اور سات امیدواروں کو منتخب کیا ۔ اس الیک شن میں 23 فیصد ووٹ ڈالے گئے جو پہلے 2003 ء کے الیکشن سے بہتر تھے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی ایجوکیشن سے محمد شاہد عالم ڈپٹی قونصل جنرل و قونصل جج و اسکول مبصر بھی موجود تھے ۔ ان سب کی موجودگی میں پولنگ کی گئی اور نتائج کا اعلان کیا گیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت جلد چیرمین کے نام کا اعلان کردیا جائے گا ۔
محمد اقبال جنہوں نے سب سے زیادہ ووٹ 776 حاصل کئے ہیں ، ان کو چیرمین شپ ملنے کی توقع ہے ۔ انہوں نے فون پر راقم کو بتایا کہ اسکول کے سرپرستوں نے مجھ پر اعتماد کیا اور مجھے منتخب کیا ہیں۔ ان کے اعتماد کو قائم رکھتے ہوئے اسکول کے درخشاں مستقبل کیلئے کام کروں گا ۔ ان سے جب یہ سوال کیا کہ آپ کو کامیابی دلوانے کیلئے جدہ کے کسی تنظیم یا فرد کا آپ شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں تو اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں سارے سرپرستوں کا اور طالب علموں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، خاص طور سے کسی تنظیم یا فرد کا شکریہ ادا نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ہم سب ہندوستانی ہیں اور انڈین اسکول ہر ہندوستانی کا ہے اور ہر ایک ہندوستانی کا فرض ہے کہ وہ اپنے اسکول کی بہتری کیلئے زیادہ سے زیادہ اچھا اور مفید کام کرے ۔ انہوں نے کہا کہ سرپرستوں کی جانب سے کئی درخواستیں  میرے پاس آئی ہیں جن میں اسکول کے کئی مسائل ہیں اور میرے ساتھی مل کر ان مسائل کو حل کریں گے اور سرپرستوں کے ساتھ ہر ماہ یا دوسرے مہینے میں میٹنگ کریں گے ۔ محمد اقبال نے پرنسپل سید مسعود احمد اور ان کے ا سٹاف کی تعریف کی اور کہا کہ مسعود صاحب بہت ہی اچھے اور ہمدرد پرنسپل ہیں ، وہ ہمارے ساتھ ہر وقت تعاون کرنے تیار رہتے ہیں۔
آصف رمزی داودی جنہوں نے 765 ووٹ حاصل کئے ، ان کا کہنا ہے کہ ہماری ٹیم اسکول کے تعلیمی معیار پر زیادہ توجہ دے گی اور اسکول کے تعلیمی معیار میں زیادہ سے زیادہ بہتری کرے گی ۔ انہوں نے اولیائے طلباء سے گزارش کی کہ وہ اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ زیور تعلیم سے آراستہ کریں کیونکہ تعلیم سے انسان کی زندگی میں روشنی آتی ہے اور وہ تعلیم سے ہی انسان بلند درجات حاصل کرسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT