Saturday , April 21 2018
Home / دنیا / انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نشست کیلئے ہندوستان اور برطانیہ میں سخت مقابلہ

انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نشست کیلئے ہندوستان اور برطانیہ میں سخت مقابلہ

اقوام متحدہ ۔ 10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے دلویر بھنڈاری اور برطانیہ کے کرسٹوفرگرین ووڈ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے لئے دوبارہ منتخب ہونے اس وقت سخت مقابلہ آرائی کررہے ہیں جبکہ اقوام متحدہ پانچ ججوں کے منجملہ چار ججوں کے انتخاب کے بعد ان دونوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کیلئے تذبذب کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے یوں تو 193 ارکان ہیں اور اگر جنرل اسمبلی کے 15 ارکان بھی شامل کرلئے جائیں تو جملہ 218 ارکان اپنی رائے دہی کے ذریعہ 70 سالہ بھنڈاری اور 62 سالہ گرین ووڈ میں سے پیر کے روز کسی ایک کا انتخاب کریں گے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ آئی سی جی دی ہیگ میں 15 ججس کی ایک بنچ کا نام ہے اور ان میں سے پانچ ججس کا ہر تین سال میں نو سالہ میعاد کیلئے انتخاب کیا جاتا ہے۔ آئی سی جے کا قیام 1945ء میں ہوا تھا اور یہ مختلف ممالک کے درمیان پائے جانے والے تنازعات پر پوچھے گئے قانونی سوالات پر اپنے مشورے اور تجاویز پیش کرتی ہے۔ جسٹس بھنڈاری اور جسٹس گرین ووڈکے علاوہ دیگر تین ججس رونی ابراہام (فرانس)، انٹونیو آگسٹو کنسٹاڈو ترنڈاڈے (برازیل) اور عبدالقوی احمد یوسف (صومالیہ) بھی دوبارہ انتخابی میدان میں ہیں جن کی میعاد 5 فروری 2018ء کو اختتام پذیر ہورہی ہے۔ اسی طرح لبنان کے نواف سلام بھی انتخابی میدان میں تھے اور اس طرح پانچ عہدوں کیلئے جملہ چھ امیدوار میدان میں تھے۔ بہرحال اس وقت ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے اور آخری نشست پر ان میں سے کسی ایک کا انتخاب ہوسکتا ہے۔ چوتھے مرحلہ میں بھنڈاری کو جنرل اسمبلی میں 115 ووٹس کے ساتھ اکثریت حاصل تھی جبکہ گرین ووڈ کو 76 ووٹس ملے جبکہ 15 رکنی سلامتی کونسل میں گرین ووڈ کو 9 ووٹوں کے ساتھ اکثریت حاصل ہوئی اور بھنڈاری کو صرف چھ ووٹس ملے لہٰذا قطعی فیصلہ کیلئے پیر کے روز ایک بار پھر رائے دہی ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT