انٹرنیٹ اور اخلاقی ذمہ داری

کے این واصف

کے این واصف
ایک عرصہ قبل ہم نے خواندگی کی تعریف یہ سنی تھی کہ وہ شخص جو اپنی مادری زبان میں لکھ پڑھ سکتا ہے وہ خواندہ یا پڑھا لکھا کہلائے گا اور یہ سن کر ہم بہت خوش تھے کہ چلو کچھ نہ سہی ہمارا شمار خواندہ افراد میں تو ہے اور ہماری خوشی نے ایک زینہ اور طئے کیا جب سے ہم لکھنے اور اخبار و رسائل میں شائع ہونے لگے، کیونکہ اب ہم نہ صرف اپنی مادری زبان میں لکھ پڑھ سکتے ہیں بلکہ ہمارا لکھا کئی لوگ پڑھتے بھی ہیں۔ پھر ایک دن معلوم ہوا کہ اب خواندگی کا معیار یا پیمانہ بدل گیا ہے اور اب خواندہ کہلانے کیلئے بندے کو کمپیوٹر سے واقفیت ہونا بھی ضروری ہے۔ اب ہم نے اپنے آپ کو خواندہ افراد کی فہرست میں شامل کرنے کیلئے کمپیوٹر کا استعمال سیکھ لیا ۔ پھر ای میل ، ٹوئیٹر اور فیس بک پر اپنے کھاتے بھی کھول لئے اور اس عمر میں اب گھنٹوں کمپیوٹر کی کھڑکیوں کی تاک جھانک میں بھی گزارتے ہیں۔

ہم بنیادی طور پر ایک مصور (فوٹو گرافر) ہیں۔ فوٹو گرافی ہمارا روزگار ہے اور عشق و شوق بھی۔ ایک روز ہم نے اپنی لی ہوئی کچھ تصویریں فیس بک پر پوسٹ کیں۔ کئی احباب اور ناظرین نے انہیں پسند بھی کیا اور ان پر اظہار خیال بھی کیا ۔ ہم فیس بک کی ورق گردانی کر رہے تھے کہ اچانک کوئی صاحب جن سے ہم شخصی طور پر واقف نہیں فیس بک نمودار ہوئے اور لکھا کہ آپ کے نام سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ آپ مسلمان ہیں۔ نیز آپ کی Profile فوٹو کہہ رہی ہے کہ آپ عمر رسیدہ بھی ہیں۔ مگر آپ کے افعال مومینانہ نہیں ہیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ فوٹو گرافی ناجائز اور ممنوعہ عمل ہے اور آپ کی ڈھٹائی تو دیکھئے کہ آپ اپنے گناہ کی تشہیر فیس بک پر بھی کر رہے ہیں۔ ہم نے انہیں بڑے خلیق انداز میں جواب دیا کہ ہم ایک آرکیٹکچرل فوٹو گرافر ہیں اور تاریخی عمارتوں کی تصویر کشی کرتے ہیں اور عام طور سے یہی تصویریں یا تاریخی مقامات پر بنائی ہوئی اپنی ڈاکیومنٹریز فیس بک پر احباب کے ساتھ Share کرتے ہیں ۔

انہوں نے سخت انداز میں جواب لکھا کہ فوٹو گرافی ہر حال میں ناجائز اور ممنوع ہے۔ آپ یہ کام فوری ترک کردیں۔ ہم نے پھر بڑے ادب سے انہیں سمجھاتے ہوئے مرحوم مولانا رشید پاشاہ قادری ، شیخ الجامعہ نظامیہ حیدرآباد کے ایک مضمون کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے فوٹو گرافی کو ایک کیمیائی ردعمل Chemical Re-action قرار دیا تھا اور لکھا تھا کہ قلم یا برش کی مدد سے جانداروں کی بنائی گئی تصویر اور کیمرے سے اتاری گئی تصویر دو مختلف چیز ہیں۔ کیمرے سے اتادی گئی تصویر چونکہ ایک کیمیائی ردعمل ہے لہذا اسے ناجائز نہیں قرار دیا جاسکتا۔ ابھی ہم اپنی بات مکمل بھی نہ کرپائے تھے کہ وہ اچانک بھڑک اٹھے اور غیر شائستہ الفاظ سے نوازتے ہوئے ہمیں گنہگار اور دوزخی قرار دے دیا۔

بہرحال سوشیل میڈیا پر ہر روز ایسے بیسیوں واقعات ہوتے ہیں جہاں لاعلم یا کم علم لوگ دینی و دنیوی معاملات پر بے دھڑک انداز میں اظہار خیال کیا کرتے ہیں اور یہ چیز ہر سوسائٹی میں ہے ۔ حالیہ دنوں میں ایک معرف عرب قلم کار ترکی الدخیل کی اسی موضوع پر ایک تحریر یہاں کے مقامی اخبار میں شائع ہوئی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ہمارے معاشرے کے روز مرہ معمولات کو دیکھ کر کبھی کبھی مجھے انتہائی درجے کی حیرت ہوتی ہے ۔ میرا خیال ہے کہ مملکت میں جو طبقہ انٹرنیٹ استعمال کر رہا ہے اس نے تعلیم کا کم از کم ادنیٰ درجہ حاصل کیا ہوگا ۔

اسی پر قیاس کرتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ معاشرے کا مہذب طبقہ ہوگا لیکن اسی تعلیم یافتہ اور مہذب طبقے میں سے جب ان لوگوں کو دیکھا جاتا ہے جو انٹرنیٹ پر کسی مفکر ، دانشور ، کالم نگار یا عالم دین سے اختلاف کرتے ہیں تو بد تہذیبی کے آخری درجے تک پہنچ جاتے ہیں۔ فکری اختلاف کی وجہ سے لوگ فحش گالیوں اور بازاری الفاظ تک استعمال کرنے سے نہیں چوکتے۔ انٹرنیٹ کی مختلف سائٹس سمیت سوشیل میڈیا میں اختلاف کرنے والے کے خلاف ایسی زبان استعمال کی جاتی ہے، جسے استعمال کرنے میں بازاری لوگ بھی گریز کرتے ہیں۔ ہم سب کو ٹوئیٹر کے ان نوجوانوں کا واقعہ یاد ہے جن کا سعودی مجلس شوریٰ کے ایک معزز رکن کے ساتھ کسی معاملے پر اختلاف ہوگیا تو نوجوانوں نے جو زبان استعمال کی، سو استعمال کی، مگر مجلس شوریٰ کے معزز رکن نے بھی بازاری الفاظ استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا ۔ اس طرح کے معاملات انٹرنیٹ کی مختلف سائٹس کے علاوہ سوشیل میڈیا میں عام ہوگئے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی طرف سے ہورہا ہے جو معاشرے کے پڑھے لکھے اور مہذب لوگ سمجھے جاتے ہیں۔ اس بد تہذیبی کی کوئی توجیہ نہیں پیش کی جاسکتی۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اختلاف رائے اس حد تک پہنچا کہ مخالف فریق کو بالآخر بازاری الفاظ سے نوازا گیا کہ یہی اس کا حق تھا ۔

میں کہتا ہوں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بھی کسی کی مخالفت کی گئی۔ کفار مکہ وہ لوگ تھے، جنہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دینے کی آخری حدوں کو پار کر ڈالا تھا ۔ آپؐ کو (نعوذ باللہ) مجنوں ، کاہن ، جادوگر اور شاعر کہا گیا مگر آپؐ نے کسی کے خلاف کبھی خلاف ادب بات نہیں کہی ۔ آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ملامت کرنے والا ، لعنت کرنے والا اور گالیاں دینے والا بناکر نہیں بھیجا گیا۔ ہمیں رسول اکرمؐ کی حیات مبارکہ سے لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے کی تہذیب سیکھنی چاہئے ۔ بد زبانی، گالی، بد خلقی اور بد تہذیبی اختیار کرنے والا شخص کبھی اعلیٰ فکر اور نظریات کا حامل نہیں ہوسکتا۔ اعلیٰ فکر اور عمدہ نظریات کی ترویج اور اشاعت کبھی گالی، بدزبانی اور لعنت ملامت سے نہیں ہوگی ۔ زبان دراصل دل کا آئینہ ہے اور دل وہ لوتھڑا ہے جو اگر ٹھیک ہوگا تو پورا جسم توانا ہوگا اور اگر وہی خراب ہوا تو پورا جسم بیمار ہوگا۔ ہمیں اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زبان کو تہذیب سکھائیں۔ ہماری زبان گالی، فحش کلامی اور بد تہذیبی سے پاک ہونی چاہئے۔ وہ معاشرہ کبھی بلندی کے مدارج طئے نہیں کرسکتا جس کے افراد باہم احترام اور تہذیب کے ساتھ نہ رہتے ہوں۔

گزشتہ برسوں میں ترسیل کا ذریعہ خط و کتابت تھا اور لوگ اس میں مستعد نہیں ہوا کرتے تھے ۔ خط کے آنے جانے میں ہفتوں ، مہینوں لگ جاتے تھے لیکن انٹرنیٹ نے ترسیل کو سہل ، کم خرچ اور تیز رفتار کردیا ہے جس سے احباب کے درمیان رابطے بڑھ گئے ہیں۔ اب وہ ایک دوسرے کی پل پل کی خبر رکھتے ہیں۔ لوگ گھروں اور دفاتر میں بیٹھ کر احباب سے میل ، فیس بک اور ٹوئیٹر وغیرہ کے ذریعہ آسانی سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں ۔ یہ ہوئے اس کے کچھ مثبت پہلو لیکن اس کا دوسرا رخ خوش کن نہیں۔ بعض لوگ میل پر غیر مستند باتیں اور دینی موضوعات پر مضامین ، ضعیف احادیث ، اسلامی تاریخ کے نام پر من گھڑت قصے نیٹ پر پوسٹ کرنے لگے ہیں اور کچھ لوگ انہیں اپنے میل کے ذریعہ مزید آگے بڑھاتے ہیں جس سے بعد کے اوقات میں غیر صحتمندانہ افکار سماج میں عام ہوتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا کی ہر چیز کے مثبت و منفی اثرات ہوتے ہیں اور انٹرنیٹ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ اب یہ استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اس کو کسی ضرورت یا مقصد کیلئے استعمال کرتا ہے ۔

جیسا کہ ہم نے ابتداء میں لکھا انٹرنیٹ کا استعمال سیکھنا بھی ایک علم ہے اور آج کی اہم ضرورت بھی اور علم حاصل کرنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی ۔ ترسیل کے اس بے دام اور آ سان ذریعہ سے مستفید ہوتے ہوئے ہمیں اس بات کا خیال رہنا چاہئے کہ کہیں ہم اخلاق و تہذیب کی حدوں کو تو نہیں پھلانگ رہے ہیں۔ ہم نیٹ پر کیا دیکھ رہے ہیں، کیا لکھ رہے ہیں یا کسی کی پوسٹ پر اظہار خیال کر رہے ہیں یا اپنی پسند ناپسند کا اظہار کر رہے ہیں تو ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ اس سے کسی کو ٹھیس نہ پہنچے، کسی کی دل آزاری نہ ہو، کسی کے احساس و جذبات مجروح نہ ہوں اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم دائرۂ اخلاق میں رہیں۔

TOPPOPULARRECENT