Tuesday , June 19 2018
Home / Top Stories / انٹرنیٹ پر غیرمحرم سے ’’چیاٹنگ‘‘ حرام : علی خامنہ ای

انٹرنیٹ پر غیرمحرم سے ’’چیاٹنگ‘‘ حرام : علی خامنہ ای

دبئی ۔ 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ایران کے سپریم لیڈر اور رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای نے سوشل میڈیا اور سماجی رابطے کے لئے استعمال ہونے والی تمام ویب سائیٹس پر غیرمحرم مرد و زن کے درمیان بات چیت (چیاٹنگ) حرام قرار دی ہے۔ ان کا کہنا ہیکہ غیر محرم لوگوں سے چیاٹنگ کے نتیجے میں سماجی برائیاں اور جرائم جنم لیتے ہیں، اس لئے اسلام م

دبئی ۔ 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ایران کے سپریم لیڈر اور رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای نے سوشل میڈیا اور سماجی رابطے کے لئے استعمال ہونے والی تمام ویب سائیٹس پر غیرمحرم مرد و زن کے درمیان بات چیت (چیاٹنگ) حرام قرار دی ہے۔ ان کا کہنا ہیکہ غیر محرم لوگوں سے چیاٹنگ کے نتیجے میں سماجی برائیاں اور جرائم جنم لیتے ہیں، اس لئے اسلام میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سپریم لیڈر نے قدامت پسند مذہبی طبقے کے ایک وفد سے گفتگو کے دوران کہا کہ نوجوانوں کو انٹرنیٹ کے استعمال میں احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کسی غیرمحرم مرد و عورت آپس میں تحریری گفتگو ’’چیاٹنگ‘‘ کرسکتے ہیں یا نہیں؟ تو انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ غیرمحرم مرد اور عورت آپس میں چیاٹنگ قطعی طور پر جائز نہیں ہے۔ خیال رہیکہ آیت اللہ علی خامنہ کا یہ فتویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا کہ جب تہران حکومت سماجی رابطہ کی تمام ویب سائیٹ نئی پابندیاں عائد کررہی ہے۔

انسداد سماجی جرائم اور غیرقانونی انٹرنیٹ ٹریفکنگ کنٹرول کمیٹی کے سکریٹری عبدالصمد خرم آبادی نے 29 ڈسمبر 2013ء کو اپنے ایک بیان میں بتایا تھا کہ حکومت ان تمام سماجی رابطے کی ویب سائیٹس کو بند کررہی ہے جو ایران میں لوگوں کو چیاٹنگ کی سہولت فراہم کررہے ہیں۔ مسٹر خرم آبادی کا کہنا تھا کہ حکومت نے بلیک لسٹ قرار دی گئی سوشل ویب سائیٹ کی ایک فہرست تیار کرلی ہے۔ اس فہرست میں ’’وی چیاٹ‘‘، ٹینگو، وائبر، وٹس آپ اور کوکو شامل ہیں۔ ایران میں رابطہ ڈولز پر پابندی ایک ایسے وقت میں لگائی جارہی ہے جب پہلے ہی ملک بھر میں سماجی رابطے کی بڑی ویب سائیٹ ’’فیس بک‘‘ اور ’’ٹیوٹر‘‘ کے استعمال پر پابندی ہے۔ اس پابندی کے باوجود مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر حکومتی عہدیدار فیس بک اور ٹیوٹر کا کھلے عام استعمال کررہے ہیں۔

رمادی میں فوجی حملے، 29جنگجو ہلاک
رمادی۔ 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) عراقی فوج مغربی صوبہ الانبار کے دارالحکومت رمادی میں ایک شب خون کارروائی میں جہادیوں کے زیرقبضہ علاقوں پر دوبارہ کنٹرول میں ناکام رہی ہے اور اس حملے میں چار شہری مارے گئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق ریاست اسلامی عراقی و شام (آئی ایس آئی ایل) سے وابستہ جنگجوؤں نے دارالحکومت بغداد سے مغرب میں واقع اس شہر کے جنوبی حصوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔ رمادی میں عراقی پولیس کے ایک کپتان نے صحافیوں کو بتایا ہیکہ ’’سیکوریٹی فورسز اور مسلح قبائلیوں نے رات شہر کے جنوب میں آئی ایس آئی ایل کے زیرقبضہ علاقوں میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ فریقین کے درمیان رات 11 بجے سے منگل کی صبح 6 بجے تک لڑائی جاری رہی تھی اور سیکوریٹی فورسز آئی ایس آئی ایل کے زیرقبضہ علاقوں میں داخل ہونے میں ناکام رہی ہیں۔ رمادی ہاسپٹل کے ایک ڈاکٹر احمد عبدالسلام نے جھڑپوں میں چار شہریوں کی ہلاکت اور 14 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے لیکن انہوں نے فوج یا جنگجوؤں کی ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی اعداد و شمار جاری نہیں کئے۔ عراقی فوج کے اسٹاف لیفٹننٹ جنرل محمد العسکری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’شہریوں کی ہلاکتوں کے خدشے کے پیش نظر اب فلوجہ پر حملے کا امکان نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عراقی فورسز نے رمادی میں مزاحمت کاروں پر میزائیلوں سے حملہ کیا ہے، جس کے نتیجہ میں 29جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔
ادھر باغیوں کی زیرقبضہ دوسرے شہرفلوجہ کے باہر دھماکوں کی تین آوازیں سنی گئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT