انٹر میڈیٹ امتحانات میں نشانات کے بجائے گریڈنگ

قدیم طریقہ کار کو ختم کرنے کا فیصلہ
وزیر تعلیم تلنگانہ کڈیم سری ہری کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔3جنوری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ انٹرمیڈیٹ امتحانات میں نشانات کے بجائے گریڈنگ سسٹم متعارف کروائے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر و ریاستی وزیر تعلیم مسٹر کڈیم سری ہری نے پریس کانفرنس کے دوران اس بات کا انکشاف کیا کہ ریاست میں انٹرمیڈیٹ امتحانات میں حکومت نے نشانات کے طریقہ کار کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی جگہ گریڈنگ سسٹم متعارف کروایاجائے گا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری تعلیمی معیار میں بہتری لانے کے اقدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے مسٹر کڈیم سری ہری نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے طلبہ کے مفادات کے تحفظ کیلئے تمام تر اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ان اداروں کے خلاف کاروائی سے بھی گریز نہیں کیا جا رہاہے جو طلبہ کے مفادات کے تحفظ میں ناکام ہیں۔ انہوں نے گذشتہ تین برسوں کے دوران بورڈ آف انٹر میڈیٹ کی کارکردگی کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے لائے جانے والے اصلاحات کا مقصد ریاست میں معیاری تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ طلبہ کی مجموعی ترقی کو ممکن بنانا ہے ۔ انہوں نے ریاست میں موجود سرکاری انٹرمیڈیٹ کالجس کی ترقی اور تعمیر کے علاوہ کالجس میں سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جاریہ مالی سال کے دوران ریاست میں موجود سرکاری جونئیر کالجس کو بہتر بنانے کیلئے 350کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں اور آئندہ چند ماہ کے دوران مزید رقومات کی تخصیص کے ذریعہ جونئیر کالجس کے نظام تعلیم کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے خانگی تعلیمی اداروں سے کوئی دشمنی نہیں کی جا رہی ہے بلکہ انہیں معیاری تعلیم کی فراہمی کا پابند بنانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں اور ان اقدامات کے مثبت نتائج بھی برآمد ہونے لگے ہیں۔ مسٹر کڈیم سری ہری نے کہا کہ ریاست میں جونئیر کالجس میں معیاری تعلیم کی فراہمی کے نتائج اعلی تعلیم کے حصول میں انتہائی معاون ہوتے ہیں اسی لئے حکومت کی جانب سے جونئیر و ڈگری کے علاوہ پروفیشنل کالجس میں تعلیم کے معیارکو بہتر بنانے کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں۔ انہوں نے خانگی تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں اگر کوئی بھی تعلیمی ادارہ یا انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کے مفادات کے مغائر اقدامات کئے جاتے ہیں اور انہیں ہراساں کرنے کی شکایات موصول ہوتی ہیں تو محکمہ تعلیم کی جانب سے ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT