Thursday , November 23 2017
Home / دنیا / انڈونیشیائی ساحل کے قریب سمندر سے شہری اغوا

انڈونیشیائی ساحل کے قریب سمندر سے شہری اغوا

زرتاوان کیلئے اغوا کی وارداتوں کی تازہ کڑی ‘ ابوسیاف گروپ پر شبہ
جکارتا۔7اگست ( سیاست ڈاٹ کام) نامعلوم بندوق برداروں نے سمندر سولو سے بحری مہم جوؤںکو اغوا کرلیا ہے ۔بورنیو کے ساحل کے قریب ان افراد کا حالیہ مہینوں میں دولت اسلامیہ کے انتہا پسندوں نے اغوا کرلیا ہے ۔ چہارشنبہ کے دن بھی شمال مشرقی ریاست صباح میں بھی اغوا کی ایک واردات پیش آئی ۔ یہ جزیرہ بورنیو کی ملائیشیاء کی جانب علاقہ میں ہوئی ۔ انڈونیشیاء کے سفیر برائے ملائیشیاء نے کہا کہ ایک جہاز کا ایک کشتی میں راستہ روکا تھا جس میں 4مسلح افراد سوار تھے ۔ سفیر ہرمن وائیتو نے کہا کہ اغوا کرنے والوں نے انڈونیشیائی کپتان کو 10ہزار رگت ( 2500امریکی ڈالر ) دینے کا مطالبہ کیا تھا ۔ جب کپتان اس رقم کی ادائیگی سے قاصر رہا تو انہوں نے ارکان عملہ سمیت اس کا اغوا کرلیا ۔ بعدازاں انہوں نے دو ارکان عملہ کو رہا کردیا ۔ انڈونیشیاء کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ اب بھی یہ پتہ چلانے کی کوشش کررہی ہے کہ اغوا کی اس واردات کا ذمہ دار کونسا گروپ ہے ۔ ملائیشیاء کی بحری پولیس کے سربراہ عبدالرحیم عبداللہ نے عہدیداروں سے کہا کہ دونوں ارکان عملہ سے کشتی کے بارے میں پوچھ تاچھ کی جارہی ہے ۔اغوا کی یہ واردات جنوبی سمندر میں اغوا کی واقعات کے سلسلہ کی تازہ کڑی ہے

جہاں مسلح افراد کے گروپ گھات لگاکر ماہی گیری کی کشتیوں کو پکڑ لیتے ہیں ۔ ملائیشیاء اور انڈونیشیائی شہریوں کو یرغمال بناکر زرتاوان وصول کرتے ہیں ۔ 10دیگر انڈونیشیائی شہریوں کا حالیہ مہینوں میںفلپائن کے ابو سیاف انتہا پسند گروپ نے اغوا کیا تھا ۔ یہ افراد ہنوز یرغمال بنے ہوئے ہیں ۔ جکارتا نے انڈونیشیاء کا پرچم لہرانے والی کشتیوں کو فلپائن کے سمندر میں داخل ہونے سے منع کردیا ہے اور آبی گزرگاہ میں مشترکہ طلایہ گردی کی تجویز پیش کی ہے ۔ مٹھی بھر ملائیشیائی ملاحوں کو بھی مبینہ طور پر جاریہ سال اغوا کیا گیا تھا ۔ ابو سیاف ایک دورایفتادہ فلپائن کے جنوبی پہاڑی جزائر میں قائم ہے ۔ اُس نے جاریہ سال ایک کینیڈا کے یرغمالی کا سرغلم کردیا ہے کیونکہ اس کے 10لاکھ ڈالر زرتاوان ادا کرنے کے مطالبہ کی تکمیل نہیں کی گئی تھی ۔ 2015ء میں اسی گروپ نے ایک ملائیشیائی یرغمال کو بھی قتل کردیا تھا ۔ یہ گروپ چند سو اسلام پسند عسکریت پسندوں کا ایک ویب سائٹس بھی قائم کرچکا ہے جو 1990ء کی دہائی میں قائم کیا گیا تھا ۔ اس کیلئے مالیہ مبینہ طور پر القاعدہ نٹ ورک کے اسامہ بن لان نے فراہم کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT