Tuesday , December 11 2018

انڈونیشیااورلبنان میں امریکی سفارتخانہ پر یروشلم فیصلہ کے خلاف احتجاج

احتجاجی جلسہ میں ہزاروں افراد شریک ‘ امریکی سفارتخانہ کے قریب احتجاجیوں پر لبنانی فوج کی فائرنگ
جکارتا۔10ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) انڈونیشیا کے تقریباً 10ہزار شہریوں نے امریکی سفارتخانہ برائے انڈونیشیاء کے روبرو فلسطینیوں کی تائید اور صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایک جلسہ منعقد کیا ۔ احتجاجی بیانرس تھامے ہوئے تھے جن پر تحریر تھا ’’ امریکی سفارت خانہ ‘ القدس سے باہر لے جاؤ ‘‘ ’’ آزاد یروشلم اور فلسطینی ‘‘ اور ’’ ہم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں ‘‘ ۔ القدس یروشلم کا عربی نام ہے ۔ آج کے احتجاج کا اہتمام اسلامی خوشحال انصاف پارٹی نے کیا تھا ۔ یہ ٹرمپ کے جمعرات کے دن فیصلہ کے بعد دوسرا احتجاجی جلسہ تھا ۔ صدر انڈونیشیاء جوکوفی وڈوڈو نے شدت سے ٹرمپ کے اقدام کی مذمت کی ۔ انہوں نے اسے اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی قرار دیا ۔ انڈونیشیاء دنیا کا سب سے کثیر مسلم آبادی والا ملک ہے اور فلسطینیوں کا کٹر حامی ہے ۔ اس کے یہودی مملکت کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہے ۔ دریں اثناء بیروت سے موصولہ اطلاع کے بموجب لبنان کی فوج نے آنسو گیس شل داغے اور آبی توپے استعمال کیں ‘ جبکہ امریکی سفارتخانہ کے قریب احتجاجی مظاہرین امریکہ کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلہ کے خلاف احتجاج کررہے تھے ۔ ایک اخباری نمائندے نے جو دارالحکومت بیروت کے باہر تھا اطلاع دی کہ سینکڑوں فلسطین حامی احتجاجی مظاہرین امریکی سفارتخانہ کے قریب جمع ہوگئے تھے ۔ انہوں نے عمارت کو جانے کے راستہ کی ناکہ بندی کردی تھی۔ فوج نے ان پر آنسو گیس شلس کی فائرنگ کی اور احتجاجیوں کو پسپا کرنے کیلئے آبی توپ استعمال کی جو سفارتخانہ کا دھاتی پھاٹک زبردستی کھولنے کی کوشش کررہے تھے ۔ پتھروں اور گیس کے شلس سے کئی افراد زخمی ہوگئے ۔ فوری طور پر فوج نے اس اطلاع پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ۔ احتجاجی مظاہرین فلسطینی اور لبانی پرچم لہرارہے تھے ۔ سرخ اور سیاہ پٹیوں سے پتہ چلتا تھا کہ یہ لوگ کفایہ کے ارکان ہیں ۔ یہ لوگ کفایہ کے سرپوش جن کا رنگ سیاہ اور سفید ہوتا ہے باندھے ہوئے تھے اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف نعرہ بازی کررہے تھے ۔ جنہوں نے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کیا ہے ۔ احتجاجیوں کے گروپ نے صدر امریکہ کا پتلا جلایا جن کے فیصلہ سے برسوں کی امریکی سفارت کاری اور بین الاقوامی اتفاق رائے پر پانی پھرگیا ہے جس نے امن مذاکرات کے اختتام تک جوں کا توں حالت برقرار رکھنے سے اتفاق کیا تھا ۔ احتجاجی مظاہرین فلسطینی پارٹیوں سے اور لبنان کی اسلام پسند پارٹیوں کے علاوہ بایاں بازو کی پارٹیوں سے تعلق رکھتے تھے ۔ لبنان میں لاکھوں فلسطینی پناہ گزین ہیں جن میں وہ بھی شامل ہیں۔ جنہیں اسرائیل نے فلسطین سے خارج کردیا یا جو فرار ہوکر لبنان منتقل ہوئے یا پھر وہ ایسے پناہ گزینوں کی نئی نسل ہے ۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے علاقہ پر بھی 22سال تک اپنا قبضہ برقرار رکھا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT