Saturday , December 15 2018

انڈونیشیا کے صوبہ پاپوا میں حملہ کے بعد 16 نعشیں دستیاب

وامینا (انڈونیشیا) ۔ 6 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) انڈونیشیا کی فوج نے 16 افراد کی نعشیں مشتبہ علحدگی پسند باغیوں کے شورش زدہ صوبہ پاپوا میں قتل عام کے بعد برآمد کی ہیں۔ اموات کی توثیق کرتے ہوئے جو اندیشہ ہیکہ تعمیراتی مزدوروں کی ہیں، آج کا عملہ برسوں میں مہلک ترین تشدد کا واقعہ تھا جو اس علاقہ کو دہلا گیا جہاں آزادی کیلئے شورش کا سلسلہ جاری ہے۔ نعشوں کو قصبہ ٹمیکا منتقل کردیا گیا ہے جو ناڈوگا کے دورافتادہ علاقہ سے یہاں لائی گئی ہیں۔ یہ ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں اتوار کے دن حملہ ہوا تھا۔ مقامی فوج کے کمانڈر بنسار پنجتن نے کہا کہ تازہ ترین اطلاع کے بموجب 16 نعشیں دستیاب ہوئی ہیں۔ وہ پاپوا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ مہلوکین کی شناخت ہنوز نہیں ہوسکی اور فوج نے واقعہ کی تفصیلات کے اظہار سے انکار کردیا۔ قبل ازیں ایک عینی گواہ نے فوج کی تفصیلات کے بموجب کم از کم 19 افراد کے بشمول سزائے موت دینے کے انداز کی فائرنگ یا گلے کاٹ دینے کی اطلاع دی تھی۔ مرکزی ذرائع ابلاغ کی سابقہ اطلاعات کے بموجب مہلوکین کی تعداد 24 اور 31 کے درمیان تھی۔ جمعرات کے دن فوج نے انتباہ دیا تھاکہ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ مہلوکین سرکاری زیرانتظام کنٹراکٹر کے تحت پلوں اور سڑکوں کی تعمیر کیلئے کام کررہے تھے جو اس غربت زدہ صوبہ کی حالت بہتر بنانے کیلئے جاری ہے۔ دیگر 15 افراد بشمول 7 کنٹراکٹر کے ملازمین کا اس علاقہ سے تخلیہ کروادیا گیا ہے۔ پاپوا کے کئی افراد انڈونیشیا کو ایک نوآبادی زیرقبضہ علاقہ سمجھتے اور اس کا تعمیری کام اس علاقہ میں عام طور پر ان کے زیرقبضہ ہے۔ اس کی سرحد پر ایک فوجی کو ہلاک اور دیگر دو کو زخمی کیا گیا تھا۔ فوج نے ایک زندہ بچ جانے والے شخص کی شناخت اس کے نام کے الفاظ کے اے سے کی ہے اور دعویٰ کیا ہیکہ تقریباً 50 باغی مزدوروں کے کیمپ میں ہفتہ کے دن داخل ہوگئے تھے اور ان کے ہاتھ پشت پر باندھ کر انہیں وہاں سے منتقل کردیا تھا۔

اگلے دن باغیوں نے چند مزدوروں کو گولی مار دی تھی۔ چند نے فرار ہونے کی کوشش کی۔ حملہ آوروں نے مبینہ طور پر 6 مزدوروں کو دوبارہ پکڑ لیا اور ان کے گلے کاٹ دیئے۔ گواہوں نے جو زخمی نہیں ہوئے تھے، کہا کہ 19 ملازمین بحیثیت مجموعی ہلاک کردیئے گئے۔ فیس بک کی اطلاع کے بموجب جسے قومی نجات دہندہ فوج چلاتی ہے، مسلح گروپ نے 24 مزدوروں کو سرحد کے علاقہ میں ہلاک کردیا۔ انڈونیشیا عام طور پر پاپوا میں تشدد کیلئے علحدگی پسندوں کو ذمہ دار قرار دیتا ہے اور ذرائع ابلاغ کو خبریں شائع کرنے کیلئے اجازت لینی پڑتی ہے اس لئے انہیں واقعات کی تفصیلی اطلاعات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ پاپوا ایک عرصہ سے آزادی کا مطالبہ کررہا ہے۔ 1961ء میں پڑوسی بلندیزیوں کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کررہی تھی۔ اس کے بعد دوسرے پڑوسی ملک انڈونیشیا نے اس علاقہ پر اپنا قبضہ قائم کرلیا۔ یہ علاقہ وسائل دولت سے مالا مال ہے اور دو سال بعد آزادی کیلئے استصواب عامہ کروایا گیا تھا۔ سرکاری طور پر پاپوا کا الحاق 1969ء میں اقوام متحدہ تائید یافتہ رائے دہی کے ذریعہ ہوا۔ بڑے پیمانے پر اس رائے دہی کو ایک ڈھونگ سمجھا جاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT