Monday , November 19 2018
Home / مضامین / انڈیا ٹوڈے کانکلیو ساؤتھ 2018 کے سی آر نے کیا کہا اور کیوں کہا …

انڈیا ٹوڈے کانکلیو ساؤتھ 2018 کے سی آر نے کیا کہا اور کیوں کہا …

محمد ریاض احمد

چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کا شمار ملک کے فطین و شاطر سیاستدانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تحریک کو کامیاب بناتے ہوئے تاریخ میں اپنا نام سنہری الفاظ میں درج کروایا ہے۔ تلنگانہ کو ہندوستان کی 29 ریاستوں میں سب سے کم عمر ریاست کا اعزاز حاصل ہے۔ 2 جون 2014 کو اس علیحدہ ریاست کی تشکیل عمل میں آئی۔ تلنگانہ کے قدرتی وسائل سے تلنگانہ کے عوام کو محروم رکھنے اور ان کے ساتھ مسلسل ناانصافیوں کے باعث ہی آندھرا کے سیاستدانوں کو منہ کی کھانی پڑی اور کے سی آر کی علیحدہ تلنگانہ تحریک نے بناء کسی تشدد و خون خرابہ کے کامیابی کی منزل پر پہنچنے میں کامیابی حاصل کی۔ نئی ریاست کے پہلے انتخابات میں کے چندر شیکھر راؤ کی ٹی آر ایس کو کامیابی ملی اور بقول ان کے ان کی حکومت نے نئی ریاست تلنگانہ کو زندگی کے ہر شعبہ میں ملک کی نمبر ون ریاست بنادیا۔ برقی کے معاملہ میں صرف 43 ماہ عمر کی اس ریاست نے وزیر اعظم مودی کی ریاست گجرات اور ترقی کے معاملہ میں سب سے آگے رہنے کا دعویٰ کرنے والی ریاست مہاراشٹرا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کے سی آر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ میڈیا سے بہت کم ہی بات کرتے ہیں۔ حیدرآباد میں 18 اور 19جنوری کو انڈیا ٹو ڈے گروپ کا انڈیا ٹو ڈے کانکلیو ساؤتھ 2018 منعقد ہوا جس میں جنوبی ہند کی ریاستوں کے سرفہرست سیاستداں، صنعت کاروں اور ممتاز شخصیتوں بشمول چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ پارک حیات ہوٹل میں منعقدہ کانکلیو کے اس دوسرے ایڈیشن میں کے سی آر تمام کی توجہ کا مرکز بنے رہے ان کی آمد بھی غیر معمولی رہی۔ کانکلیو میں مشہور و معروف صحافی راج دیپ سر دیسائی کے ہر سوال کا جواب کے سی آر نے اس انداز میں دیا کہ نہ صرف راج دیپ سر دیسائی بلکہ حاضرین بھی لاجواب ہوئے۔ انھیں کانکلیو میں تلنگانہ کا باہو بالی اور ایک ایسا چیف منسٹرقرار دیا گیاجس نے پانی، بجلی، زرعی، صنعتی، صحت و تعلیم جیسے شعبوں میں کئی ایک مسائل سے دوچار ریاست کو بڑی کامیابی سے مسائل و بحرانوں سے باہر نکالا۔
جون 2014 میں جب تلنگانہ کا قیام عمل میں آیا اس وقت اس کا جی ایس ڈی پی( گراس اسٹیٹ ڈومیسٹک پراڈکٹ ) 4.2 فیصد تھا لیکن اب یہ 9.5 فیصد ہوگیا ہے۔ اس ریاست نے مختصر سے عرصہ میں خود کو ملک کی تیزی سے ترقی کرنے والی ریاستوں کی صف میں نہ صرف شامل کرلیا بلکہ ان سے آگے نکل گئی ہے اور اس کا جی ایس ڈی پی 10.1 فیصد تک پہنچنے کی اُمید ہے۔ 2014 میں ریاست تلنگانہ میں مینو فیکچرنگ اور خدمات کے شعبہ میں منفی نمو تھا۔ اب ان دونوں شعبوں میں نمو سالانہ 8 تا 10 فیصد کے حساب سے آگے بڑھ رہا ہے۔ فی کس آمدنی کے لحاظ سے بھی تلنگانہ ملک کی دس سرِ فہرست ریاستوں میں شامل ہے۔ کے سی آر نے اس کانکلیو میں وزیر اعظم ہند مودی کو بظاہر انتباہ بھی دیا اور ان کی جانب دوستی کا ہاتھ بھی بڑھایا۔ پانی اور توانائی کے شعبوں میں ریاست کے خود مکتفی بننے آئی ٹی اور صنعتی شعبہ میں ریاست کی مثالی ترقی کی کہانی بھی بیان کی۔ عوام بالخصوص کسانوں کیلئے کئے جارہے بہبودی اسکیمات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں تحفظات فراہم کرنے سے متعلق عزائم اور منصوبوں کا اعادہ بھی کیا ۔ سیاسی مفاہمت، قومی سطح پر اپنے کردار، خاندانی سیاست کے الزامات، شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کی ترقی ، ماضی میں زندگی کے تمام شعبوں میں آندھراوالوںکی جانب سے تلنگانہ اور اس کے باشندوں کے معاندانہ رویہ اور ناانصافیوں کا ذکر بھی کیا۔
راج دیپ سردیسائی نے جب مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے سے متعلق سوال کرتے ہوئے انھیں یہ کہہ کر زچ کرنے کی کوشش کی کہ مذہب کے نام پر تحفظات نہیں دیئے جاسکتے۔ کے سی آر نے بناء کسی شدید ردعمل کے ایسا جواب دیا کہ راج دیپ سردیسائی لاجواب ہوگئے۔ کے سی آر کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت مسلمانوں کو مذہب کے نام پر نہیں بلکہ ان کی معاشی و سماجی پسماندگی کے باعث تحفظات فراہم کرنے کی خواہاں ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی شعبوں میں درج فہرست طبقات و قبائیل اور دیگر پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو (خصوصی زمرہ میں ) تحفظات کی سپریم کورٹ نے جو 50 فیصد حد مقرر کررکھی ہے اسے برخواست کیا جانا چاہیئے۔ کے سی آر کا کہنا تھا کہ تلنگانہ میں 90 فیصد آبادی ایس سیز، ایس ٹیز، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں پر مشتمل ہے اور ان طبقات کی پسماندگی دور کرنے کیلئے تحفظات کے فیصد میں مرکز کی جانب سے اضافہ کیا جانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ کے سی آر نے سپریم کورٹ سے تحفظات کی حد برخواست کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ سوال کیا کہ وہ اپنے عوام کو کیا جواب دیں گے جبکہ پڑوسی ریاست تاملناڈو میں 69 فیصد اور مہاراشٹرا میں 52 فیصد تحفظات فراہم کئے جارہے ہیں۔ مرکز چاہے تو تحفظات کے فیصد میں اضافہ کرسکتی ہے۔ کے سی آر نے تحفظات کے مسئلہ پر مرکز کو بظاہر دھمکی دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس مسئلہ پر پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن میں ہم اپنی آواز اٹھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستوں کو اپنے طور پر تحفظات کی حد مقرر کرنے کا اختیار دیا جانا چاہیئے۔ اسی دوران راج دیپ سر دیسائی نے مداخلت کرتے ہوئے جب یہ کہا کہ اس کا مطلب آپ ایک خطرناک راہ کی طرف بڑھ رہے ہیں کے سی آر کا کہنا تھا کہ مجھے اس کی پرواہ نہیں بلکہ میں جو کہہ رہا ہوں اسے نظر انداز کرنے والے خطرہ میں آجائیں گے۔ کے سی آر نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کو ووٹ بینک سیاست تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کردیا کہ وہ صرف مسلمانوں کیلئے تحفظات نہیں مانگ رہے ہیں بلکہ سماجی و معاشی طور پر پسماندہ آبادی کیلئے تحفظات کی مانگ کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ ہم نے اسمبلی میں جو بل منظور کیا اس میں ’’ مسلمانوں ‘‘ کا حوالہ نہیں ہے۔ کے سی آر سے راج دیپ سردیسائی نے جب یہ کہا کہ آپ پر فخرِ تلنگانہ کو فخرِ فیملی سے تبدیل کرنے کا الزام ہے اور اس کیلئے آپ پر تنقید یں کی جارہی ہیں کہ بیٹی کو آپ نے رکن پارلیمنٹ بنادیا، فرزند اور بھانجہ ریاستی کابینہ میں شامل ہیں ۔ کے سی آر کا جواب تھا : ’’ وہ کے سی آر، ان کے فرزند، دختر اور ارکان خاندان ہی تھے جنہوں نے علیحدہ ریاست تلنگانہ کیلئے احتجاج کی قیادت کی۔ ہمارے خلاف بے شمار مقدمات درج کئے گئے، جیل کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑی اور جہاں تک میری دختر، فرزند اور بھانجہ کا سوال ہے میں نے انہیں نامزد نہیں کیا بلکہ عوام نے انہیں منتخب کیا ہے، وہ عوام کا فیصلہ تھا اور سارا تلنگانہ ہی میرا خاندان ہے۔‘‘ اس سوال پر کہ تلنگانہ کا ترقیاتی ماڈل گجرات ماڈل سے بہتر ہے ؟ ایک مرحلہ پر راج دیپ سر دیسائی نے گجرات کا شیر اور تلنگانہ کا بکرے سے تقابل کیا۔ اولذکر سوال اور اس تقابل پر کے سی آر نے فوراً جواب دیا کہ تلنگانہ ترقی کے معاملہ میں ہندوستان کی نمبر ون ریاست ہے اور جہاں تک شیر اور بکرے کا سوال ہے، یہاں شیر اور بکری کی اہمیت نہیں بلکہ آمدنی، ترقی اور منافع کی اہمیت ہے اور تلنگانہ نے مختصر عرصہ میں ملک کی دوسری ریاستوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ راج دیپ سر دیسائی نے سوالات کے دوران جب تلنگانہ کو ایک چھوٹی ریاست قرار دیا تب چیف منسٹر نے انھیں ٹوکتے ہوئے ان کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ تلنگانہ چھوٹی ریاست نہیں ہے، ملک میں ایسی 17 ریاستیں ہیں جو جغرافیائی لحاظ سے تلنگانہ سے چھوٹی ہیں۔ تلنگانہ مغربی بنگال اور بہار سے بھی بڑی ریاست ہے اور آبادی کے لحاظ سے ملک کی 12 ویں بڑی ریاست ہے۔ اور کم از کم 15-16 شعبوں میں ہماری ریاست دوسری ریاستوں سے بہت آگے ہے اور قوم کے تعمیری عمل میں تلنگانہ اپنا بھرپور حصہ ادا کرے گی۔ انہوں نے بظاہر وزیر اعظم نریندر مودی کو ’’ انڈیا ٹو ڈے کانکلیو ساؤتھ 2018 ‘‘ کے ذریعہ یہ پیام بھی دیا کہ ریاستوں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دینے میں مرکز کی بھلائی ہے اور انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ ریاست کی طاقت مرکز کی طاقت اور ریاست کی دولت ملک کی دولت ہے۔ انہوں نے تلنگانہ کی ترقی کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا نے تسلیم کیا ہے کہ 16 اقدامات کے لحاظ سے تلنگانہ گزشتہ سال نمبر ون تھی اور نمبر ون رہے گی۔ فاضل بجلی کی پیداوار کے حوالے سے کے سی آر کا کہنا ہے کہ علیحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے وقت ریاست میں شمسی توانائی کی پیداوار صرف 10 میگا واٹ سولار پاور تھی، آج 3500 میگاواٹ سولار پاور پیداوار ہے۔ ان کی حکومت نے ریاست کی تشکیل کے اندرون 6 ماہ میں برقی کی شدید قلت پر قابو پایا۔ اس وقت ریاست میں برقی کی پیدوار 6000 میگا واٹ تھی اور اب ریاست میں 14000 میگاواٹ برقی ہے۔ 2020ء میں یہ بڑھ کر 28000 میگاواٹ ہوجائے گی۔ ریاست کی تشکیل کے اندرون 6 ماہ ہم نے زرعی شعبوں کو یومیہ دس گھنٹے، گھریلو استعمال کیلئے 24 گھنٹے اور صنعتوں کیلئے 24 گھنٹے برقی کی سربراہی کو یقینی بنایا۔ سنگل ونڈو اسکیم کے ذریعہ صنعتی ترقی کو یقینی بنایا گیا۔ مشن کاکتیہ کے ذریعہ ریاست کے 45 ہزار آبپاشی ٹینکس اور مشن بھگیرتا کے ذریعہ 8.3 ملین گھروں کو پانی کی فراہمی پر کام کیا اور رورل اکنامی کو بہتر بنایا۔
راج دیپ سر دیسائی کے اس سوال پر کہ علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکل کے وقت ایسا لگ رہا تھا کہ تلگو شناخت ٹوٹ پھوٹ رہی تھی ، ریاست سے آندھرا والے چلے جائیں گے، حیدرآباد کا انفراسٹرکچر متاثر ہوگا، سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور ابتداء میں آپ کچھ گھبرائے ہوئے بھی تھے؟۔ کے سی آر نے برجستہ جواب دیا: ’’ ایسی کوئی بات نہیں تھی اور جہاں تک تلگو شناخت کا سوال ہے آندھرا اور تلنگانہ کی تہذیب، تلگو زبان کے بولنے کا انداز، تہوار منانے کے طریقے بالکل مختلف ہیں۔1956 میں جب آندھرا ۔ تلنگانہ کا انضمام ہوا تھا تمام دانشوروں، تمام لوگوں اور تمام سیاستدانوں نے اس کی مخالفت کی تھی لیکن بدقسمتی سے تلنگانہ کو آندھرا میں ضم کردیا گیا اور آج وہ ضرور کہیں گے کہ آندھرا پردیش کا قیام ایک فاش غلطی تھی، آندھرا پردیش میں تلنگانہ سے ہمیشہ ناانصافی کی گئی یہاں تک کہ تلنگانہ کیلئے جو پانی مختص کیا جاتا وہ صرف کاغذوں تک ہی محدود ہوتا۔ اب ہم فخریہ کہہ سکتے ہیں کہ جاریہ سال1.49 لاکھ کروڑ بجٹ کا منصوبہ ہے اور مصارف کا نشانہ 1.25 لاکھ کروڑ رکھا گیا ہے۔ تلنگانہ میں Caipital Expenditur کبھی بھی15-20ہزار کروڑ سے زیادہ نہیں ہوا۔ لیکن آج تلنگانہ کے یہ مصارف 50 ہزار کروڑ تک پہنچ رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں کے سی آر کہا کہنا تھا کہ تلنگانہ ملک کی دولتمند ریاست تھی، نظام کے دور میں یہ اپنی دولت کیلئے ساری دنیا میں شہرت رکھتی تھی لیکن بعد میں تلنگانہ سے ناانصافی کی گئی۔ ان کا یہ بھی کنہا تھا کہ پرانے شہر میں گلزار حوض ہے جہاں مارواڑی 300 سال قبل آئے وہ دل سے تلنگانہ ہی کو اپنی مدر لینڈ تصور کرتے ہیں۔ چیف منسٹرکا اشارہ شائد آندھرا والوں کی جانب تھا ۔ آندھرا کے باشنددوں نے حیدرآباد نہیں چھوڑا بلکہ لوگ حیدرآباد کا رُخ کررہے ہیں اور اگر حیدرآباد کو دوسرا دارالحکومت بنایا جاتا ہے تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے۔کے سی آر کے مطابق ان کی حکومت عوامی بہبود کیلئے سبسیڈی پر سالانہ 40 ہزار کروڑ روپئے خرچ کررہی ہے اور اس کی زرعی ترقی بھی سارے ملک کیلئے رول ماڈل ہے۔ اس کے علاوہ معذورین، بیواؤں اور ضعیف مرد و خواتین کو ماہانہ 1000 تا 1500 روپئے وظائف دیئے جارہے ہیں۔ کسانوں کی خودکشیوں کو روکنے کئی ایک آبپاشی پراجکٹس شروع کئے گئے۔ زرعی شعبوں کو مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے۔ 2020 تک ریاست کی ایک کروڑ ایکڑ اراضی گوداوری اور کرشنا کے پانی سے سیراب کی جائے گی۔ جاریہ سال 71 لاکھ کسانوں کو فی ایکر 8000 روپئے سالانہ دیئے جائیں گے۔ اس کیلئے ایک نئی اسکیم شروع کی گئی جبکہ حیدرآباد میں مختلف انفرااسٹرکچر پراجکٹ کیلئے ان کی حکومت چینی بینک سے 20000 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے کی خواہاں ہے۔ اس تاریخی شہر کو حقیقت میں عالمی شہر بنانے کیلئے 20 تا 25 ہزار کروڑ سرمایہ درکار ہے۔ ایک مرحلہ پر کے سی آر نے راج دیپ سر دیسائی کو بتایا کہ حیدرآباد کی ڈِشیس بالخصوص بریانی ساری دنیا میں مشہور ہے۔ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے اپنے دورہ کے موقع پر بطور خاص بریانی تناول کی تھی اور بار بار بریانی کا تذکرہ کا تھا۔جس وقت حیدرآباد اسٹیٹ علیحدہ تھی ہم فاضل ریاست کے حامل تھے آندھرا پردیش کا تلنگانہ سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ تلنگانہ ترقی میں بہت آگے نکل چکی ہے۔ حیدرآباد پہلے ہی سے ترقی یافتہ شہر تھا۔ 1015 میں یہاں بجلی آئی تھی۔ مدراس میں اس کے 12 سال بعد بجلی آئی۔ حیدرآباد میں اُسوقت انڈر گراؤنڈ ڈرینج سسٹم تھا ملک کی دوسری ریاستوں میں نہیں تھا۔ یہ ایک خوبصورت شہر ہے جو حقیقت میں کاسمو پالٹین کہلانے کے قابل ہے، یہ چھوٹا ہندوستان ہے جہاں ہر قسم کے لوگ اور تہذیبیں و زبانیں اور ذائقے مل جائیں گے۔ بانی حیدرآباد قلی قطب شاہ سے کسی نے پوچھا آپ کیا تیار کررہے ہیں انہوں نے جواب دیا تھا جنت ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT