Sunday , November 19 2017
Home / مضامین / انڈیا کی اسرائیل پالیسی بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

انڈیا کی اسرائیل پالیسی بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

 

عرفان جابری
اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے سفارتی تعلقات قائم ہوکر 25 سال گزر چکے اور ابھی حال تک یہ باہمی روابط محدود نوعیت کے رہے جس کی عکاسی اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ کسی بھی وزیراعظم ہند نے اسرائیل کا دورہ نہیں کیا تھا۔ لیکن نریندر مودی نے اِس ماہ کے اوائل صیہونی مملکت کا دورہ کرتے ہوئے باہمی تعلقات میں بیباکی لانے کی کوشش کی ہے اور انھوں نے اسرائیل کے ساتھ باہمی شراکت داری میں این ڈی اے حکومت کے اِرادوں کو کھل کر ظاہر کردیا ہے۔
مودی کے دورۂ اسرائیل کے تعلق سے جو کچھ بھی قیاس آرائیاں پیدا ہوئیں وہ بڑی حد تک درست ثابت ہوئی ہیں۔ مودی نے ہزاروں ہندوستانی نژاد یہودیوں سے خطاب کیا اور موشے ہولتزبرگ سے ملاقات کی جو 2008ء کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں میں بچنے والا لڑکا ہے۔ خلائی تعاون کے شعبے میں فریقین نے پیشرفت کی، زراعت اور پانی کے تعلق سے مشترک کلیدی شراکت داری شروع کی، اسرائیل میں نئے انڈین کلچرل سنٹر کی کشادگی ہوئی، اور جوائنٹ سی اوز فورم کا آغاز عمل میں آیا ہے۔ ان سب سے کہیں بڑھ کر دفاعی تعاون میں وسعت ہے اور دونوں فریقوں نے اس سمت میں آگے بڑھنے کا عہد کیا ہے۔
ہندوستان کے بانیان بشمول گاندھی جی اگرچہ یہودیوں کے کاز پر ہمدردانہ موقف رکھتے تھے، لیکن فلسطینی علاقوں میں صیہونی مملکت کے قیام کی تجاویز پر مذمتی بیان دیئے تھے۔ اس معاملے کو خود ہندوستان کی تقسیم اور مسلم مملکت ِ پاکستان کا جنم ہونے کے تجربے کو ملحوظ رکھتے ہوئے دیکھا گیا تھا ۔ تب سے ہندوستان اور اسرائیل نے دونوں طرف سے بتدریج قربت اور روابط میں فروغ دیکھا ہے جس کے نتیجے میں ہندوستان نے اسرائیلی مملکت کے جواز کو 1950ء میں قبول کرلیا، ممبئی میں اُن کا قونصل خانہ 1953ء میں قائم کیا اور اس اقدام کو آگے بڑھاتے ہوئے انھیں 1992ء میں مکمل سفارتی درجہ دیا گیا۔ اِس سست رفتار کی وضاحت میں اکثروبیشتر عرب اقوام کے ساتھ ہندوستان کے تاریخی اور ثقافتی رابطوں کا حوالہ دیا جاتا ہے، نیز یہ بھی کہ ہندوستان کے بائیں بازو اور مسلم اثر والے حلقے بھی بڑی وجہ بتائے جاتے ہیں، جن کی وجہ سے ہندوستان نے فلسطینی آزادی اور اس کی قیادت کے کاز کے تئیں مضبوط عہد کررکھا تھا۔ اس لئے اوائل دہا 1990ء سے اپنے وسعت پذیر دفاعی تعاون کے باوجود ہند۔ اسرائیل بات چیت کی دھوم دھام تو چھوڑئیے بدستور بہت کم تشہیر ہوئی۔

اس پس منظر میں مودی کے دورہ کو اس سست رفتار والے ’’یو ٹرن‘‘ کی تکمیل کا نقیب کہہ سکتے ہیں کہ کبھی صیہونی مملکت اسرائیل کے قیام کی مخالفت کرنے والے ہندوستان نے اسے دہشت گردی کے طاقتور خطرے سے نمٹنے کیلئے نہایت ترجیحی شراکت دار قرار دیا ہے۔ جہاں تک تل ابیب کا معاملہ ہے، انھوں نے بارہا اعلان کیا ہے کہ کس طرح وہ پاکستان سے سرگرم لشکرطیبہ اور فلسطین و اندرون اسرائیل سے کام کرنے والے حماس و دیگر گروپوں کے درمیان کوئی فرق نہیں سمجھتے ہیں۔ یوں تو دونوں ممالک مسلم دہشت گردی سے لڑائی کیلئے حکمت عملیاں بناتے رہے ہیں، لیکن عرب مملکتوں کے ساتھ ہندوستان کے روابط کی حساسیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسرائیل نے اکثر یہی کہا ہے کہ وہ نئی دہلی سے جوابی اقدام کے طلبگار نہیں ہیں۔ لیکن مودی نے یقینا فلسطینی نیشنل اتھارٹی کے دفتر واقع رملہ نہ جاکر اور سہ روزہ دورے میں تل ابیب تک محدود رہتے ہوئے اسرائیل کے تئیں خیرسگالی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی ساتھ نئی دہلی نے اسرائیل کے ساتھ اپنا دفاعی تعاون بدستور عام نظروں میں پڑنے سے بچائے رکھا ہے، جس کیلئے زراعتی تعاون کو پیش پیش رکھتے ہوئے اسے اپنا سب سے نمایاں پراجکٹ بتایا گیا تاکہ ہند۔اسرائیل گرمجوشی کا اظہار ہوجائے۔ دوسری طرف اسرائیل عرصہ سے اسٹرٹجک پارٹنرشپ پر زور دیتا آیا ہے اور اس میں بلاشبہ پیشرفت ہوئی ہے۔ اسرائیل منفرد نوعیت کی شراکت چاہتا ہے جس میں سکیورٹی سے ہٹ کر مختلف شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے جیسے زراعت، پانی، خلا اور سائنس و ٹکنالوجی۔
تاہم، حقائق بالکلیہ مختلف منظر پیش کرتے ہیں۔ اسٹاکہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2012ء سے 2016ء تک اسرائیل کی اسلحہ برآمدات کے معاملے میں ہندوستان اس کی سرکردہ منزل رہا ہے۔ ہندوستان نے اسرائیل کے 41 فیصد سے زائد اسلحہ برآمدات خریدے۔ اسی مدت کے دوران اسرائیل انڈیا کا دفاعی درآمدات کا تیسرا بڑا ذریعہ بن کر اُبھر آیا۔ امریکہ اور روس انڈیا کی جملہ دفاعی درآمدات کے ترتیب وار 71.4 اور 68 فیصد کے ساتھ ابتدائی دو مقامات پر ہیں۔ اس طرح کے اُچھال نے پنڈت نہرو کے تعلق سے سوچے سمجھے انداز میں بعض باتیں مشہور کرنے کا موقع فراہم کیا کہ نہرو نے چین کے ساتھ ہندوستان کی 1962ء کی جنگ میں اسرائیل کی مدد چاہی یا ہندوستان نے اسرائیل کو 1967ء میں اس کی چھ روزہ جنگ میں مدد دی۔

ہند، اسرائیل کا حقیقی دفاعی تعاون 1999ء کی کارگل جنگ سے شروع ہوتا ہے جب آرٹیلری شلس اور غیرانسان بردار فضائی گاڑیوں (UAVs) کی بہت تنگ وقت میں اسرائیلی سربراہی نے ہندوستان کو اپنی کلیدی قلتوں پر قابو پانے میں مدد کی تھی۔ بعد میں ہندوستان نے اسرائیلی براک 1 ایئر ڈیفنس سسٹم خرید لئے تاکہ پاکستان کے امریکی ساختہ ہارپون میزائلوں کو روک سکیں۔ منموہن سنگھ حکومت کی جانب سے آخری بڑی معاملت 176 یو اے ویز کی خریداری رہی جس میں 108 سرچر مارک II اور 68 ہیران آرمڈ یو اے ویز شامل ہیں۔ یو پی اے حکومت نے اسرائیل کے ساتھ فبروری 2014ء میں ایک معاہدہ پر دستخط بھی کئے تھے جو داخلی اور عوامی سلامتی پر تعاون سے متعلق ہے۔ یہ ہندوستان کی امریکہ کے ساتھ بڑھتی گرمجوشی کا حصہ رہا، جس کے نتیجے میں اس کے تمام دوست اور حلیف ممالک کے ساتھ قریب تر تعلقات استوار ہوئے۔

ان یو پی اے رجحانات اور آگے کی طرف پیشرفت کو مودی حکومت میں تو جاری رہنا ہی تھا۔ چنانچہ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے نومبر 2014ء میں اسرائیل کا دورہ کیا اور داخلی سلامتی پر ہند۔اسرائیل جوائنٹ اسٹیرنگ کمیٹی کی پہلی میٹنگ کی میزبانی بھی کی۔ گزشتہ ستمبر ہندوستان نے انڈین نیوی کے گائیڈیڈ میزائل ڈسٹرائرس کیلئے مشترکہ طور پر فروغ دیئے گئے زمین سے فضاء والے میزائل پر کامیاب تجربات منعقد کئے۔ انڈیا۔ اسرائیل سفارتی روابط کے 25 سال کی خوشی کے تحت ہندوستانی بحریہ کے تین تباہ کار جہاز اسرائیل کی بندرگاہ کے دوستانہ دورے کرچکے ہیں۔ اپریل میں انڈیا نے اسرائیل کے ساتھ ان میزائلوں کی خریدی کیلئے 2 بلین ڈالر کی معاملت پر دستخط کئے اور مئی میں ہندوستان نے اسرائیل کے Spyder میزائل کو بھی آزمایا جو زمین سے فضاء تک سرعت سے عمل کرتا ہے اور ہندوستان کی دلچسپی کی وجہ پاکستان کی سرحد پار سے آنے والے میزائلوں یا ڈرون طیاروں کو روکنا اور بے اثر بنانا ہے۔ اور اب دونوں ممالک انسدادِ دہشت گردی پر توجہ مرکوز کررہے ہیں جس کے باعث بعض نئے اقدامات دیکھنے میں آسکتے ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انڈیا اور اسرائیل کا زراعت سے متعلق گہرا تعاون ہے۔ موجودہ طور پر اُن کا تیسرا منصوبۂ عمل برائے 2015-18ء چل رہا ہے۔ وہ 15 سنٹرس آف ایکسلنس قائم کرچکے ہیں، جہاں ہندوستانی کسانوں کو اسرائیلی زرعی کاروبار کے طریقوں اور تکنیکوں سے بڑا فائدہ ہوا ہے، بالخصوص اونچی پیداواریت کو ممکن بنانا، بیماری سے مزاحم فصلیں اُگانا ، اور ہریانہ اور مہاراشٹرا کے خشک خطوں کیلئے محدود آبپاشی کی تکنیک فراہم کرنا۔ گزشتہ دہے میں بھی دونوں طرف سے کئی اعلیٰ سطح کے دورے دیکھنے میں آئے۔ تاہم، باہمی تجارت کو مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ یہ 2012-13ء میں 6.1 بلین ڈالر سے سکڑ کر 2014-15ء میں 5.6 بلین ڈالر ہوئی۔ ہندوستان بدستور اسرائیلی سیاحوں کیلئے نہایت ترجیحی منزل ہے جبکہ اسرائیل کو بزنس کے سلسلہ میں جانے والے ہندوستانیوں اور دیگر سیاحوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اس سے آنے والے وقت میں ہندوستان میں اسرائیل کی دلچسپی بڑھ سکتی ہے اور مضبوط تر پارٹنرشپ کیلئے نئے نئے شعبے اُبھریں گے۔

TOPPOPULARRECENT