انڈین مجاہدین کے منصوبہ کا پتہ نہ چل سکا

ضیاء الرحمن اور دیگر تین پولیس تحویل میں، تفتیش جاری ،ذرائع کا بیان

ضیاء الرحمن اور دیگر تین پولیس تحویل میں، تفتیش جاری ،ذرائع کا بیان

نئی دہلی ۔ 24 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )انڈین مجاہدین کے سرکردہ دہشت گرد ضیاء الرحمن عرف وقاص اور دیگر تین ساتھیوں کی تفتیش پر پولیس کو تاحال کسی امکانی حملے یا شخصیت یا مقام کو نشانہ بنانے کا کوئی انکشاف نہیں ہوا۔ ذرائع نے بتایا کہ اب تک ہمیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ وہ کسی کو نشانہ بنانے کا یا کسی شخصیت یا مقام پر حملے کا منصوبہ رکھتے تھے ۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ تمام چاروں انڈین مجاہدین کے موجودہ سربراہ تحسین اختر عرف مونو کی ہدایت پر کام کررہے تھے جس نے انھیں بتایا تھا کہ وہ ایک حملے کیلئے تیار رہیں لیکن نشانہ کا انکشاف نہیں کیا ۔ قبل ازیں یٰسین بھٹکل اس دہشت گرد تنظیم کی قیادت کررہا تھا لیکن اُس کی گرفتار کے بعد تحسین اختر نے یہ ذمہ داری سنبھال لی ۔ وقاص کو کل اجمیر ریلوے اسٹیشن کے باہر گرفتار کیا گیا تھا جب کہ وہ باندرہ ، ممبئی سے آرہی ٹرین کے ذریعہ یہاں اُترا ۔ اُس کے دیگر تین ساتھیوں کی محمد مہروف ، محمد وقار اظہر دونوں ساکن جئے پور اور ثاقب انصاری عرف خالد ساکن جودھپور کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے ۔ عہدیدار نے بتایا کہ ان تینوں کو بھی دہلی لایا گیا اور مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا جنھوں نے انھیں 2اپریل تک پولیس تحویل میں دیدیا۔ وقاص پہلے ہی سے 10 دن کیلئے پولیس تحویل میں ہے ۔ تفتیش کے دوران ضیاء الرحمن نے بتایا کہ کس طرح معصوم نوجوانوں کو جہاد کے نام پر پاکستان میں دہشت گرد کیمپوں میں شامل کیا جاتا ہے ۔ پولیس کے مطابق 2009 ء میں وقاص کا بعض اخبارات میں شائع اشتہار کے ذریعہ تاج محمد نامی شخص سے رابطہ قائم ہوا ۔ وہ جماعت الدعوۃ کی طرف سے عطیات جمع کرتا تھا ، اُس نے تاج محمد کو بتایا کہ وہ لڑائی میں حصہ لینے کیلئے کشمیر جانا چاہتا ہے ۔ وقاص کی دلچسپی معلوم کرنے کے مقصد سے تاج محمد نے دو مرتبہ اُس کی خواہش کو مسترد کردیا لیکن جب وہ بار بار اصرار کرنے لگا تو اُس نے نوشیرہ کیمپ میں اُس کی ٹریننگ کا انتظام کیا۔ وہ 20 تا 25 نوجوانوں کے ساتھ جن کی عمر 15 تا 20 سال کے درمیان تھی ، 21 دن ٹریننگ حاصل کی ۔ ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد جیش محمد کے عبدالرحمن نامی شخص نے وزیرستان میں واقع کیمپ میں ٹریننگ کا انتظام کیاجہاں اُسے اسلحہ اور گولہ بارود کی ٹریننگ دی گئی۔

برکت کی گرفتاری کیلئے پولیس ٹیموں کی تشکیل

جئے پور ۔ 24 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )انڈین مجاہدین کے جودھپور میں گرفتار شدہ مشتبہ دہشت گرد کے ایک مبینہ ساتھی برکت کی تلاش کے لئے پولیس کی کئی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ جودھپور پولیس کمشنر سچن متل نے کہا کہ انڈین مجاہدین کے دہشت گرد ثاقب انصاری اور برکت پر دھماکہ خیز مواد سربراہ کیا کرتا تھا ۔ انصاری کو راجستھان اے ٹی سی اور دہلی پولیس کے ایک خصوصی سل نے گزشتہ روز ایک مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا تھا ۔ انھوں نے کہا کہ برکت اس گھر پر پولیس دھاوے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ پون متل نے کہا کہ ’’برکت کی نشاندہی و گرفتاری کے لئے ہم مختلف ٹیمیں تشکیل دیئے ہیں۔ گزشتہ روز اس کے گھر پر دھاوے کے دوران 35کیلو دھماکہ خیز مواد اور سات موبائیل ہینڈ سیٹس ضبط کئے گئے تھے ۔ اس کے پتہ کے بارے میں ہنوز کوئی ٹھوس اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT