Tuesday , December 19 2017
Home / ہندوستان / انڈین مجاہدین کے 5 ارکان کو سزائے موت

انڈین مجاہدین کے 5 ارکان کو سزائے موت

یٰسین بھٹکل بھی شامل‘  دلسکھ نگر بم دھماکے کیس میں خصوصی این آئی اے عدالت کا فیصلہ

حیدرآباد۔ 19 ڈسمبر (سیاست نیوز) دلسکھ نگر جڑواں بم دھماکے کیس میں انڈین مجاہدین کے 5 ارکان جنہیں عدالت نے گزشتہ ہفتہ مجرم قرار دیا تھا ، آج سزائے موت کا حکم دیا۔ نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی خصوصی عدالت نے چرلہ پلی جیل کے احاطہ میں آج یہ فیصلہ سنایا۔ 21 فروری 2013ء کو شہر کے مصروف ترین علاقہ دلسکھ نگر میں پیش آئے جڑواں بم دھماکوں میں 21 افراد ہلاک اور 131 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ این آئی اے نے اس کیس میں ملوث انڈین مجاہدین کے پانچ ارکان ظرار احمد سدی بپا عرف یٰسین بھٹکل اور اس کے پانچ ساتھی اسد اللہ اختر عرف ہڈی، ضیاء الرحمن عرف وقاص (پاکستانی شہری)، محمد تحسین اختر عرف مونو، اعجاز شیخ کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف این آئی اے کی خصوصی عدالت میں چارج شیٹ داخل کی تھی جس کے نتیجہ میں 13 ڈسمبر کو مذکورہ بالا ملزمین کو عدالت نے قصوروار پائے جانے پر انہیں مجرم قرار دیا تھا اور آج سزا کا حکم دیا۔بم دھماکوں کے اصل ماسٹر مائنڈ محمد ریاض ریاض بھٹکل کو مفرور قرار دیا ۔ ابتداء میں کیس کی سماعت کو رنگاریڈی کورٹ واقع کتہ پیٹ میں چلایا گیا لیکن یسین بھٹکل کی جانب سے عدالت سے فرار ہونے کے خدشہ اور دیگر انٹلیجنس انپٹس کے پیش نظر مقدمہ کی سماعت کو احاطہ چرلہ پلی جیل میں چلانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس کیس میں جملہ 157 گواہوں کا معائنہ کیا گیا ۔ آج صبح ہی سے چرلہ پلی سنٹرل جیل کے قریب پولیس نے سکیورٹی کے وسیع انتظامات کئے تھے اور شام 4:45 بجے خصوصی عدالت نے اپنا تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے پانچوں مجرمین کو سزائے موت کا حکم دیا۔ سزا کے اعلان کے موقع پر احاطہ عدالت میں نہ ہی وکیل دفاع موجود تھے اور نہ ہی مجرمین کے ارکان خاندان۔ این آئی اے کے پبلک پراسیکیوٹر سریندر نے آج عدالت میں اپنا استدلال پیش کرتے ہوئے انڈین مجاہدین کے ارکان کو سزائے موت دینے کی درخواست کی تھی جس کے نتیجہ میں اسپیشل جج نے عدالت میں موجود انڈین مجاہدین کے پانچوں ارکان کو اپنے دفاع میں کہنے کا موقع دیا، لیکن پانچوں نے کوئی بھی سزا قبول کرنے کی بات کہی۔اس واقعہ سے متعلق دو علحدہ مقدمات سرورنگر اور ملک پیٹ پولیس اسٹیشنس میں درج کئے گئے تھے لیکن مرکزی وزارت داخلہ کے احکام کے بعد بم دھماکوں کیس کے تحقیقات کو قومی تحقیقاتی ایجنسی کے حوالے کردیا گیا تھا ۔ این آئی اے نے اگست سال 2013 میں بم دھماکوں کیس کے دو کلیدی ملزمین و انڈین مجاہدین کے اہم ارکان یٰسین بھٹکل اور اسدالاختر کو نیپال ہند سرحد پر گرفتار کرلیا گیا تھا ۔ بعد ازاں تحقیقاتی ایجنسی نے بہار کے تحسین اختر پاکستانی شہری وقاص اور مہاراشٹرا کے عزیز شیخ کو گرفتار کرتے ہوئے انہیں حیدرآباد کی این آئی اے کی خصوصی عدالت میں پیش کیا تھا ۔ واضح رہے کہ عدالت نے 13 ڈسمبر کو انڈین مجاہدین کے ارکان کو قتل، مجرمانہ سازش، ایکسپولوزو ایکٹ، انسداد غیرقانونی سرگرمیاں، ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے اور غداری جیسے سنگین دفعات کے تحت قصوروار پایا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ نچلی عدالت کے فیصلہ کے خلاف سزا یافتہ مجرمانہ حیدرآباد ہائیکورٹ میں اپیل کریں گے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اندرون ملک تیار ہونے والے گروپ ’’انڈین مجاہدین‘‘ کو دہشت گردی کے مقدمہ میں مجرم قرار دیا گیا۔ جج ٹی سرینواس راؤ نے فیصلہ سناتے ہوئے اسے اپنی نوعیت کا ایک منفرد مقدمہ قرار دیا۔ این آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر کے سریندر نے کہا کہ عدالت نے تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد پایا کہ مقدمہ حقائق پر مبنی ہے۔ استغاثہ نے فیصلہ کو این آئی اے تحقیقات اور گواہوں کی فتح قرار دیا۔ این آئی اے کے بموجب تحقیقات کے دوران 440 عینی گواہوں سے پوچھ تاچھ کی گئی اور 251 دستاویزات اور 300 مختلف نوعیت کی اشیاء ضبط کی گئیں۔ سائبر فارنسک شواہد بھی جمع کرکے محفوظ کئے گئے۔

TOPPOPULARRECENT