Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / انکاؤنٹرس کے خلاف نکسلائٹ قیدیوں کی بھوک ہڑتال

انکاؤنٹرس کے خلاف نکسلائٹ قیدیوں کی بھوک ہڑتال

آندھرا و تلنگانہ حکومتوں پرانکاؤنٹرس میں سبقت کی کوشش کا الزام

آندھرا و تلنگانہ حکومتوں پرانکاؤنٹرس میں سبقت کی کوشش کا الزام
حیدرآباد۔13اپریل ( سیاست نیوز) دونوں ریاستوں میں پیش آئے انکاؤنٹرس کے خلاف سیاسی قیدیوں نے احتجاج کا آغاز کردیا ہے ۔دونوں ریاستوں کی مختلف جیلوں میں قید ماؤسٹ سیاسی قیدیوں نے 15اپریل کو جیلوں میں بھوک ہڑتال منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس خصوص میں کمیٹی فار دی ریلیز آف پولیٹیکل پرنینرس ( سی آر پی پی ) کمیٹی برائے رہائی سیاسی قیدیاں‘ نے بتایا کہ 15اپریل کو دونوں ریاستوں کی مختلف جیلوں میں انکاؤنٹرس کے بعد یہ پہلا واقعہ ہے جہاں پر سرعام احتجاج اور بڑے پیمانے پر ان انکاؤنٹرس کی مخالفت کی جارہی ہے ۔ اس سلسلہ میں صدر سی آر پی پی مسٹر بوجا تارگم اور جنرل سکریٹری بی رویندر ناتھ نے بتایا کہ بھوک ہڑتال جاری رہے گی ۔ انہوں نے انکاؤنٹرس میں شامل پولیس والوں کے خلاف قتل کا مقدمہ دائر کرنے اور سزا دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ دونوں ریاستوں کے انکاؤنٹرس کی سپریم کورٹ جج کے ذریعہ آزادانہ تحقیقات کروائی جائے اور ان دو مقامات پر پیش آئے ان انکاؤنٹرس کی ذمہ داری حکومتوں کو قبول کرتے ہوئے حکومتوں کو عوام سے برسرعام معافی مانگنی چاہیئے ۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ریاستوں کی عوام کی خاموشی ہی حکومتوں کی حوصلہ افزائی کا سبب بن رہی ہے ۔ اقتدار میں آنے کے دو دن بعد نلاملا میں چندرا بابو نے تلاشی کے نام پر معصوم گریجن عوام کا خون بہایا تو کے سی آر ان کے نقش قدم پر تلاشی کے نام پر انکاؤنٹرس انجام دے رہے ہیں ۔ ترقی اور ترقیاتی وعدوں کی تکمیل میں سبقت لے جانے کے بجائے قتل کی سیاست پر سبقت لے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سرخ صندل کی اسمگلنگ کے نام پر مزدوروں اوریہاں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پیروں میں بیڑیاں ڈالے ہوئے وقات اور اس کے ساتھیوں کو ہلاک کردیا گیا ۔ انہوں نے دونوں حکومتوں پر ظلم کی قیاست پر عمل پیرا ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ شیشاچلم اور ورنگل انکاؤنٹرس اس کی مثال ہے ۔ سی آر پی پی نے ریاست کی عوام بالخصوص سماجی اور حقوق انسانی کیلئے سرگرم تمام تنظیموں کے نمائندوں اور عوام الناس سے درخواست کی کہ وہ سیاسی قیدیوں کی اس بھوک ہڑتال اور احتجاج کو کامیاب بنائیں اور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے حکومتوں کے رویہ کے خلاف احتجاج کی آواز بلند کریں ۔

TOPPOPULARRECENT