Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / !انکاؤنٹر میں مصلحت پسندی کیلئے انعام

!انکاؤنٹر میں مصلحت پسندی کیلئے انعام

حیدرآباد۔ 20 اپریل (سیاست نیوز) پانچ مسلم نوجوانوں کے انکاؤنٹر کے پیدا شدہ صورتِ حال سے فائدہ حاصل کرنے کیلئے سیاسی مصلحت پسندی کا آغاز ہوچکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے نامزد عہدوں پر سیاسی قائدین کی نامزدگیوں کے متعلق قطعیت دیئے جانے کا عمل شروع ہوچکا ہے اور تلنگانہ راشٹر سمیتی کی حلیف جماعت کے دو قائدین کو نامزد عہدوں پ

حیدرآباد۔ 20 اپریل (سیاست نیوز) پانچ مسلم نوجوانوں کے انکاؤنٹر کے پیدا شدہ صورتِ حال سے فائدہ حاصل کرنے کیلئے سیاسی مصلحت پسندی کا آغاز ہوچکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے نامزد عہدوں پر سیاسی قائدین کی نامزدگیوں کے متعلق قطعیت دیئے جانے کا عمل شروع ہوچکا ہے اور تلنگانہ راشٹر سمیتی کی حلیف جماعت کے دو قائدین کو نامزد عہدوں پر فائز کئے جانے کا امکان نظر آرہا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی حکومت کو کسی تائید کی ضرورت نہیں ہے لیکن حکومت کے طاقتور موقف کے پیش نظر سیاسی حلیف کے طور پر خود کو پیش کرنے والی جماعت کے قائدین پانچ مسلم نوجوانوں کے انکاؤنٹر کے بعد اب معاملہ فہمی کی پالیسی اختیار کرنے لگے ہیں۔ تلنگانہ میں مسلم نوجوانوں کو نشانہ نہ بنائے جانے کے تیقن اور متعدد مرتبہ پولیس ہراسانی سے محفوظ رکھنے کے اعلانات کے بعد ریاست کے مسلمانوں نے علیحدہ ریاست کی حمایت کی تھی لیکن 7 اپریل کو ہوئے انکاؤنٹر میں 5 نوجوانوں کی ہلاکت نے ریاست کے تمام مذہبی و سیاسی قائدین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے، اور سیاسی سطح پر شدید احتجاج سے گریز کئے جانے کے بعد اب تمام مسلم تنظیمیں اس مسئلہ پر اپنے مکاتب فکر کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہونے لگی ہیں، لیکن دوسری جانب سیاسی طور پر مستحکم تصور کی جانے والی جماعت کے قائدین نامزد عہدوں پر اپنے پسندیدہ افراد کو فائز کروانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک صاحب کوئی انجینئر ہیں تو دوسرے خیریت آباد حلقہ سے ٹکٹ حاصل کرنے میں ناکام ہوئے تھے ۔ ریاست کی تاریخ میں ہوئے سب سے بڑے انکاؤنٹر پر نہ صرف تنظیموں کے ذمہ داران میں تفکرات پائے جاتے ہیں بلکہ ریاست کے عوام بھی اس صورتحال سے خوفزدہ ہوتے جارہے ہیں۔ مسلمانوں میں پھیل رہی اس بے چینی کی کیفیت کو دُور کرنے کی ملی، مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے لیکن ذمہ داریوںکو پورا کرنے کے متعلق عدم سنجیدگی کے رجحان پر عوام میں شدید برہمی پائی جارہی ہے۔ عوام جوکہ پولیس کی اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے برہمی کا اظہار کررہے ہیں، وہیں سیاسی قوت کا استعمال کرتے ہوئے اس فرضی انکاؤنٹر کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کے آغاز میں ناکامی پر بھی برہمی ظاہر کی جارہی ہے۔ 13 دن گزرنے کے باوجود حکومت کی جانب سے مسلم تنظیموں و سیاسی جماعت کے مطالبات کی عدم یکسوئی پر بھی اختیار کردہ خاموشی مختلف شبہات پیدا کرنے کیلئے کافی نظر آرہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT