Wednesday , December 12 2018

انکاؤنٹر کی جگہ عام شہریوں کی آمد کے جوکھم کے وہ خود ذمہ دار: ایس پی وید

جموں ۔ 12 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) انکاؤنٹر کے مقامات پر ہجوم کی شکل میں جانے والے شہری ان کی اموات کیلئے ذمہ دار ہیں کیونکہ گولیاں، پتھر پھینکنے والے اور جنگجو کے درمیان امتیاز نہیں کرتی ہیں۔ جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ ایس پی وید نے آج یہ بات کہی اور ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا کہ نوجوان اس طرح کے مقامات سے دور رہیں کیونکہ وہ کوئی شادی کے مقامات نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شہریوں کی اموات نہیں چاہتا ہے۔ پولیس اور سیکوریٹی فورسیس کو اس طرح کے واقعات پر دکھ ہوتا ہے۔ مسٹر وید نے آج ایک راست ٹوئیٹر سوال۔ جواب سیشن میں کہا کہ ہم نوجوان لڑکوں سے اپیل کررہے ہیں کہ وہ انکاؤنٹر کے مقامات سے دور رہیں۔ گولی، پتھر پھینکنے والے اور جنگجو کے درمیان امتیاز نہیں کرتی۔ اس کا کام بس مارنا ہوتا ہے۔ اس لئے نوجوان خواہ ان کی اموات کیلئے ذمہ دار ہوتے ہیں انہیں انکاؤنٹر سائیٹس پر نہیں آنا چاہئے۔ وہ بندوق کی لڑائیوں میں شہریوں کی اموات کے بارے میں ایک سوال کا جواب جواب دے رہے تھے۔ سینئر عہدیدار نے یہ سخت الفاظ ضلع کلگام میں ایک انکاؤنٹر میں فائرنگ کے تبادلہ میں چار شہریوں کی ہلاکت کے ایک دن بعد کہے۔ اس واقعہ میں ڈیوٹی انجام دینے والے ایک فوجی کی بھی ہلاکت ہوئی جبکہ تین انتہاء پسند شہریوں کی اموات میں اضافہ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ڈی جی پی وید نے کہا کہ ہندوستان کا کوئی شہری کسی شہری ہلاکتوں کو نہیں چاہے گا۔ ہم بار بار عوام سے خواہش کررہے ہیں کہ وہ اس وقت انکاؤنٹر مقامات کے قریب نہ آئیں جب انتہاء پسندوں یا فوج یا پولیس کی جانب سے گولیاں چلائی جارہی ہوں۔ وہ کسی خاص شخص کے سینے کو نہیں دیکھیں گے۔ وہ کسی کو بھی مار سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT