Friday , June 22 2018
Home / شہر کی خبریں / انکاونٹر واقعہ پر رائے زنی سے ٹی آر ایس کے مسلم قائدین کا گریز

انکاونٹر واقعہ پر رائے زنی سے ٹی آر ایس کے مسلم قائدین کا گریز

اقلیتوں کی تائید سے اقتدار حاصل کرنے والی پارٹی سے مسلمانوں کی اکثریت ناراض

اقلیتوں کی تائید سے اقتدار حاصل کرنے والی پارٹی سے مسلمانوں کی اکثریت ناراض
حیدرآباد۔/14اپریل، ( سیاست نیوز) نلگنڈہ کے آلیر میں 7اپریل کو 5مسلم نوجوانوں کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے واقعہ نے ایک طرف حکومت کے بارے میں اقلیتوں میں ناراضگی کا رجحان پیدا کیا ہے تو دوسری طرف پارٹی سے تعلق رکھنے والے اقلیتی قائدین بھی اس مسئلہ پر حکومت کے موقف سے مطمئن نہیں تاہم وہ کھل کر اس کا اظہار کرنے سے قاصر ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر اور ان کے قریبی ذرائع نے پارٹی اور حکومت میں شامل اقلیتی قائدین کو پابند کیا ہے کہ وہ آلیر میں مسلم نوجوانوں کی ہلاکت کے مسئلہ پر اخباری بیانات اور میڈیا میں رائے زنی سے گریز کریں۔ اس پابندی کے بعد سے ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والے قائدین میڈیا سے دور بھاگ رہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی بھی متعلقہ محکمہ کے وزیر ہونے کے باوجود اس واقعہ پر تبصرہ سے گریز کررہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آلیر واقعہ کے سلسلہ میں حکومت کی سطح پر جو بھی حکمت عملی طئے کی جارہی ہے اس میں چیف منسٹر نے وزیر داخلہ کو بھی شامل نہیں کیا ہے اسی طرح کابینہ میں اقلیتوں کے نمائندے کی حیثیت سے شامل کئے گئے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ چیف منسٹر اور ان کے قریبی افراد کا احساس ہے کہ اس مسئلہ پر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کی ناراضگی بھی ختم ہوجائے گی لہذا قائدین کو بیان بازی سے گریز کرنا چاہیئے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت اس واقعہ کے سلسلہ میں پولیس کے موقف کی مکمل تائید کررہی ہے اور برسراقتدار پارٹی کو اس بات کی پرواہ نہیں کہ اقلیتوں کی تائید کے سبب ہی وہ اقتدار میں آئی ہے۔ پارٹی سے تعلق رکھنے والے کئی اقلیتی قائدین اپنی ناراضگی کا آپس میں تو اظہار کررہے ہیں لیکن کسی کی ہمت نہیں کہ وہ کھل کر تبصرہ کریں۔ حتیٰ کہ اقلیتی قائدین چیف منسٹر کے قریبی رفقاء سے بھی اس سلسلہ میں نمائندگی کے بارے میں سوچ نہیں سکتے۔ بعض اقلیتی قائدین نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ مسلم نوجوانوں کی ہلاکتوں کے واقعہ کے سلسلہ میں حکومت کو پولیس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اقلیتوں میں اعتماد پیدا کرنا چاہیئے تھا۔ اقلیتی قائدین حکومت کی جانب سے پولیس عہدیداروں پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل سے بھی مطمئن نہیں ہیں کیونکہ تحقیقاتی ٹیم میں شامل عہدیدار اپنے ہی محکمہ کے خلاف رپورٹ پیش کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ پر اقلیتوں میں اعتماد بحال کرنے کیلئے ڈپٹی چیف منسٹر کی ذمہ داری تھی کہ وہ پارٹی کے دیگر سینئر قائدین کے ساتھ چیف منسٹر سے نمائندگی کرتے اور مہلوک نوجوانوں کے خاندانوں کیلئے حکومت کی جانب سے ایکس گریشیا کا اعلان کرتے لیکن خود ڈپٹی چیف منسٹر نے ابھی تک اس واقعہ پر تبصرہ نہیں کیا۔پارٹی اقلیتی قائدین کا احساس ہے کہ اس واقعہ اور مسلمانوں کی ناراضگی کا خمیازہ ٹی آر ایس کو گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے مجوزہ انتخابات میں بھگتنا پڑے گا۔ آلیر واقعہ کے سلسلہ میں حکومت کے جانبدارانہ موقف کے سبب حکومت اور پارٹی سے تعلق رکھنے والے قائدین مسلمانوں کا سامنا کرنے سے بچ رہے ہیں اور جہاں بھی وہ محافل میں شریک ہوں انہیں عوامی برہمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ ٹی آر ایس کے ایسے قائدین جو خود کو اقلیتوں کا نمائندہ ظاہر کرتے ہیں وہ اس واقعہ پر خاموش ہیں لیکن سرکاری عہدوں کے حصول کیلئے ابھی بھی مختلف اعلیٰ قائدین اور وزراء کے پاس اپنی پیروی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان قائدین کو مسلمانوں کی ناراضگی سے زیادہ سرکاری عہدوں کی فکر ہے۔

TOPPOPULARRECENT