Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / انکاؤنٹر مسئلہ پر چیف منسٹر کے سی آر کو مستعفی ہونے کا مشورہ

انکاؤنٹر مسئلہ پر چیف منسٹر کے سی آر کو مستعفی ہونے کا مشورہ

غیر جانبدارانہ تحقیقات میں حکومت کا پس و پیش، سیول لبرٹیز مانیٹرنگ کمیٹی کی رپورٹ

غیر جانبدارانہ تحقیقات میں حکومت کا پس و پیش، سیول لبرٹیز مانیٹرنگ کمیٹی کی رپورٹ
حیدرآباد۔19اپریل ( سیاست نیوز) آلیر پولیس انکاؤنٹر معاملہ سے نمٹنے میں مسلم قیادت ناکام ہوچکی ہے ۔ مسلم نوجوانوں پر ہورہے مظالم کے معاملات میں قائدین صرف بیان بازی کرتے ہوئے اپنا دامن جھاڑنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ پانچ مسلم نوجوانوں کی عدالتی تحویل میں موت ایک منصوبہ بند سازش ہے اور اس معاملہ کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی کوئی توقع نظر نہیں آرہی ہے چونکہ آلیر پولیس عہدیدار اس معاملہ میں متوفی نوجوانوں کے رشتہ داروں کو گمراہ کرتے ہوئے معاملہ کو رفع دفع کرنے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ اسی طرح ادئے بھاسکر نامی ریزرو سب انسپکٹر ورنگل اور دیگر 16پولیس اہلکاروں کو محکمہ پولیس بچانے کی کوشش میں نظر آرہا ہے ۔ سیول لیبرٹیز مانیٹرنگ کمیٹی کے وفد نے انکاؤنٹر کے مقام کا معائنہ کرتے ہوئے اپنی حقائق و تحقیق پر مبنی رپورٹ میں ان باتوں کا تذکرہ کیا ہے ۔ جناب لطیف محمد خان ‘ ڈی سریش کمار ایڈوکیٹ ‘ مسٹر اے سرینواس ‘ محترمہ کنیز فاطمہ ‘ منداکنی ایڈوکیٹ ‘ کرشنا ایڈوکیٹ ‘ اسمعیل خان ایڈوکیٹ کے علاوہ کے ایس چرن پر مشتمل وفد نے جائے واردات کا معائنہ کرتے ہوئے جو تفصیلات اکٹھا کی ہیں اُن کے مطابق کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ پانچوں نوجوانوں کو عدالتی تحویل میں منصوبہ بند انداز سے قتل کیا گیا ہے ۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اسے منصوبہ بند سیاسی قتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قتل کے ذریعہ مسلم معاشرہ کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اُن کی زندگی پولیس کے رحم و کرم پر ہے۔ کمیٹی نے پولیس کی جانب سے دیئے جانے والے بیانات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عہدیداروں و سیاسی قائدین کی ایماء پر ہی یہ کارروائی ہوئی ہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ مہلوک نوجوانوں کے پوسٹ مارٹم میں قومی انسانی حقوق کمیشن کے رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری نہیں کی گئی بلکہ ضابطہ کی کارروائی کی تکمیل کے نام پر پوسٹ مارٹم انجام دیا گیا ۔ سیول لبرٹیز کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں ذرائع ابلاغ اداروں کی جانب سے چلائی جانے والی کہانیوں پر بھی حیرت کااظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ذرائع ابلاغ ادارے غیر ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کے مرتکب بنتے جارہے ہیں ۔ علاوہ ازیں سیاسی جماعتوں نے جو شیشاچلم انکاؤنٹر کی مذمت کی وہی آلیر انکاؤنٹر معاملہ میں مذمت اور خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے مطالبہ سے بھی خود کو دور رکھے ہوئے ہیں ۔ کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ چیف منسٹر اس معاملہ کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری طور پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے اقدامات کرے یا پھر اپنے عہدہ سے مستعفی ہوجائیں ۔ تمام خاطی پولیس اہلکاروں کو فوری معطل کرتے ہوئے عدالتی تحقیقات کے احکام جاری کئے جائیں ۔

TOPPOPULARRECENT