Tuesday , April 24 2018
Home / Top Stories / انکاؤنٹر میں ہلاک تلنگانہ کا نوجوان سرقہ کی چار وارداتوں میں ملوث

انکاؤنٹر میں ہلاک تلنگانہ کا نوجوان سرقہ کی چار وارداتوں میں ملوث

۔2پولیس کانسٹبلس نے سرقہ میں ساتھ دیا ، تفریح کیلئے کشمیر جاکر عسکریت پسندوں سے متاثر

ایس ایم بلال
حیدرآباد ۔ /15 مارچ ۔جموں و کشمیر میں سکیورٹی فورسیس اور دہشت گردوں کے درمیان ہوئے انکاؤنٹر میں ہلاک ہونے والا تلنگانہ کا نوجوان محمد توفیق ضلع کھمم بھدرادری ( اسوہ پورم) میں چار سرقہ کی وارداتوں میں ملوث تھا اور یہ وارداتیں اس نے سی آئی ایس ایف کے دو کانسٹبلس پورنا چندر راؤ اور انیل کمار کی مدد سے انجام دیئے ۔ لیکن ان مقدمات میں وہ بری ہوچکا تھا ۔ محمد توفیق کی انکاؤنٹر میں ہلاکت کے ریاستی انٹلیجنس کے ایک ٹیم نوجوان کی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے متعلق مزید تفصیلات حاصل کرنے کیلئے جموں و کشمیر روانہ ہوچکی ہے ۔ تحقیقات میں یہ معلوم ہوا ہے کہ محمد توفیق سال 2007 ء میں ضلع کھمم بھدرا دری کے اسواپورم ضلع میں 7 سرقہ کی وارداتوں میں ملوث تھا اور /18 ڈسمبر سال 2009 ء کو تمام مقدمات میں اس نے برأت حاصل کرلی تھی ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ سال 2007 ء میں اس نے ایم پی سی گروپ میں انٹرمیڈیٹ میں داخلہ حاصل کئے تھا ۔ لیکن سرقوں کی وارداتوں میں ملوث ہونے پر اسے کالج سے نکال دیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں اس نے بھدردری میں واقع ایک مدرسہ میں دوماہ تک قیام کیا ۔ بعد ازاں محمد توفیق کے ماموں محمد حاجی شریف نے اسے چندر گنڈہ منتقل کیا جہاں پر اس نے اپنی آبائی اراضی پر زراعت کرتے ہوئے پالی ٹیکنک میں داخلے کیلئے پالی سیٹ کی تیاری کی ۔ سال 2008 ء میں محمد توفیق نے ونپرتی کے کے ڈی آر گورنمنٹ پالی ٹیکنک کالج میں داخلہ لیا ۔ دو سال کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد وہ اپنے چچا زاد بھائی فیاض کے ہمراہ کالج آیا جایا کرتا تھا ۔ سال 2011 ء میں توفیق نے بیک لاگ امتحانات مکمل کرنے کے بعد پالی ٹیکنک کا ڈپلومہ حاصل کیا اور دوبارہ اپنے آبائی مقام اسوہ پورم واپس لوٹ آیا ۔ سال 2012 ء میں محمد توفیق نے اپنے افراد خاندان کے ہمراہ تفریح کیلئے جموں و کشمیر کیلئے گیا ۔ اس ٹور میں محمد توفیق کے والد کا دوست کرشنا بھی شامل تھا ۔ سرینگر اور کشمیر کے مختلف علاقوں میں محمد توفیق نے ہندوستان اور کشمیر کے خلاف تحریر کردہ پوسٹرس دیکھے اور اس سلسلے میں تفصلات حاصل کرنے کے بعد وہ سوشیل نیٹ ورکنگ ویب سائیٹ فیس بک پر اپنے موبائل نمبر 8099063012 کے ذریعہ اکاؤنٹ کھولا اور کشمیر کے حق میں کئی افراد سے رابطہ قائم کیا اور بعد ازاں وہ کشمیر میں جہاد کیلئے انصاری غزوۃ الہند میں شمولیت اختیار کی اور یہ تنظیم داعش کی حامی بتائی جاتی ہے ۔ ریاستی پولیس اس نوجوان کے مزید تفصیلات حاصل کررہی ہے ۔ واضح رہے کہ 12 مارچ کو اننت ناگ کے علاقہ ہکورا میں سکیورٹی فورسیس کی فائرنگ اور مقامی کشمیری عسکریت پسندوں کیساتھ یہ نوجوان بھی ہلاک ہوا تھا اور بارہمولہ میں اس کی تدفین عمل میں لائی گئی۔

TOPPOPULARRECENT